rki.news
تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
سورہ مایدہ میں ہے کہ جس نے ایک انسان کو قتل کیا اس نے ساری انسانیت کو قتل کیا،
قتل کرنے کا مطلب ہے کسی جیتے جاگتے، زندہ انسان کو دھڑکتے دل اور دیکھتی آنکھوں کے ساتھ ان، آنکھوں میں خوابوں کی راجدھانی سمیت، آتی جاتی خوشگوار سانسوں کے ساتھ خواہ مخواہ ہی اپنے کسی معمولی مالی فایدے، کسی ذاتی رنجش، کسی پرانے غم کو غلط کرنے کے لیے، کسی آبای اراضی سے قبضہ چھڑوانے کے لیے،کسی خواہ مخواہ کی عزت بے عزتی کو بچانے کے لیے، کسی کو نیچا دکھانے کے لیے یا کسی بھی برای کو چھپانے کے لیے کسی بے گناہ کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ لینا اور پھر مقتول کو پھینک کے فرار ہو جانا یا پھر مجمعے کے ساتھ گم ہو جانے والے مظلوم کو ڈھونڈنے کی ایکٹنگ کرنا، یہ وہ تمام ایکٹ ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں اکثر و بیشتر ہمارے سامنے رونما ہوتے رہتے ہیں، ہم اس جرایم کی دنیا کا جانے انجانے میں حصہ بنتے ہیں کبھی گونگے بہرے تو کبھی نہ چاہتے ہوئے بھی، ضمیر کے لگے کچوکوں کی چوٹیں سہلانے کے لیے کسی مظلوم کے حق میں کبھی بیساکھی لے کر اور کبھی بنا سہارے کے بھی کھڑے ہو جاتے ہیں، اس کھینچا تانی اور ہلڑ بازی کے اپاے کے لیے عدالتیں بھی سجتی ہیں، قاضی بھی اپنے منصفی ملبوسات میں کرسی انصاف پہ براجمان ہوتے ہیں، جرح، صفایا، گواہ اور وکلا سب انصاف کے حصول کے لیے برسر پیکار رہتے ہیں، کبھی کبھی انصاف مل بھی جاتا ہے مگر زیادہ تر انصاف کہیں نہ کہیں معلق ہو جاتا ہے، وجوہات اور اسباب بے شمار ہیں مگر اصل بات جو آج مجھے اندر باہر سے کھولا رہی ہے وہ ہے کہ قتل و غارت کا بازار گرم ہوتا کیوں ہے؟ انسان محنت مشقت، اور امن سکون کے دھاروں سے باہر نکلتا کیوں ہے، کہ اسے گوشت پوست کے بنے ہوے نرم و نازک انسان کو جان سے ہی مارنا پڑ جاتا ہے، انسانوں میں سب سے زیادہ قتل مرد ہوتے ہیں، تقریباً چودہ سال سے پینتالیس سال کے مرد، وجہ وہی زمین، لین دین، غیرت، ڈاکہ زنی، دنگا فساد، خواتین کے قتل ہونے کی شرح نسبتاً کم ہے لیکن وجوہات سنگین، عورت کے قاتل عموماً اس کے گھر والے ہی ہوتے ہیں خاص طور پر اس کا شوہر، جو عورت کو ایک انسان کے بجاے استعمال کی ایک شے ہی سمجھتا ہے، دوسرے نمبر پہ عورت کے قاتل اس کے اپنے ماں جاے یعنی بھای ہوتے ہیں جو خود تو بھلے عشق عاشقی کے نام پہ درجنوں خواتین سے تعلق بناے رکھیں، شریعت کو زندہ رکھنے کے لیے شادیوں پہ شادیاں رچاتے پھریں مگر ان سے اپنی بہنوں کا ایک آدھا افییر بھی برداشت نہیں ہوتا اور وہ انھیں بے سبب اور بے جا موت کا پروانہ دینے سے ہی باز نہیں آتے بلکہ الٹا اپنی ہی ماں جاییوں کے کردار کے پرخچے بھی اڑاتے ہیں اور سونے پہ سہاگہ بجاے اپنے کالے کرتوتوں پہ انھیں کچھ ندامت ہو یہ بھری پنچایت اور نام نہاد برادری کے سامنے سینہ تان تان کے اپنی اکڑ فوں پہ یوں اتراتے ہیں، جیسے انھوں نے کوی بہت ہی
بڑا کارنامہ سر انجام دے دیا ہو، ارے سو باتوں کی ایک ہی بات کہ ہر مذہب میں قاتل کی سزا بھلے موت ہی ہے ہاں دیت، تاوان کی سہولت بھی موجود ہے اور قتل کے بہت سارے واقعات ایسے بھی دیکھے جہاں اصل قاتل تو موقع واردات سے غایب ہو گیے اور بے گناہ لوگوں نے ان قاتلوں کی جگہ پہ گرفتار ہو کے سزائیں بھی کاٹیں اور دار پر بھی چڑھاے گیے، واہ رے دنیا کے انصاف اور واہ ری انصاف کی دیوی، اور کچھ ایسے بھی کیسز تھے جن میں قاتلوں کو شک کا فایدہ دے کر قاتلوں کو چھوڑ دیا گیا، مگر جب بھی کوی قتل ہوتا ہے تو وہ قتل ناحق ہی ہوتا ہے کیونکہ خواہ مخواہ کے غصے، پاگل پن، نفسانفسی، نفسیاتی مسائل کی بنا پہ کسی جیتے جاگتے کو قتل کر دینے سے بڑی زیادتی اور کچھ ہو نہیں سکتی تو پھر اس قتل ناحق کے گرفتار شدہ مجرم کو سزا بھی شایان شان ملنی چاہیے اسی تکلیف اور اذیت کے ساتھ جس کے ساتھ اس نے مقتول کی جان لی تھی، اگر مقتول کے لواحقین دیت پہ رضا مند نہ ہوتے ہوں تو، اور اگر مقتولہ کوی عورت ہو تو پھر اس کے نکاح یا بے نکاحے ہونے کے جوازات کو تراشنے کی بجائے صرف اور صرف اسے ایک انسان سمجھتے ہوے اس کے ظالم قاتل کو کیفرکردار تک پہنچانے کا کام، ریاست اور منصفین کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی بخوبی کرنا چاہیے.
قتل ناحق
قتل ناحق تو قتل ناحق ہے
جب بھی ہو نا ہے شور ہونا ہے
کس لیے تو پریشان ہے انسان
جبر کو جبر نہیں رہنا اب
جبر کو اب وداع ہونا ہے
نکاہی اور بے نکاحی، کسی وجہ یا بغیر کسی وجہ کے قتل ہونے والی تمام خواتین کے نام.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Punnam. Naureen @IClouud.com
Leave a Reply