یاسمین یاس۔ کراچی پاکستان
ایک عرصے سے کچھ لکھا ہی نہیں
ایسا لگتا ہے کچھ کیا ہی نہیں
اتنے اچھے بھی تم نہیں لیکن
تم سا اچھا کوئی ملا ہی نہیں
جا چکا ہے وہ، جا چکا ہے وہ
پھر بھی دل ہے کہ مانتا ہی نہیں
میں ہی سمجھی غلط سلط شاید
تم نے ایسا تو کچھ کہا ہی نہیں
عمر بھر خوف میں رہے جس کے
حادثہ وہ کبھی ہوا ہی نہیں
تم جو ناراض ہوکے بیٹھے ہو
اس سے بڑھ کر کوئی سزا ہی نہیں
یاد آتا ہے جب کبھی کوئی
پھر مجھے کچھ بھی سوجھتا ہی نہیں
ٹوٹ جاۓ گا بے وفائی سے
حشر دل میں مگر بپا ہی نہیں
میرا رشتہ ہے باوفاؤں سے
بے وفاؤں سے واسطہ ہی نہیں
بے خبر یاس کس قدر ہوں میں
وہ میرا ہے مجھے پتہ ہی نہیں
Leave a Reply