*شاعرہ: پارس کیانی*
یہ اب کے آیا ہے سال کیسا
کہو تو دل میں، ملال کیسا
تمہارے آگے ہوئی ہے ارزاں
یہ جاہ کیسی، جلال کیسا
میں بچتے بچتے اُلجھ گئی ہوں
بچھایا تم نے، یہ جال کیسا
وہ آئے کب اور جُدا ہوئے کب
تھا ہجر کیسا، وصال کیسا
میں مر چکا ہوں تو میرے یارو!
زمیں پہ اب یہ، وبال کیسا
ادھر تو حافظ مقیم ہیں سب
توکون کافر، دجال کیسا
وہ چاہتیں بھی مِٹی ہیں کیسے
پڑا ہے اب کے، یہ کال کیسا
تمہاری چاہت نہ تھی ہماری
تو حزن کیسا، ملال کیسا
وہ آ کے پارس چلا گیا ہے
تو خواب کیسا، خیال کیسا
🌸🌸🌸🌸🌸
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 18928
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Categories| Ad | wp_the_query |
|---|
| 8,21,3 | post_id: 18928 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Leave a Reply