از قلم: عبد الاحد
[12:51 pm, 17/04/2024] Abdul Hadi Qureshi RKI Rep Islamabad: یہ موضوع جس قدر اہم ہے ہم لوگ اس کو اتنا ہی نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں ہمیں پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ڈپریشن ہے کیا اور لوگ اس کا شکار ہی کیوں ہوتے ہیں ڈپریشن انسانی دماغ کی ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان خود کو ایک guilt میں پاتا ہے پہلے انسان ایک وقت تک guilt میں رہتا ہے اور پھر اہستہ اہستہ یہ guilt اس قدر انسانی دماغ پر حاوی ہو جاتا ہے کہ اسے کسی بھی چیز سے دلچسپی نہیں رہتی یہ ڈپریشن کا دوسرا مرحلہ ہوتا ہے اور پھر تیسرا مرحلہ وہ اتا ہے جب انسان سب سے اہم چیز “امید” کھو بیٹا اس مرحلے کے بعد کی کیفیت کو ڈپریشن کہتے ہیں
اب سوال یہ اتا ہے کہ اخر ہم انسان اس کا شکار ہی کیوں ہوتے ہیں اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس کی بہت سی وجوہات ہیں ایک بڑی وجہ معاشرہ بھی ہے ہم لوگ معاشرے کی تقلید میں اکثر اس قدر محو ہو جاتے ہیں کہ اپنے اپ کو اور اپنے مقصد کو ہی بھول بیٹھتے ہیں ہم اپنے بنائے گئے راستے اور اصولوں کو چھوڑ کر ایک دوسرے راستے کی طرف جانے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں جو بظاہر ہمیں اسان اور شارٹ کٹ لگ رہا ہوتا ہے اور اسی کوشش میں ہی ہم غلط سمت میں مڑ جاتے ہیں
ایک دوسری اور اہم وجہ توقعات ( expectations) بھی ہیں جو ہماری خود سے یا ہم سے جڑے ہوئے لوگوں کی ہم سے ہوتی ہیں اور جب ہم ان توقعات پر پورا نہیں اتر پاتے تب ہم ڈپریشن کی پہلی سٹیج guilt میں چلے جاتے ہیں دراصل یہی پہلا مرحلہ guilt ہی سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے جو انسان اس پہلے مرحلے میں جاتا ہے وہ خوش نصیب ہے وہ اس لیے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس انسان کا ضمیر زندہ ہے جو اس کو یہ بتا رہا ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط guilt کا مطلب ہے کہ اپ کا ضمیر اپ کو خبردار کر رہا ہے کہ اپ کچھ غلط کر چکے ہیں
اگر ہم اس پہلے مرحلے کو سمجھ کر ہی خود کو سنبھال لیتے ہیں تو ہم اس ڈپریشن کی دلدل میں پھنسنے سے خود کو بچا سکتے ہیں اور یہی اس کا علاج بھی ہے ضرورت اسی چیز کی ہے کہ ہم اپنے اعصاب کو مضبوط کریں اور اپنی غلطی کو تسلیم کریں اور پھر اس پر ہمیشہ ہی guilt میں رہنے کی بجائے خود سے معافی مانگیں اور ایک مثبت طریقے سے ایک نئی شروعات کریں ہمیں یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم انسان ہیں اور غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں ہمیں انہی غلطیوں کی وجہ سے ہر وقت پچھتانے کی بجائے ان سے سبق سیکھ کر زندگی میں اگے بڑھنا چاہیے اسی طرح ہی ہم زندگی کی اگلی منزلوں کی طرف کامیابی سے بڑھ سکتے ہیں
[12:51 pm, 17/04/2024] Abdul Hadi Qureshi RKI Rep Islamabad: ازقلم:
Leave a Reply