منظر بدلتا دیکھ کے حیرت ہو کیا مجھے
پھر جائیں گے وہ قول سے معلوم تھا مجھے
کیسے نہ دوستوں کا کہوں دل سے شکریہ
نقصان سے ہوا ہے بہت فائدہ مجھے
آ دیکھ لہلہاتے نرالے غزل درخت
راس آئی کیسی ہجر کی آب و ہوا مجھے
شاید بدلتی رُت تجھے چلنے سے روک دے
شاید نہ واپسی کا ملے راستہ مجھے
لینا تھا درگزر کی ہی نظروں سے مجھ کو کام
رکھنی تھی چشمِ فہم و صداقت بھی وا مجھے
تنہا دیا نہیں میں دیے کا ہوں سلسلہ
کم ظرف تیری پھونک بجھائے گی کیا مجھے
لکھتا تھا جن درختوں پہ اشکوں سے تیرا نام
دیتی ہیں اُن کی شاخیں ابھی تک دعا مجھے
وابستہ شعر گوئی کی سانسیں ہیں کن سے، دیکھ
رکھنا ہے دل کے زخم کو ہر دم ہرا مجھے
ہر بار زخم دے کے وہ راغبؔ ہوا نہال
ہر بار اُس کو دیکھ کے اچھا لگا مجھے
افتخار راغبؔ
ریاض، سعودی عرب
Leave a Reply