خدا کے یہاں اس کی بھاری سزا ہے
احمد وکیل علیمی
دوردرشن کولکاتا
ہے دوشیزگی آج خطرے میں ان کی
محبت سرایت ہے فطرت میں جن کی
دکانِ ہوس میں بِکے گی محبّت
محبّت اٹھائے گی کب تک یہ خِفّت
یہ یومِ محبت بہت غم فزا ہے
خدا کے یہاں اس کی بھاری سزا ہے
محبّت بنی شربتِ وصل اب تو
سبھی کچھ ہُوا عقد سے قبل اب تو
محافظ بنیں اپنی عصمت کی عورت
جو لُٹ جاتی ہیں ان سے لیں اب وہ عبرت
جو ہوتی ہیں بے راہ رو لڑکیاں سب
کھُلی رکھتی ہیں آنکھوں کی کھڑکیاں سب
سمجھ بنت حوّا کو بھی آئے مولا
ترا ڈر دِلوں میں سما جائے مولا
Leave a Reply