rki.news
دوحہ قطر میں مقیم، ہندوستان کے قصبہ گلاؤٹھی سے تعلق رکھنے والے معروف ادیب، شاعر اور عالمِ دین برادرم ندیم ماہرکی یہ کتاب “کراچی نامہ”، سفر نامہ کم اور محبت نامہ زیادہ ہے۔ یہ ان لوگوں کے لیے محبت نامہ ہے جو اپنے پیاروں اور اپنی مٹی کو چھوڑ کر سرحد پار جا بسے،مگر انکی اپنائیت اور محبت کی خوشبو آج بھی ان کے پیچھے رہ جانے والوں کو بے چین اورآ ٓبدیدہ رکھتی ہے جس کا اظہار ندیم ماہر کے نوک ِ قلم سے حرف بہ حرف جھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ ندیم ماہر کا قلم جب رواں ہوتاہے تو حکمت و دانش کے موتی حرف حرف بکھرتے چلے جاتے ہیں۔ اس کتاب کو لکھتے وقت جب جذبوں کی سچائی کی بھی شاملِ حال ہو گئی تو اس سفر نامے کی تاثیر دو گنا ہو گئی۔ندیم ماہر صاحب سے میرا تعلق کم و بیش دس سال پرانا ہے۔ قطر میں تقریبا ہر ادبی تقریب میں ان سے ملاقات ہو جاتی ہے، ادبی تعلق کے ساتھ ساتھ ان سے ذاتی وابستگی بھی ہو گئی ہے جس کی بنا پر میں بلا مبالغہ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ وہ اپنا ہر تعلق بخوبی نبھانا جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی کے ساتھ ان کا جو تعلق ہے انہوں نے اس کا حق اس کتاب کی صورت میں اس طرح ادا کیا کہ جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ان کی کتاب کی تقریب میں جب میں نے یہ کہاکہ ا س کتاب میں کراچی کے بارے میں ایسی ایسی معلومات ہیں جو ہم کراچی میں رہنے والوں کے لیے بھی نئی ہیں تو اس کے جواب میں انہوں نے تاریخی جملہ کہا کہ اگر آپ ساکنانِ کراچی ہیں تو ہم عاشقانِ کراچی ہیں اور یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ عاشقوں کا مرتبہ ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے۔
کراچی نامہ کہنے کو تو ایک سفر نامہ ہے مگر اس میں لکھنے والے نے ان واقعات کی جس طرح جھلک بیان کی جو تقسیم کے وقت پیش آئے اور ان دلوں پر کیا بیتی جو ہجرت کر گئے اور ان پر بھی جو پیچھے رہ گئے، درد و الم کی داستانوں کی جو جھلکیاں اس کتاب میں دکھائی دیتی ہیں اس سے کتاب تاریخی حوالے سے بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ندیم ماہر نے تاریخی حوالے سے اپنے آبائی علاقے قصبہ گلاؤٹھی پر روشنی ڈالی ہے اور وہاں سے کراچی ہجرت کر جانے والوں کا احوال بھی بیان کیا ہے۔کراچی کا یہ سفر انہوں نے دوحہ، قطر سے چودہ اگست دو ہزار اٹھارہ عیسوی کو اپنے اہلِخانہ کے ہمراہ کیا۔یہ سفر بنیادی طورپر ان کے رشتے کے چچا، خالہ اور دیگر رشتے داروں سے ملاقات کی خاطر کیا گیا مگر” کراچی نامہ “کی شکل میں ایک یادگار سفری اور تاریخی دستاویز کی صورت اختیار کر گیا۔ ندیم ماہر کا قیام عسکری۴ میں رہا مگر انہوں نے قریبا کراچی کے تمام علاقوں کی سیر و تفریح سے لطف اٹھایا اور ان یادگار لمحات کو قلمبند بھی کیا۔اس کتاب میں کہیں کراچی کے اور صوبہ سندھ کی تاریخ کے ساتھ ساتھ ہمیں برصغیر پاک و ہند کی مذہبی و ثقافتی تاریخ سے بھی آگاہی ہوتی ہے۔ کتاب کے آغاز میں ندیم ماہر صاحب نے صوبہ سندھ کی تاریخ بیان کی ہیں جہاں کراچی کی تاریخی حیثیت کا تو بیان ہے ہی مگر ٹھٹھہ، مکلی کا قبرستان اور لسبیلہ وغیر ہ کا ذکر بھی موجود ہے۔اس کتاب کا سب سے اہم اور دلچسپ باب وہی ہے جو انہوں نے “کراچی، صوبہ سندھ اور پاکستان کا سب سے بڑا شہر “کے عنوان سے تحریر کیا ہے۔ یہ باب نہ صرف کراچی کی مختصر اور جامع تار یخ ہے بلکہ موجودہ ثقافتی سرگرمیوں کا بھی آئینہ دار ہے۔یہ مضمون اس قدر دلچسپ اور معلومات افزا ہے کہ جی چاہتا ہے اس مضمون کو پورے کا پورا یہیں نقل کیا جائے مگر ظاہر ہے اس تبصرہ میں اتنی طوالت کی گنجائش نہیں۔اس میں کراچی کے نام کی تاریخ اورشہر کی تاریخی و جغرافیائی حیثیت کے ساتھ ساتھ کراچی میں بسنے والوں کے عادات و اطوار اور ثقافت کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔ اس باب کا سب سے دلچسپ حصہ اس شہر کے مختلف علاقوں کے ناموں کی تفصیل اور ان کی وجہ تسمیہ کا بیان ہے۔” انڈہ موڑ “کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اس موڑ پر ایک بیضوی شکل کا چوک تھا لہذا کنڈکٹروں نے اس چوک کو انڈہ موڑ کا نام دے دیا ہے اور اب یہ نام اس مو ڑ کے ارد گرد کے علاقے کی شناخت بن چکا ہے۔نارتھ کراچی کی” دو منٹ چورنگی” اپنے نام کی انفرادیت کی وجہ سے سارے شہر میں مشہور ہے، عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ شاید یہاں بسیں دو دو منٹ کے لیے رکتی ہیں تاہم ایسا نہیں ہے۔ اس چوک کا نام دو منٹ چورنگی اس لیے پڑا کہ تقریبا تیس سال قبل یہاں سرکاری بسوں کا ڈپو تھا جہاں سے ہر دو منٹ بعد ایک بس چلتی تھی۔اسی طرح انہوں نے کچھ اور علاقوں مثلا خاموش کالونی، بھوت بنگلہ، بھینس کالونی،مچھر کالونی، ناگن چورنگی اور دیگر دلچسپ ناموں کی وجہ تسمیہ بیان کی ہے جو قارئین کی دلچسپی کا باعث ہو سکتی ہیں۔”ناگن چورنگی” کے حوالے سے انہوں نے لکھا ہے کہ یہ ایک غیر آباد اور ناہموار علاقہ تھا جہاں آئے دن حادثات رونما ہوتے رہتے تھے۔ اور لوگوں کی جانیں ضائع ہو جاتی تھیں تو اخبارات میں اسے” ناگن چورنگی “کے نام سے موسوم کیا جانے لگا کہ آئے دن یہ جگہ کسی ناگن کی طرح انسانی جانوں کو ڈس رہی تھی۔اس مضمون کے آخر میں انہوں نے لکھا ہے کہ خوش خوراکی اور خوش پوشاکی اہلِ کراچی کی شان ہے۔اس کی ساتھ ہی انہوں نے اپنے ایک خاندانی بزرگ حضرت قابل گلاؤٹھوی کی نظم” کراچی” تحریر کی ہے جو ان کی اور ان کے خاندان کی کراچی سے انسیت اور محبت کی واضح دلیل ہے۔
تفریح ِدل و دیدہ کا ساماں ہے کراچی
اک حسن و محبت کا گلستاں ہے کراچی
اس کتاب میں ایک باب انہوں نے کراچی میں ادبی ملاقاتوں کے لیے مختص کیا ہے جس میں سہیل احمد صدیقی، حکیم عبدالمنان خان، پیر زادہ قاسم، فہیم برنی، فیروز ناظق، سعید الظفر صدیقی، عبدالرحمان مومن اور لیاقت علی عاصم جیسی معروف ادبی و سماجی شخصیات کے ساتھ ساتھ اپنے اعزاز میں ہونے والی کچھ ادبی نشستوں میں بھی شمولیت اختیار کی اور اس میں موجود کراچی کے اہم شعرا سے ملاقاتیں بھی رہیں۔جس کی تفصیل اس باب میں موجود ہے۔ اس کتاب کی اہم اور خاص بات یہ بھی ہے کہ اس کتاب میں پاک و ہند کی بہت اہم صحافتی اور ادبی شخصیات کے مضامین شامل ہیں جو اس کتاب کی اہمیت اور معیار کو اور بھی وقیع بناتے ہیں۔ ان ناموں کی تفصیل یہ ہے۔پروفیسر اخترالواسع (وائس چانسلر مولانا آزاد یونیورسٹی، جودھپور)، جاوید انوار(چانسلر سر سید یونیورسٹی، کراچی)، حکیم عبدالمنان خان(سابق وائس چانسلر ہمدرد یونورسٹی، کراچی)، حسن عبدالکریم چوگلے(ماہرِ تعلیم، سرپرست اعلی انجمن محبان اردو ہند، قطر)، پروفیسر نوشابہ صدیقی (ایڈیٹر ماہنامہ تہذیب، کراچی)، ڈاکٹر مہتاب عالم، سید وسیم الدین ہاشمی، ڈاکٹر ثناء اللہ، فاروق سید اور سہیل احمد صدیق کے اہم اور گرانقدر مضامین شامل ہیں۔
آخر میں اتنا کہوں گا کہ یہ کتاب اہلِ کراچی، وابستگانِ کراچی اور محبانِ کراچی کے لیے ایک گراں قدر تحفہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ اہلِ کراچی اور اہلِ پاکستان کو یہ کتاب لکھنے پر ندیم ماہر صاحب کا نہ صرف شکر گذار ہونا چاہیے بلکہ اس کتاب کی مناسب فورمز پر پذیرائی کرنی چاہیے اور میری خواہش ہے کہ اس معاملے میں پہلا قدم گورنر ہاؤس کراچی کو اٹھانا چاہیے۔
Leave a Reply