rki.news
محمد طاہر جمیل — دوحہ، قطر
ہمارے معاشرے سے رواداری تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہے اور اس کی جگہ عدم برداشت، غصے اور تشدد نے لے لی ہے۔ رواداری (Tolerance) ایک ایسا اعلیٰ اخلاقی اور سماجی رویہ ہے جو انسان کو دوسروں کے اختلافِ رائے، عقائد، رویّوں اور کمزوریوں کو برداشت کرنے اور ان کا احترام کرنا سکھاتا ہے۔ یہ مختلف سوچ رکھنے والوں کو قبول کرنے، غصے کے بجائے صبر سے کام لینے اور اختلاف کے باوجود نفرت سے بچنے کا شعور عطا کرتی ہے۔
بدقسمتی سے عدم برداشت اور معمولی باتوں پر الجھنے کے باعث لوگ اپنے گھر، خاندان اور تعلقات تباہ و برباد کر رہے ہیں۔ اسی عدم برداشت کی ایک دردناک مثال حالیہ دنوں کراچی کے علاقے کلفٹن میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ ہے، جہاں شادی کے صرف تین دن بعد دولہا قتل ہو گیا اور اس کی بہن کو طلاق کا سامنا کرنا پڑا۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ دولہا کے تایا نے شادی کے تیسرے دن اپنی کوٹھی میں نوبیاہتا جوڑے اور رشتہ داروں کے اعزاز میں دعوت کا اہتمام کیا۔ دعوت کے دوران خاندان کے لڑکے لڑکیاں ڈانس کر رہے تھے۔ اسی اثنا میں دولہا کے بہنوئی نے دلہن (جو اس کی کزن بھی تھی) کا ہاتھ پکڑ کر اسے ڈانس فلور پر لے آیا۔ یہ بات دولہا کو ناگوار گزری۔ اس نے غصے کے عالم میں بہنوئی سے سخت لہجے میں بات کی اور دلہن کو واپس اپنی جگہ پر لے آیا۔
بہنوئی نے اسے اپنی توہین سمجھا اور شدید غصے میں اپنی بیوی کو کمرے میں لے گیا، جہاں لڑائی جھگڑا اور شور و شرابہ شروع ہو گیا۔ اس دوران اس نے اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھایا۔ دولہا جب کمرے میں داخل ہوا تو اس نے بہنوئی کو دھکا دیا۔ نتیجتاً بہنوئی نے غصے میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور بعدازاں دولہے کو ہال میں لے جا کر زور سے دھکا دیا، جس سے وہ شیشے کی میز پر جا گرا۔ شیشے کے ٹکڑے اس کے سر میں پیوست ہو گئے۔ اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، مگر وہ جانبر نہ ہو سکا۔
یوں غصے، عدم برداشت اور باہمی الجھاؤ نے ایک دلہن کو بیوہ، ایک بہن کو مطلقہ، ایک خاندان کو برباد اور ایک شخص کو قاتل بنا دیا۔
رواداری، برداشت، صبر اور ایک دوسرے کو قبول کرنے سے ہی معاشرے کو پُرامن، مہذب اور مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ آج ہمارا معاشرہ ایک عجیب کشمکش میں مبتلا ہے۔ کوئی کسی کی بات سننے کو تیار نہیں۔ میاں بیوی ہوں، بھائی بھائی، بہن بھائی، باپ بیٹا یا ماں بیٹی ، ہر رشتہ تناؤ کا شکار ہے۔ دوست اور ساتھی بھی ایک دوسرے سے الجھتے نظر آتے ہیں۔ لین دین میں چند روپوں کے تنازع پر گریبان پکڑ لیتے اور تشدد کرتے ہیں۔ شادیاں چند دنوں میں ناکامی کا شکار ہو جاتی ہیں اور بے مقصد جھگڑوں کا انجام طلاق پر ہوتا ہے۔ دشمنیاں نسلوں تک چلتی ہیں، اور ان تمام مسائل کی جڑ رواداری کا فقدان ہے۔
اگر ہم واقعی رواداری کو اپنانا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے سامنے والے کی سننا ہوگی ،دوسروں کا نقطہ نظر سننے کی عادت ڈالنی ہوگی، لوگوں سے حسنِ سلوک کے ساتھ پیش آنا ہوگا اور عاجزی اختیار کرنی ہوگی۔ یہ کمزوری نہیں بلکہ اعلیٰ ظرفی اور مضبوط کردار کی علامت ہے۔ رواداری کو شعار بنا لیا جائے تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں اور معاشرہ امن، محبت اور بھائی چارے کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
رواداری انسان کو یہ شعور دیتی ہے کہ ہر شخص ایک جیسا نہیں سوچتا اور اختلاف فطری ہے۔ اصل کمال یہ ہے کہ اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے بات چیت اور برداشت کے ذریعے حل کیا جائے۔ جو قومیں رواداری کو اپناتی ہیں وہ ترقی، امن اور استحکام کی راہ پر گامزن رہتی ہیں۔
اسلام ایک دینِ رحمت ہے، جس کی تعلیمات رواداری، برداشت اور عفو و درگزر سے لبریز ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت رواداری کا عملی نمونہ ہے۔ فتحِ مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے اپنے بدترین دشمنوں کو معاف فرما دیا۔ طائف میں پتھر مارنے والوں کے لیے بددعا کے بجائے ہدایت کی دعا فرمائی۔ غیر مسلموں کے ساتھ بھی آپ ﷺ کا رویہ عدل، احترام اور حسنِ سلوک پر مبنی تھا۔ یہی حقیقی رواداری ہے۔
امام شافعیؒ کا قول ہے:
“میری رائے درست ہے مگر غلط بھی ہو سکتی ہے، اور دوسرے کی رائے غلط ہے مگر درست بھی ہو سکتی ہے۔”
رواداری کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرے، بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ دوسروں کو ان کے اصولوں پر عمل کرنے کا حق دیا جائے۔
تعلیم انسان کو ہمدردی اور دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھنا سکھاتی ہے۔ کاروباری دنیا میں لوگ کام کی خاطر ایک دوسرے کو قبول کرنا سیکھ جاتے ہیں، چاہے ان کے نظریات کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں۔ مختلف ممالک اور ثقافتوں سے واسطہ پڑنے پر ذہن کے بند دروازے کھلتے ہیں، تعصبات کم ہوتے ہیں اور انسان غصے کے بجائے عقل اور صبر سے کام لینا سیکھتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم دوسرے مذاہب اور عقائد کا احترام کریں، ہر فرد کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی دیں، اور رنگ، نسل، زبان اور طبقے کے فرق کو بالائے طاق رکھ کر انسانیت کی بنیاد پر سب کو برابر سمجھیں۔ مختلف سیاسی نظریات رکھنے والوں کے ساتھ دشمنی کے بجائے جمہوری انداز میں تعمیری گفت و شنید کریں۔
انسانی معاشرے میں امن اور سکون برقرار رکھنے کے لیے رواداری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ آج کے پُرآشوب دور میں اس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ عدم برداشت، انتہا پسندی اور جلد بازی نے معاشروں کو انتشار میں مبتلا کر دیا ہے۔
آخر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ رواداری انسان کو بڑا دل عطا کرتی ہے، تعلقات کو مضبوط بناتی ہے اور معاشرے کو ٹوٹ پھوٹ سے بچاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی روزمرہ زندگی میں رواداری کو شعار بنائیں، دوسروں کی بات تحمل سے سنیں اور اختلاف کے باوجود احترام کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صبر، برداشت اور رواداری کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ایک پُرامن اور مہذب معاشرہ قائم کرنے کا ذریعہ بنائے۔
آمین۔
Leave a Reply