rki.news
شازیہ عالم شازی۔ کراچی پاکستان
اقوامِ متحدہ کے تحت ہر سال 24 جنوری کو تعلیم کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کے منانے کا بنیادی مقصد عالمی برادری کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ تعلیم محض انفرادی ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ اقوام کی فکری، سماجی اور اخلاقی تشکیل کی بنیاد ہے۔ تعلیم وہ واحد طاقت ہے جو غربت، جہالت، انتہاپسندی، صنفی امتیاز اور سماجی ناہمواری کے خلاف مؤثر ترین ہتھیار بن سکتی ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ جس قدر تعلیم کی اہمیت پر زور دیا جاتا ہے، عملی دنیا میں اسی قدر اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ جن معاشروں میں تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے تھی، وہی آج تعلیمی زوال کا شکار ہیں۔ بالخصوص مسلم اور ایشیائی معاشرے اس تضاد کی واضح مثال بن چکے ہیں۔
دیگر ایشیائی ممالک، بالخصوص جنوبی ایشیا، میں بھی تعلیم کی صورتحال زیادہ مختلف نہیں۔ بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور افغانستان جیسے ممالک میں غربت، آبادی کا بے ہنگم پھیلاؤ، سیاسی عدم استحکام اور سماجی روایات تعلیم کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ کئی معاشروں میں بچیوں کی تعلیم کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے، جبکہ لاکھوں بچے کم عمری میں مزدوری پر مجبور ہیں۔ یہ محرومیاں صرف معاشی نہیں بلکہ فکری غلامی کو جنم دیتی ہیں، جو قوموں کو ترقی کی دوڑ سے ہمیشہ پیچھے رکھتی ہیں۔
اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تعلیم کی اہمیت کو مذہبِ اسلام کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ ہمارا دینی فریضہ بھی ہے۔ اسلام کی پہلی وحی ہی لفظ “اقرأ” سے نازل ہوئی، جو اس بات کا اعلان ہے کہ علم اسلام کی اساس ہے۔ قرآنِ کریم بار بار غور و فکر، تدبر، شعور اور علم کی دعوت دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے”۔
یہ تعلیم صرف دینی علوم تک محدود نہیں بلکہ وہ تمام علوم شامل ہیں جو انسان اور معاشرے کی فلاح کا سبب بنیں۔
اسلام نے ایسے دور میں علم کو عزت دی جب جہالت فخر سمجھی جاتی تھی۔ مسجد نبویؐ علم کا مرکز تھی، جہاں تعلیم، تربیت اور کردار سازی بیک وقت ہوتی تھی۔ مسلمان تاریخ کے وہ سنہری ادوار بغداد، قرطبہ، دمشق اور قاہرہ کی درس گاہیں اس بات کے گواہ ہیں کہ جب علم کو عبادت کا درجہ دیا گیا تو دنیا نے مسلمانوں کو رہنما کے طور پر تسلیم کیا۔ افسوس کہ آج ہم اسی دین کے ماننے والے ہو کر علم سے سب سے زیادہ دور نظر آتے ہیں۔
پاکستان اور دیگر ایشیائی مسلم ممالک میں کروڑوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، بچیوں کی تعلیم کو آج بھی بعض علاقوں میں معیوب سمجھا جاتا ہے، جبکہ چائلڈ لیبر نے علم کے دروازے بند کر رکھے ہیں۔ یہ سب کچھ ایسے معاشروں میں ہو رہا ہے جو خود کو اسلامی اقدار کا علمبردار کہتے ہیں، مگر تعلیم جیسے بنیادی اسلامی حکم سے عملاً غافل ہیں۔
سرکاری تعلیمی اداروں کی ناگفتہ بہ حالت، ناقص نصاب اور تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی نے علم کو بے روح کر دیا ہے۔ دوسری طرف نجی اداروں نے تعلیم کو محض کاروبار بنا دیا ہے، جس سے طبقاتی تفریق مزید گہری ہو گئی ہے۔ اسلام جس مساوات، عدل اور علم کی بات کرتا ہے، ہمارا تعلیمی نظام اس کے برعکس امتیاز اور ناہمواری کو فروغ دے رہا ہے۔
اسلامی تعلیم کا مقصد صرف روزگار کا حصول نہیں بلکہ انسان کی مکمل تعمیر ہے جس میں اخلاق، برداشت، عدل، دیانت اور ذمہ داری شامل ہیں۔ مگر ہمارا موجودہ نظام تعلیم نہ اسلامی روح کا امین ہے اور نہ ہی جدید تقاضوں کا۔ نتیجہ یہ ہے کہ ڈگری یافتہ افراد تو پیدا ہو رہے ہیں، مگر باکردار، باشعور اور باعمل انسان کم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہی فکری خلا معاشرتی انتشار، تشدد اور عدم برداشت کو جنم دیتا ہے۔
تعلیم کے عالمی دن کے موقع پر ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ کیا ہم نے بطور مسلم پاکستانی تعلیم کو وہ مقام دیا ہے جو ہمارے مذہب اسلام نے متعین کیا ہے؟ کیا ہم نے علم کو عبادت، اور استاد کو رہنما سمجھا؟ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم تعلیم کو قومی ہی نہیں بلکہ دینی فریضہ بھی بنائیں۔
آخر میں یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ قومیں محض نعروں، عمارتوں یا اسلحے سے نہیں بنتیں، بلکہ تعلیم سے تشکیل پاتی ہیں۔ اگر ہم نے آج تعلیم کو اپنی قومی ترجیحات میں اولین مقام نہ دیا تو آنے والی نسلیں ہمیں ہماری غفلت اور کوتاہی پر کبھی معاف نہیں کریں گی۔ 24 جنوری ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تعلیم کوئی اضافی سہولت نہیں، بلکہ ایک زندہ قوم کی بقا اور ترقی کی بنیادی شرط ہے بطور مسلم ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ تعلیم کوئی مغربی تصور نہیں بلکہ ہماری دینی میراث بھی ہے۔ اگر ہم نے علم کو دوبارہ اپنی زندگی، مسجد، مدرسہ اور ریاست کے مرکز میں نہ لائے تو ہم نہ دنیا میں سرخرو ہو سکیں گے اور نہ ہی اپنے دین کے تقاضے پورے کر پائیں گے۔ تعلیم ہی بقا ہے، اور اسلام اسی بقا کا سب سے مضبوط ستون ہے۔۔
#followersreelsfypシ゚viralシfypシ゚viralシalシ
#تعلیم_کا_عالمی_دن
#تعلیم_ہی_بقا
#اسلام_اور_تعلیم
#تعلیمی_زوال
#قوموں_کی_تعمیر
#بچیوں_کی_تعلیم
#PakistanEducation
#ShaziaAlamShazi
#WorldEducationDay
#EducationMatters
#24January
#Ilm
#Iqra
#EducationForFuture
#GirlsEducation
#LearnToLead
#Pakistan
#ShaziaWrites
Leave a Reply