Today ePaper
Rahbar e Kisan International

پشتو ادب، ثقافت اور سماجی خدمت کی روشن علامت

Literature - جہانِ ادب , Snippets , / Thursday, January 8th, 2026

rki.news

ډاکټر اقبال شاکر
اردو تر جمہ فیروز افریدی

عصرِ حاضر میں الیکٹرانک میڈیا زبانوں، ثقافتوں اور سماجی اقدار کے تحفظ اور فروغ کا ایک مؤثر اور طاقتور ذریعہ بن چکا ہے۔ ایسے وقت میں جب زیادہ تر میڈیا ادارے تجارتی سوچ کے زیرِ اثر کام کر رہے ہیں، افغان ٹیلی وژن نے پشتو زبان، ادب، ثقافت اور انسانی خدمت کے فروغ کے لیے ایک منفرد، باوقار اور شعوری شناخت قائم کی ہے۔
افغان ٹیلی وژن ایک پاکستانی پشتو ٹی وی چینل ہے جس نے 2012ء میں اپنے نشریاتی سفر کا آغاز کیا۔ اس چینل نے ابتدا ہی سے اس بات کی کوشش کی کہ تفریح کو فکری، ادبی اور ثقافتی شعور کے ساتھ پیش کیا جائے۔ 2016ء میں افغان ٹیلی وژن ایوارڈز کی باقاعدہ اور منظم روایت کا آغاز ہوا، جس کا مقصد مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والی شخصیات کی حوصلہ افزائی اور اعتراف تھا۔ یہ تقریب آج تک تسلسل، کامیابی اور اعلیٰ معیار کے ساتھ ہر سال منعقد ہو رہی ہے۔
افغان ٹیلی وژن کے پسِ پشت ادارے کے ڈائریکٹر سید عدنان شاہ کا وژن، اخلاص اور کمٹمنٹ قابلِ تحسین ہے۔ وہ پشتو زبان، پشتون قوم اور پشتونخوا سے گہری محبت رکھتے ہیں اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ زبان، ادب اور ثقافت کسی بھی قوم کی شناخت کے بنیادی ستون ہوتے ہیں۔
افغان ٹیلی وژن کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کے تقریباً ستر فیصد (70٪) پروگرام ادبی، ثقافتی، علمی اور سماجی نوعیت کے ہیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے شعرا، ادبا، فنکاروں، کھلاڑیوں، صحافیوں، سماجی کارکنوں، تعلیم و صحت کے ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو متعارف کرایا جاتا ہے اور ان کی زندگی، خدمات اور کارناموں کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ ان شخصیات کو وقتاً فوقتاً ایوارڈز سے بھی نوازا جاتا ہے، جو تخلیقی اور سماجی خدمت کے تسلسل کو یقینی بناتا ہے۔
افغان ٹیلی وژن نے اپنے معیاری ادبی پروگراموں مثلاً زندگی کتاب کتاب، ادبی جرگے اور مکالمے، پشتونخوا پلوشے، ادب کور، پشتو زبان کے ننگیالی اور جھلکتا ستارہ کے ذریعے پشتو ادب کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ان پروگراموں کو کتابی شکل میں بھی شائع کیا گیا اور ان کی رونمائی باوقار ایوارڈ تقریبات میں ہوئی، جس سے الیکٹرانک میڈیا اور طباعتی ادب کے درمیان ایک خوبصورت فکری پل قائم ہوا۔
اس کے علاوہ افغان ٹیلی وژن معروف ادبی و سماجی شخصیات کے انٹرویوز، مشاعرے، فکری نشستیں اور سماجی مسائل پر مباحثے بھی پیش کرتا ہے۔ اس چینل کی سالانہ ایوارڈ تقریب درحقیقت ایک ادبی، ثقافتی اور سماجی میلہ ہوتی ہے جس میں معاشرے کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔
افغان ٹیلی وژن ایوارڈز کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ ایوارڈز معاشرے کے مختلف شعبوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ادب کے شعبے میں ان شاعروں اور ادیبوں کو سراہا جاتا ہے جنہوں نے پشتو ادب کی فکری، جمالیاتی اور موضوعاتی وسعت میں نمایاں کردار ادا کیا ہو۔ یہ تخلیقی شخصیات اپنے قلم، فکر اور احساس کے ذریعے نہ صرف ادب کو مالا مال کرتی ہیں بلکہ معاشرتی شعور کی بلندی کا باعث بھی بنتی ہیں۔
نعت و حمد کے زمرے میں ان شعرا کو اعزاز دیا جاتا ہے جنہوں نے عقیدت، روحانیت اور فکری پاکیزگی کا اظہار منظوم انداز میں کیا اور پشتو زبان کے ذریعے دینی جذبات کی خوبصورت اور باوقار ترجمانی کی۔
سماجی خدمت ہر مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ افغان ٹیلی وژن اس شعبے میں ان شخصیات کو سراہتا ہے جنہوں نے انسان دوستی، فلاح، اصلاح اور خدمت کے میدان میں عملی کردار ادا کیا ہو، اور بغیر کسی نمود و نمائش کے لوگوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا کی ہوں۔
صحافت اور ثقافت کے شعبے میں ان شخصیات کو اعزاز دیا جاتا ہے جنہوں نے قلمی سچائی اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے حقیقت، شعور اور شناخت کا دفاع کیا۔ اسی طرح کھیلوں کے میدان میں ان کھلاڑیوں کو سراہا جاتا ہے جنہوں نے مثبت اور صحت مند سرگرمیوں کے ذریعے نوجوان نسل کو امید اور حوصلے کا پیغام دیا۔
صحت اور کمیونٹی سروسز کے شعبے میں ان افراد کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے انسانی زندگی، صحت اور عزتِ نفس کے لیے عملی خدمات انجام دی ہوں۔ ڈرامہ اور فنونِ لطیفہ میں بھی ان فنکاروں کو سراہا جاتا ہے جو فن کے ذریعے تفریح کے ساتھ ساتھ سماجی شعور اور اصلاح کو فروغ دیتے ہیں۔
اسی طرح آرٹ، ڈیجیٹل ٹیلنٹ اور تعلیم و تحقیق کے شعبوں میں ان شخصیات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جنہوں نے تخلیق، جدت، علم اور تحقیق کے ذریعے معاشرے کے فکری اور تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط کیا۔ کاروباری شخصیات کو بھی اعزاز دینا پشتون خطے کی معیشت سے محبت کا اظہار ہے۔
افغان ٹیلی وژن ایوارڈز کی روایت میں گزشتہ برس ایک خصوصی اعزاز بھی شامل تھا، جو انسانی عظمت اور بے لوث خدمت کی علامت تھا۔ یہ اعزاز اس شخصیت کو دیا گیا جس نے اعضا عطیہ کرنے جیسا عظیم انسانی عمل انجام دیا، اور یہ پیغام دیا کہ انسانیت ہر شناخت اور ہر نظریے سے بالاتر ہے۔
مجموعی طور پر افغان ٹیلی وژن کی سالانہ ایوارڈ تقریب محض ایک تقریب نہیں بلکہ ادب، ثقافت، خدمت، شعور اور انسانیت کا ایک جشن ہے۔ یہ تقریب اس حقیقت کو ثابت کرتی ہے کہ اگر میڈیا اخلاص، واضح وژن اور سماجی احساس کے ساتھ کام کرے تو وہ معاشرے کی فکری سمت درست کر سکتا ہے اور مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ افغان ٹیلی وژن محض ایک ٹی وی چینل نہیں بلکہ پشتو زبان، ادب، ثقافت اور انسانی اقدار کی ایک فعال تحریک ہے۔ امید ہے کہ یہ ادارہ مستقبل میں بھی اپنے معیار، وقار اور شعوری جدوجہد کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے گا اور پشتون معاشرے کے لیے فخر اور روشنی کا ذریعہ بنا رہے گا۔ انسانی کاموں میں کمی بیشی فطری عمل ہے، البتہ ادارہ جاتی خود احتسابی اداروں کے وقار اور اثر میں مزید اضافہ کرتی ہے۔
اس سال کے ایوارڈ حاصل کرنے والوں کے نام درج ذیل ہیں، جن کے نام ہی ان کے کام، محنت اور معیار کی گواہی دیتے ہیں:
نادر درپہ خیل، سراج خٹک، احمد جان مروت، طارق محمود دانش، سعادت سحر، حیران داوڑ، حمداللہ جان بسمل، ڈاکٹر کلیم شنواری، غزل مومند، محبوب گل یاسر، ڈاکٹر فقیر محمد فقیر، فجی گل فجی، خالد حسرت، گوہر نوید، زر نوش شهاب، ظریف خان ہمنوائی، سعید ساحل، لعل زادہ ساگر، اظہار احمد اظہار، حکیم اللہ ساکن، مختیار احمد شاہین، ایم آر شفق، بصیر بیدار ستوری، فیروز آفریدی، محمد عابد خان، عرفان خٹک، اطلس گل اطلس، سرفراز مومند، قاری ابراہیم، عادل خان، فضاء حسین، شمیم شاہد، عبداللہ شاہ بغدادی، اعجاز خان، ملائکہ نور، توقیر علی، ڈاکٹر محمد اظہار، رحمان اللہ جان، فلم اسٹار عجب گل، اسماعیل شاہد، زرداد بلبل، ہما خان، علینہ خان، وردہ سلطان، عشرت بانو، ڈاکٹر بشریٰ خان، واجد علی شنواری، قدسیہ بانو، ڈاکٹر نرگس جمیلہ، جواد خان، محمد اجمل


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International