rki.news
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
چین نےہمیشہ سے یہ دعوی کیا ہے کہ تائیوان اس کا حصہ ہے۔نئے سال کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ نے منگل کے روزخطاب کیا اور خبردار کرتے ہوئے کہا کہ”چین کے ساتھ دوبارہ اتحاد کو کوئی بھی روک نہیں سکتا ہے”چین کوشش کر رہا ہے کہ تائیوان کو دوبارہ چین کا حصہ بنا دیا جائے،مگر تائیوان ہر حال میں اپنی علیحدہ اورآزادحیثیت برقرار رکھنے پر ڈٹا ہوا ہے۔تائیوان میں ایک منتخب جمہوری حکومت ہے اور اس کی اپنی آزاد پالیسیاں ہیں،اس لیے تائیوان نےبیجنگ کےاس دعوے کو ہمیشہ سے رد کیا ہے۔تائیوان کا موقف ہے کہ جزیرے کی عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں۔چینی صدر نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ”آبنائے تائیوان کے دونوں جانب کے لوگ ایک خاندان ہیں۔کوئی بھی ہمارے خاندان کو توڑ سکتا ہے اور نہ ہی قوم کے دوبارہ اتحاد کی تاریخی رجحان کو کوئی روک سکتا ہے”۔چینی صدر نے اپنی تیز رفتار ترقی کا بھی ذکر کیا۔یہ سچ بھی ہے کہ چین کی تیز رفتار ترقی دنیا کو حیران کر رہی ہے. چینی ٹیکنالوجی نے دنیا کی مارکیٹ پر اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔جدید اسلحہ سمیت کئی قسم کی جدید ایجادات چین کو مسلسل ترقی یافتہ بنا رہی ہیں۔تائیوان بھی چین کے ڈر سے اپنی قوت میں اضافہ کرنے پر مجبور ہے۔امریکہ سے اربوں ڈالر کا اسلحہ خرید رہا ہےاور یہ خریداری چین کی ناراضگی کا سبب بن رہی ہے۔چین نے بارہا امریکہ کو سخت نتائج کی دھمکی بھی دی،لیکن پھر بھی امریکہ اسلحہ فروخت کر رہا ہے۔کچھ دن پہلے امریکہ نے 11 ارب اور 10 کروڑ ڈالر کا اسلحہ و ہتھیار تائیوان کوفروخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔چین نے جوابی کاروائی کرتے ہوئے امریکہ کی 20 کمپنیوں اور 10 افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد کے اثاثے بھی منجمد کر دیے گئے ہیں۔چین کی وزارت خارجہ نے سخت قسم کی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ”تائیوان کے معاملے پر کسی بھی اشتعال انگیز اقدام کا سخت جواب دیا جائے گا”چین کی وزارت خارجہ نے امریکہ سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اسلحہ فراہم کرنا بند کیا جائے۔ یہ اچھی طرح واضح ہے کہ تائیوان اس بھاری اسلحے کو چین کے خلاف استعمال کرے گا۔تائیوان کو یہ بھی اعتراض ہے کہ بھاری مشقیں تائیوان کے گرد چین کرتا رہتا ہے،لیکن اپنی کمزور پوزیشن کے پیش نظر چین کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
کیا امریکہ تائیوان کا ساتھ دے گا،جب چین تائیوان پر حملہ کر دے؟یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب الجھنوں سے بھرا ہوا ہے۔امریکہ کی طرف سے دی گئی بھاری امداد وضاحت کرتی ہے کہ تائیوان کا ساتھ دیا جائے گا اور دیا بھی جا رہا ہے۔اس کے باوجودامریکہ کی طرف سے کوئی ایسا واضح اعلان نہیں کیا گیا کہ جنگ کی صورت میں تائیوان کا ساتھ دیا جائے گا۔بہرحال امریکی اقدامات وضاحت کرتے ہیں کہ مستقبل میں تائیوان کو مایوس نہیں کیا جائے گا۔امریکہ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ چین کے پاس جدید ٹیکنالوجی اور بھاری ہتھیار ہیں جن کا مقابلہ کرناآسان نہیں۔دیگر ممالک شاید کھل کر چین کی مخالفت نہ کر سکیں لیکن امریکہ کی وجہ سے چین کی مخالفت کر سکتے ہیں۔چین نے ہمیشہ پڑوسیوں اور عالمی برادری سے اچھے تعلقات رکھنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے،اس وجہ سے چین کو شاید دوسری طاقتوں کی مخالفت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا چین طاقت کا استعمال کرے گا یا نہیں؟ہو سکتا ہے بہتر وقت کا انتظار کیا جا رہا ہو اور بہتر وقت آنے پر چین تائیوان پر زبردستی قبضہ کر لے۔تائیوان بھی لازمی طور پر مزاحمت کرے گا اور یہ مزاحمت خطے میں کشیدگی پیدا کرے گی۔
اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ چین اور تائیوان کا مسئلہ الجھنوں سے بھرا ہوا ہے۔کوئی بھی ملک نہیں چاہتا کہ اس پر قبضہ ہو جائے۔تائیوان ہر حال میں اپنی علیحدہ شناخت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا اور یہ کوشش وسیع جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔اس مسئلے کو آسانی سے حل نہیں کیا جا سکتا۔چین کے مسئلے کو عالمی طور پر اس لحاظ سے بھی دیکھا جا رہا ہے کہ ماضی میں تائیوان چین کا حصہ رہا ہے۔اس وجہ سے چین کے لیے عالمی برادری میں نرمی پائی جاتی ہے۔دوسری صورتحال یہ ہے کہ امریکہ اور بہت سی طاقتیں نہیں چاہتیں کہ چین زیادہ مضبوط ہو۔تائیوان پر کنٹرول کا مطلب ہوگا کہ بہت سے ممالک کے لیے پریشانیاں پیدا ہو جائیں۔تائیوان مقابلہ تو کرے گا لیکن بظاہر اتنا نظر نہیں آتا کہ چین جیسے ملک کا مقابلہ کیا جا سکے۔یہ جنگ شاید چند دنوں میں فیصلہ کن ثابت ہو جائے،اگر دوسری طاقتیں اس جنگ میں شامل ہو گئیں تو یہ لمبے عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔بہرحال چین اور تائیوان کا مسئلہ آسانی سے حل ہونے میں نظر نہیں آرہا۔اس کے حل کے لیے تائیوان میں ریفرنڈم بھی کیا جا سکتا ہے اور اخلاقی و قانونی طور پر اس ریفرنڈم کا چین کو بھی احترام کرناچاہیے تاکہ خطے میں بد امنی نہ پھیل سکے۔یہ بھی درست ہے کہ طاقت بعض اوقات اخلاقی اصولوں کو نہیں دیکھتی،اس لیے چین آسانی سے دستبردار نہیں ہوگا۔اس کا ہر ایک کو اچھی طرح علم ہے کہ چین کسی صورت میں تائیوان کے موقف پر پیچھے نہیں ہٹے گا۔بہرحال یہ مسئلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا،ہو سکتا ہے مستقل بعید میں اس کا کوئی موثر حل نکل آئے، فی الحال تو کوئی اسان حل نظر نہیں آتا۔
ہو سکتا ہے تائیوان زیادہ دیر تک چینی دباؤ برداشت نہ کر سکے اور چینی کنٹرول کو قبول کر لے،تو اس صورت میں تائیوان اپنا وجود برقرار رکھ سکے گا۔ہو سکتا ہے تائیوان اپنی آزادی جزوی طور پر قائم رکھ سکےاوردفاع یا کرنسی کے علاوہ دیگر آزادانہ طور پر اپنی پالیسیاں بنا سکے۔بہرحال اس وقت نظر آرہا ہے کہ چین اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہے اور تائیوان اپنی آزادی کھونے کو تیار نہیں۔امریکہ تائیوان کو دفاعی امداد دے رہا ہے اور چین بھی شاید مناسب وقت کا انتظار کر رہا ہے۔امریکی امداد میں میزائل،جنگی طیارے اور دیگر فوجی ساز و سامان شامل ہے۔ظاہری طور پر تو یہ نظرآرہا ہے کہ یہ سامان چین کے خلاف استعمال کرنے کے لیے ہی منگوایا جا رہا ہے۔
Leave a Reply