بہار اور مغربی بنگال کے علاوہ ہندوستان کے مختلف ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں-
رمضان المبارک میں افطار جیسے مقدس فعل کو سیاسی پارٹیوں نے مسلم ووٹروں کو لبھانے کے HVلیئے ہیک کرلیا ہے۔ جسمیں مسلم بھکت کو استعمال کرکے افطار کے تقدس کو پامال کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔
افسوس تب ہوتا ہے جب اس افطار میں مذہبی رہنما اور وظائف خور مولوی شریک ہوکر اپنی توند بھر کے انکی کامیابی اور سرفرازی کی دعائیں کرتے سوشل میڈیا پر نظر اتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسمانوں اسے سمجھو۔۔۔۔۔۔ یہ ساری سنگھی سازشیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔ جس طرح آج کل مسلم محلوں میں مائکرو لون کے نام پر ناگپوری نارنگیوں کی سازش پر مسلم عورتوں کو قرض فراہم کیا جارہا ہے تاکہ تمہارے مذہب اور شریعت کے قوانین میں سیندھ لگایا جاسکے۔ سودی نظام کو مسلمانوں میں کسی طرح داخل کرکے انکی عاقبت کو آلودہ کیا جاسکے۔
آج ااپنے محلوں اور علاقوں کا مشاہدہ کریں تو پتہ چلے گا کہ جس گناہ سے ہمارے مذہب نے سختی سے منع کیا ہے ۔ہم ناقاقبت اندیشی کی وجہ سے اسکا بری طرح سے شکار ہوچکے ہیں۔ اس سودی قرض کی ادائیگی کی قسط یا تو ہفتہ واری ہوتی ہے یا پندرہ دنوں یا ماہانہ۔۔۔۔۔ جسکی وجہ سے عورتیں اپنے گھروں میں اپنے شوہروں پر ہمیشہ دباؤ بنائے رہتی ہیں۔ روزگار کی قلت اور معقول آمدنی کے ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں خلفشار ہورہے ہیں۔
ذرا قرض کے قسطوں کی ادائیگی پر غور کریں تو سمجھ پائیں کہ ہر حال میں چاہے جیسے بھی ہو قسطوں کی ادائیگی تو ہوہی رہی ہے۔ مطلب ہم کسی نہ کسی طرح اسکا انتظام تو کرہی لے رہے ہیں تو پھر کیوں نہ ہم ایسا انتظام یا روزگار تلاش کریں کہ ہمیں اس لعنت سے نجات مل سکے۔
رمضان المبارک میں سیاسی پارٹیوں کی طرف سے دعوت افطار اور مائکرو لون کے نام پر زیادہ سے زیادہ سود لینے کےیہ سودی نظام قرض سارے کے سارے سنگھیوں اور سیاسی پارٹیوں کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔
جس پر ہم مسلمانوں کو نہایت ہی سنجیدگی کے ساتھ غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ ہم دوسری قوموں کے مقابلے معاشی طور پر کمزور سے کمزور ہوتے چلے جائیں
کیوں کہ ہماری معاشی پہلے سی بدتر ہے۔ جسے اور بھی بدتر کرنے کی کوششیں منھ پھاڑے کھڑی ہیں-
حیدر علی
گھسڑی (ہوڑہ)
مغربی بنگال
Leave a Reply