میں بھی تو پریشاں ہوں تو بھی مضطرَب ہوگا
تجھ سے رو بہ رو ملنا کون جانے کب ہوگا
ہر گھڑی جدائی کی بے قرار گزرے گی
اس برس کی بارش جب آنگنوں میں برسے گی
پیاسے دل کی فرمائش اک دبی ہوئی خواہش
سوندھی سوندھی مٹی کی خوشبوؤں کو ترسے گی
خامشی ہے ہونٹوں پر پھر بھی تھرتھرائیں گے
تازہ تازہ پھولوں کے لمس یاد آئیں گے
رت جگوں کی سرحد سے خواب لَوٹ جائیں گے
نیل گوں ردا اوڑھے سونا آسماں ہوگا
رات کا سماں ہو گا جانے تو کہاں ہوگا
تمثیلہ لطیف
Your email address will not be published. Required fields are marked *
Comment *
Name *
Email *
Website
Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.
At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.
© 2025 Rahbar International
Leave a Reply