Today ePaper
Rahbar e Kisan International

یخ بستہ ہواؤں کی آمد اور سوئی گیس کی بے وفائی

Articles , Snippets , / Sunday, November 30th, 2025

rki.news

عامرمُعانؔ

جیسے ہی موسم نے سردیوں کی بھرپور آمد کا اعلان کیا ہے۔ سوئی گیس نے بھی عوام کیساتھ آنکھ مچولی کھیلنا شروع کر دی ہے۔ ویسے تو دنیا بھر میں یہ یخ بستہ ہوائیں آپ کو موسم سے لطف اندوز ہونے کی ترغیب دیتی ہیں، لیکن کوئٹہ میں سوئی گیس دور سے مسکراتے ہوئے کہتی ہے کہ ایسی غلطی کبھی نہ کرنا، ورنہ رات بھر سردی کے مارے ٹھٹھرتے رہو گے۔ گرم ہونے کے لئے آگ کی ایک ایک آنچ کو ترسو گے، مگر میں تمہیں جھلک بھی نہیں دکھاؤں گی۔ بلوچستان کے سرد علاقوں کا عموماً اور کوئٹہ کا خصوصاً گیس کی عدم فراہمی (جس کو عرف عام میں گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی کہتے ہیں ) کا مسئلہ عرصہ دراز سے چلا آ رہا ہے۔ ہر سال گیس کی بلا تعطل فراہمی کے وعدے ضرور ہوتے ہیں، لیکن ہر سال آمدِ موسم سرما پر یہ وعدے پھر مستقبل پر ڈال کر کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر موسم سرما گزار دیا جاتا ہے، تاکہ عوام کی چیخیں ان حکام کے گرم کمروں تک نہ پہنچ سکیں۔ کوئٹہ کا درجہ حرارت موسم سرما میں نقطہ انجماد سے بھی نیچے چلا جاتا ہے، اور زندگی کو اس سرد ماحول میں رواں رکھنے، اور گرمائش کے حصول کا واحد ذریعہ یہ گیس ہی رہ جاتی ہے۔ وہی گیس جس کی خاص اسی موسم سرما میں ناراضگی عوام کے صبر کا امتحان لیتی رہتی ہے۔ عوام ہر سال احتجاج کرتے ہیں، شکایات درج کرواتے ہیں، لیکن یہ سارا عرصہ صرف طفل تسلیاں دے کر وقت گزاری ہی کی جاتی رہتی ہے، اور آخر میں موسم گرما کی آمد پر دوبارہ ایسے حالات نہ ہونے کی زبانی تسلیاں دے کر تمام شکایات ردی کی ٹوکری کی نظر کر دی جاتی ہیں۔ تاکہ اگلے موسم سرما میں دوبارہ آنے والی شکایات کے لئے الماری میں جگہ خالی رکھی جا سکے۔ عوام کے پاس اس گیس کی معطلی میں سردی سے بچنے کا دوسرا حل ایل پی جی سلینڈرز کا حصول رہ جاتا ہے، لیکن اس کے آسمان سے باتیں کرتے نرخ ایک عام آدمی کے لئے اس کا حصول ناکام بنا دیتے ہیں۔ یہی حال لکڑی اور کوئلے کا بھی ہے، جس سے ہاتھ ، منہ اور گھر کالے ہونے کیساتھ جیب خالی ہونے کی فکر بھی لاحق رہتی ہے۔ غرض سردی سے بچنے کے لئے سب سے سہل طریقہ سوئی گیس ہی ہے، جو سردی سردی گرمانے کے کم اور تڑپانے کے زیادہ کام آتی ہے۔ حکومتوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ عوام کی سہولیات کے لئے ہر ممکن اقدامات کرتے ہوئے عوام کی ان تکالیف کو دور کیا جائے، جس کی وجہ سے عوام یہ وقت آرام سے گزارنے کے بجائے تکلیف سے گزارنے پر مجبور رہتے ہیں۔ مجبوراً کوئٹہ کے رہائشیوں کی ایک بڑی تعداد گرم علاقوں کی طرف چھٹیاں گزارنے کے لئے جانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ پہلے پہل تو اسکول کالجز کی چھٹیوں میں کثیر تعداد دوسرے صوبوں کا رخ کرتی تھی، اور کوئٹہ ‘شہر خالی ، کوچہ خالی’ کا منظر پیش کر رہا ہوتا تھا، لیکن اب کمر توڑ مہنگائی نے عوام کا یوں چھٹیاں گزارنے دوسرے علاقوں میں جانا بھی مشکل کر دیا ہے۔ اب روز مرہ اخراجات سے اتنے پیسے بچ ہی نہیں پاتے، کہ دوسرے علاقوں میں جا کر شاہ خرچیوں کی طرف سوچا جا سکے۔ سو یوں عوام ٹھٹھرتے ٹھٹھرتے سردیاں گزار دیتے ہیں۔ گیس کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ہر سال کئی المناک حادثات بھی پیش آتے ہیں۔ جن میں رات میں اچانک گیس کی بندش کے بعد دوبارہ سپلائی سے اُن گھروں میں جہاں گیس کھلی رہ جاتی ہے، یہ گیس موت کا پیغام لے کر آتی ہے۔ ہر سال اخبارات میں ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ جہاں گیس موت کی ذمہ دار ٹھہرائی جاتی ہے۔
اس طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ بلوچستان کے دل کوئٹہ میں رہائش پذیر عوام کو سہولیات کیساتھ موسم سرما اچھے طریقے سے گزارنے کا موقع میسر آ سکے۔ عموماً دنیا بھر میں سرد علاقوں میں عوام کو سب سہولیات مہیا کی جاتی ہیں، تاکہ سردی وبال جان نہ بنے، بلکہ عوام اس سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہو سکیں۔ یوں وہاں کے عوام سرما میں طرح طرح کے پکوان سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جبکہ یہاں ہمیں تو گرم رہنے کے لئے گیس میسر نہیں ہو پاتی، پکوان کی طرف دھیان تو شائد ہی کسی ذہن میں آئے۔
امید ہے کہ عوام کی تکالیف کا اندازہ کرتے ہوئے حکومت اس کے دیرپا حل کے لئے ممکنہ کاوشیں ضرور کرے گی، تاکہ عوام یہ موسم بھی بنا تکلیف ایسے گزاریں کہ ان کے روز مرہ کے کاموں میں کوئی رکاوٹ نہ آئے، جبکہ فی الحال زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے، اور سب موسم سرما آتے ہی کسی منجمد گاڑی کی طرح جم کر رہ جاتے ہیں اور زندگی رکی رکی سی محسوس ہونے لگتی ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

Active Visitors

Flag Counter

© 2025
Rahbar International