rki.news
تحریر: فخرالزمان سرحدی، ہری پور
تعلیم انسانیت کی تعمیر و تشکیل نو میں سب سے اہم ستون ہے۔ یہ صرف کتابی علم تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے اصول سکھا کر انسان کو با مقصد، باوقار اور با کردار بناتی ہے۔ علم کی روشنی انسان کے دل و دماغ کو منور کرتی ہے، اور تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر کے الفت و محبت کے حقیقی جلوے آشکار کرتی ہے۔
عالم اسلام میں علم کی اہمیت اور طلبِ علم کا شوق صدیوں سے روشن چراغ کی مانند ہے۔ تعلیم نہ صرف فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سماجی ترقی کی ضامن ہے بلکہ انسانی رشتوں کی قدر و قیمت کا شعور بھی عطا کرتی ہے۔ معلم تو رہنمائی کا ستون ہے، لیکن سماج کے ہر فرد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ علم کے زیور کو اپنے عمل سے مزین کرے۔ ایک منظم اور مضبوط تعلیمی نظام انسان کو نہ صرف اصولِ زندگی سکھاتا ہے بلکہ امن، سلامتی اور خوشیوں کی روشنی بکھیرنے کا ہنر بھی عطا کرتا ہے۔
“افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ”
مدارس اور تعلیمی ادارے علم کے فروغ میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ اصلاح نفس اور نافع علم انسان میں احترام انسانیت، شفقت اور دوسروں کی ضروریات کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ دکھ اور غم کے بوجھ تلے دبے انسان کی خدمت، ہمدردی اور محبت وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔ تعلیم کے ذریعے ایک ہلکی سی مسکراہٹ بھی بے شمار دلوں میں امید کی روشنی جگا سکتی ہے۔
سماج کی تعمیروترقی میں حسن گفتار، شائستہ رویہ اور نرمی مزاج کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔ تعلیم انسان کو قوتِ برداشت، فکر و عمل اور اخلاقی شعور عطا کرتی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق دوسروں کی ضروریات پوری کرنا، معاشرتی دکھ درد میں شریک ہونا اور انصاف کے تقاضے پر عمل کرنا حقیقی ترقی کا ضامن ہیں۔ انسانی عزت و احترام کا بنیادی سرچشمہ پیغمبر اسلام ﷺ کا منشور انسانیت ہے، جس میں حقوق اللہ، حقوق العباد، بزرگوں کا احترام، چھوٹوں پر شفقت اور دوسروں کی رائے کا لحاظ شامل ہے۔
زندگی کے چمن میں بہار نیکیوں سے آتی ہے۔ نسلی اور خاندانی امتیازات سماج کو تقسیم کرتے ہیں، لیکن تعلیم بہترین فکر کے ذریعے بکھرے ہوئے دانوں کو یکجا کرنا سکھاتی ہے۔
“جس کا عمل ہے بے غرض، اس کی جزا کچھ اور ہے
حوروخیام سے گزر، باده و جام سے گزر”
سیرت و کردار کی خوبصورتی تعلیم کے احسن عمل سے ممکن ہوتی ہے۔ یہ انسان کو حرص و ہوس سے دور کر کے معراج انسانیت عطا کرتی ہے اور یہ شعور بخشتی ہے کہ انسان کی دنیا میں آمد کا اصل مقصد عبادت الٰہی ہے۔ اخلاقیات اور عبادات سے زندگی معنویت اور خوبصورتی اختیار کرتی ہے، اور اجتماعی سوچ سے سماج میں امن و سلامتی کی روشنی پھیلتی ہے۔
علم کا بنیادی سرچشمہ قرآن ہے، جس کے مطالعے سے انسانی شعور میں روشن خیالی، بصیرت اور فکری ارتقاء آتا ہے۔
“گفتار میں، کردار میں اللہ کی برہان”
تعلیم معاشرتی حسن اور ہم آہنگی قائم رکھتی ہے اور ہر فرد کو معاشرہ کی تعمیر و خدمت میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ الفت و محبت کے تقاضے یہی ہیں کہ دوسروں کا احترام کیا جائے، لسانی اور خاندانی رشتوں میں ہم آہنگی قائم رکھی جائے، اور ہر عمل میں نیکی، اخلاق اور عدل کی راہ اختیار کی جائے۔
“تو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا رازداں ہو جا، خدا کا ترجمان ہو جا”
تعلیم کے بے شمار فوائد ہیں: معراج انسانیت، ذمہ داری، فرض شناسی، حسن اخلاق، ادب و آداب، احساس تنہائی کا خاتمہ اور اجتماعی زندگی میں ہم آہنگی تعلیم کے زیور سے حاصل ہوتے ہیں۔
Leave a Reply