دل ٹکڑے ٹکڑے کر کےبکھیر رہا ہوں میں
ترے ہجر کی غم کشی میں بڑی دیر رہا ہوں میں
نہیں ملتا کوئی سکوں بھی شب و روز مجھے
اب تھک کے زندگی سے منہ پھیر رہا ہوں میں
آنکھوں میں خواب ہی ہوتے ہیں تو کبھی یہ بھی نہیں
اس کیفیت میں زبر کبھی زیر رہاہوں میں
تیرے دیدار کی اتنی ہے دل میں تمنا جاں
اس آرزو میں ہی غم کا ڈھیر رہا ہوں میں
یہ دل کہتا ہے وکاس وہ لوٹ ہی آئے گا
یہ بات لئے اک عرصہ دلیر رہاہوں میں
وقاص علی وکاس
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 18262
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Categories| Ad | wp_the_query |
|---|
| 8,21,3 | post_id: 18262 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Leave a Reply