rki.news
تحریر:شازیہ عالم شازی۔ کراچی
ایڈز کا عالمی دن ہر سال ایک یاددہانی ہے کہ یہ مرض صرف طبّی چیلنج نہیں بلکہ ایک سماجی، اخلاقی، انسانی اور عالمی ذمہ داری بھی ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں افراد HIV کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، مگر افسوس کہ لاعلمی، غلط فہمیاں اور سماجی تعصبات آج بھی اس بیماری کے پھیلاؤ اور مریضوں کی مشکلات کو بڑھا دیتے ہیں۔اس دن کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ہم آگاہی، احتیاط اور انسان دوستی کے ساتھ ایک مضبوط عالمی بیانیہ تشکیل دیں کیونکہ ایڈز (AIDS) صرف ایک بیماری نہیں، بلکہ ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے جس کے بارے میں درست معلومات، بروقت تشخیص اور ذمہ دار رویّے کی شدید ضرورت ہے۔ پاکستان میں اس مرض کے بارے میں آگاہی کی کمی، غلط فہمیاں، معاشرتی بدنامی (Stigma) اور شرمندگی جیسے عوامل اسے مزید خطرناک بنا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے نوٹس اور آگاہی مہمات ناگزیر ہو چکی ہیں، پاکستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد سال بہ سال بڑھ رہی ہے، مگر بدقسمتی سے عام لوگ اس مرض کو سمجھنے کے بجائے اسے چھپانے میں ہی عافیت جانتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ تاثر پھیلا ہوا ہے کہ ایڈز صرف چند مخصوص غلط عادات کا نتیجہ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مرض آلودہ سرنجوں، غیر محفوظ میڈیکل طریقہ کار، بلڈ اسکریننگ کی کمی، اور ماں سے بچے میں منتقلی جیسے مختلف راستوں سے بھی پھیل سکتا ہے اس سلسلے میں ہمارا اصل مسئلہ لاعلمی ہے اس بارے میں علم نہ ہونے کی وجہ سے مریض بروقت ٹیسٹ نہیں کرواتے، علاج سے بھاگتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر معاشرے کی نفرت کے خوف سے اپنی بیماری کا ذکر تک نہیں کرتے۔ یہ رویّے نہ صرف مریض کے لیے خطرناک ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی اتنے ہی خطرناک ہیں اقوامِ متحدہ کے عالمی دن کے موقع پر ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں ایڈز کے متعلق مندرجہ ذیل پہلوؤں پر مسلسل اور مؤثر آگاہی دی جائے، جسے عوام تک پہنچانے کے اقدامات کیئے جانے کی ضرورت ہے ایڈز ایک قابلِ علاج اور قابلِ کنٹرول بیماری ہے، قابلِ علاج سزا نہیں، اس بارے میں حقیقی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے، نہ کہ معاشرتی شرمندگی کے باعث اس کو چھپانا سب سے اہم نقطہ محفوظ سرنجیں، محفوظ طریقۂ علاج اور درست طبی معائنہ عام کیا جائے معاشرے میں ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ ہر فرد بلا خوف یہ ٹیسٹ کروا سکے یہ اس کی صحت کا بنیادی حق ہے،سکولوں، کالجوں اور کمیونٹی مراکز میں صحت کی تعلیم کا باقاعدہ حصہ ہونا چاہیے اگر معاشرہ مریض کو مجرم سمجھنا چھوڑ دے، اور علم، ہمدردی اور احتیاط کے ساتھ آگے بڑھے تو ہم نہ صرف اس بیماری کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں بلکہ ہزاروں زندگیوں کو بہتر اور محفوظ بنا سکتے ہیں۔
ایڈز کے خلاف جنگ کا پہلا قدم آگاہی ہے اور یہ قدم ہر پاکستانی کو اٹھانا ہوگا۔یکم دسمبر
ایڈز سے آگاہی کا عالمی دن
تحریر:شازیہ عالم شازی۔ کراچی
ایڈز کا عالمی دن ہر سال ایک یاددہانی ہے کہ یہ مرض صرف طبّی چیلنج نہیں بلکہ ایک سماجی، اخلاقی، انسانی اور عالمی ذمہ داری بھی ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں افراد HIV کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، مگر افسوس کہ لاعلمی، غلط فہمیاں اور سماجی تعصبات آج بھی اس بیماری کے پھیلاؤ اور مریضوں کی مشکلات کو بڑھا دیتے ہیں۔اس دن کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ہم آگاہی، احتیاط اور انسان دوستی کے ساتھ ایک مضبوط عالمی بیانیہ تشکیل دیں کیونکہ ایڈز (AIDS) صرف ایک بیماری نہیں، بلکہ ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے جس کے بارے میں درست معلومات، بروقت تشخیص اور ذمہ دار رویّے کی شدید ضرورت ہے۔ پاکستان میں اس مرض کے بارے میں آگاہی کی کمی، غلط فہمیاں، معاشرتی بدنامی (Stigma) اور شرمندگی جیسے عوامل اسے مزید خطرناک بنا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے نوٹس اور آگاہی مہمات ناگزیر ہو چکی ہیں، پاکستان میں ایچ آئی وی سے متاثرہ افراد کی تعداد سال بہ سال بڑھ رہی ہے، مگر بدقسمتی سے عام لوگ اس مرض کو سمجھنے کے بجائے اسے چھپانے میں ہی عافیت جانتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ تاثر پھیلا ہوا ہے کہ ایڈز صرف چند مخصوص غلط عادات کا نتیجہ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مرض آلودہ سرنجوں، غیر محفوظ میڈیکل طریقہ کار، بلڈ اسکریننگ کی کمی، اور ماں سے بچے میں منتقلی جیسے مختلف راستوں سے بھی پھیل سکتا ہے اس سلسلے میں ہمارا اصل مسئلہ لاعلمی ہے اس بارے میں علم نہ ہونے کی وجہ سے مریض بروقت ٹیسٹ نہیں کرواتے، علاج سے بھاگتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر معاشرے کی نفرت کے خوف سے اپنی بیماری کا ذکر تک نہیں کرتے۔ یہ رویّے نہ صرف مریض کے لیے خطرناک ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی اتنے ہی خطرناک ہیں اقوامِ متحدہ کے عالمی دن کے موقع پر ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان میں ایڈز کے متعلق مندرجہ ذیل پہلوؤں پر مسلسل اور مؤثر آگاہی دی جائے، جسے عوام تک پہنچانے کے اقدامات کیئے جانے کی ضرورت ہے ایڈز ایک قابلِ علاج اور قابلِ کنٹرول بیماری ہے، قابلِ علاج سزا نہیں، اس بارے میں حقیقی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے، نہ کہ معاشرتی شرمندگی کے باعث اس کو چھپانا سب سے اہم نقطہ محفوظ سرنجیں، محفوظ طریقۂ علاج اور درست طبی معائنہ عام کیا جائے معاشرے میں ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ ہر فرد بلا خوف یہ ٹیسٹ کروا سکے یہ اس کی صحت کا بنیادی حق ہے،سکولوں، کالجوں اور کمیونٹی مراکز میں صحت کی تعلیم کا باقاعدہ حصہ ہونا چاہیے اگر معاشرہ مریض کو مجرم سمجھنا چھوڑ دے، اور علم، ہمدردی اور احتیاط کے ساتھ آگے بڑھے تو ہم نہ صرف اس بیماری کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں بلکہ ہزاروں زندگیوں کو بہتر اور محفوظ بنا سکتے ہیں۔
ایڈز کے خلاف جنگ کا پہلا قدم آگاہی ہے اور یہ قدم ہر پاکستانی کو اٹھانا ہوگا۔
Leave a Reply