Today ePaper
Rahbar e Kisan International

کامیابی آپ کا انتظار کر رہی ہے

Articles , Snippets , / Wednesday, January 21st, 2026

rki.news

بہت دن گزر چکے تھے، وہ اپنے باپ کے کمرے میں نہیں آیا تھا۔ آج وہ اپنے باپ کے کمرے میں آیا اور بیڈ کے نزدیک کرسی پر بیٹھ گیا۔

کمرے میں وہی پرانی الماری، وہی بیڈ، وہی دیوار پر لٹکی پرانی گھڑی جو وقت سے ہمیشہ پانچ منٹ پیچھے رہتی ہے۔ اسی طرح موجود تھی کہ جیسے وہ اپنے بچپن میں دیکھا کرتا تھا۔

باپ بستر پر لیٹا دھیمی سانسیں لے رہا ہے اور وہ کرسی پر بیٹھ کر بار بار موبائل اسکرین دیکھتا ہے، لاک کرتا ہے اور پھر دیکھتا ہے۔

باپ نے آہستہ سے کہا:
“تمھیں دیر ہو رہی ہے”
اس نے نظریں اٹھائے بغیر کہا:
“نہیں ابو، بس آپ کی دوا کے بعد جانا ہے”

باپ مسکرایا۔
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد باپ نے پوچھا:
“کام ٹھیک چل رہا ہے؟”
اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا:
“جی ابو! ترقی بھی ہو گئی ہے”

باپ کی آنکھوں میں ایک چمک آئی اور کہا:
“پھر اب شادی کا سوچو”
اس نے ہلکا سا سر ہلایا۔
یہ جملہ وہ اس سے پہلے بارہا سن چکا تھا۔

کمرے میں گھڑی کی ٹک ٹک صاف سنائی دے رہی تھی۔
باپ نے دیوار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
“میں نے بھی یہی سب کیا تھا۔ پہلے پڑھائی، پھر نوکری، پھر شادی اور پھر تم”

ایک لمحے کےلئے بولتے بولتے رک گیا اور پھر آہستہ سے بولا:
“اور اب ۔۔۔۔۔”

وہ چونکا اور اس نے چونکتے ہوئے باپ سے پوچھا:
“اور اب کیا؟ ابو!”

باپ نے چھت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
“اب بس سانسیں بیٹا”

وہ خاموش ہو گیا۔
باپ نے آنکھیں بند کر لیں، جیسے کوئی پرانی فائل کو کھول رہا ہو۔
پھر باپ نے خاموشی توڑتے ہوئے ایک سرد آہ بھری اور کہا:
“تمھارے دادا مجھے کہتے تھے کہ جب تم بڑے ہو جاؤ گے تو مجھے سکون ملے گا۔۔۔۔”
“مجھے کبھی وہ سکون نہیں ملا”

وہ بے چین ہو گیا اور کہا:
“ابو ایسی باتیں نہ کریں”

باپ نے اپنے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا:
“میں شکایت نہیں کر رہا ہوں بلکہ صرف ایک دائرہ دیکھ رہا ہوں”

اس نے پوری توجہ سے باپ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
“دائرہ؟”

باپ نے آہستہ سے کھلتی اور بند ہوتی ہوئی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
“ہم سب ایک ہی جگہ سے چلتے ہیں ۔۔۔۔ کسی کی انگلی تھام کر اور آخر میں وہیں واپس آ جاتے ہیں جہاں سے چلے تھے۔”
“فرق ہے تو صرف اتنا کہ درمیان میں ہم خود کو بہت مصروف رکھ لیتے ہیں”

کمرے میں ہوا جیسے تھم گئی ہو۔
باپ نے مایوسی بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:
“میں نے سوچا تم کام یاب ہو جاؤ گے تو میں مطمئن ہو جاؤں گا۔”
“پھر میں نے سوچا تمھاری شادی ہو گی تو مجھے سکون ملے گا”

ایک گہری سانس لیتے ہوئے اپنا جملہ بڑی مشکل سے مکمل کرتے ہوئے کہا:
“پھر میں نے سوچا تمھارے بچے ہوں گے تو زندگی مکمل ہو جائے گی”

ایک لمحے کےلئے اس کا باپ خاموش ہو گیا۔
رک کا مسکرایا اور کہا:
“پھر مجھ پر ایک راز کھلا کہ خواہشیں کبھی مکمل نہیں ہوتیں۔ ہم صرف ان کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں اور آخر کار بھاگ بھاگ کر تھک جاتے ہیں”

اس کے ہاتھ میں موبائل بے وزن ہونے لگا۔
وہ پہلی بار پوری توجہ سے اپنے باپ کی باتیں سن رہا تھا۔

باپ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
“تم بھی یہی سب کرو گے
اور ایک دن تم بھی اسی بستر پر لیٹے ہوئے کسی اور کو یہی بات بتا رہے ہو گے”

اس نے موبائل کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا:
“تو پھر فائدہ کیا ہوا ابو؟”

اس کے باپ نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا یا شاید اس سوال کا اس کے پاس کوئی جواب تھا ہی نہیں۔
وہ اپنے باپ کے قریب آ کر بیٹھ گیا۔
اسے محسوس ہوا کہ اس کا باپ بہت تھکا ہوا ہے۔

باپ نے آہستہ سے اس کا ہاتھ تھاما اور کہا:
“تم مجھے نا کامیاب نہیں لگتے
مگر میں خود کو مکمل طور پر کام یاب بھی نہیں کہہ سکتا”

گھڑی نے بارہ بجائے۔ وہ اٹھا۔
دوا دی۔ کمبل ٹھیک کیا۔
دروازے پر جا کر پیچھے مڑ کر دیکھا تو باپ آنکھیں بند کر چکا تھا۔

وہ باہر آیا۔
لوگ آ جا رہے تھے۔ کوئی ہنستا ہوا، کوئی روتا ہوا، کوئی موبائل پر مصروف تو کوئی خاموش۔
وہ محسوس کر پا رہا تھا کہ ہر چہرہ کسی نہ کسی جلدی میں ہے۔
جیسے سب کو کہیں نہ کہیں پہنچنے کی جلدی ہو اور معلوم نہ ہو کہ آخر پہنچنا کہاں ہے۔

باہر سڑک پر بہت زیادہ ٹریفک تھا۔
ہارن، شور، رفتار۔
ایک لڑکا موٹر سائیکل پر بیٹھا اپنے باپ سے فون پر کہہ رہا تھا:
“ابو بس دو سال اور ۔۔۔۔۔ پھر سب ٹھیک ہو جائے گا”

ایک عورت اپنے بچے کو ڈانٹ رہی تھی:
“پڑھو گے نہیں تو کچھ نہیں بنو گے”

ایک بوڑھا شخص سڑک کنارے بیٹھا خالی آنکھوں سے گاڑیوں کو دیکھ رہا تھا۔

آج سے پہلے یہ سب چیزیں اس نے اس نظر سے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ اسے لگا جیسے اپنے باپ کو ہر چہرے میں دیکھ رہا ہو۔

ایک لمحے کےلئے اسے خیال آیا کہ وہ واپس مڑ جائے۔ اپنے باپ کے پاس بیٹھ جائے۔
اور کہے:
“میں نہیں دوڑوں گا”

اسے فورا احساس ہوا کہ یہ جملہ کہا تو جا سکتا ہے لیکن اس کو جیا نہیں جا سکتا۔

موبائل پر میٹنگ کےلئے نوٹیفکیشن بیل بجتی ہے۔
ادھر گاڑی پہنچ جاتی ہے۔

گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ایک اشتہار پر اس کی نظر پڑتی ہے۔
جس پر لکھا ہوتا ہے:
“کامیابی آپ کا انتظار کر رہی ہے”

پارس شاہ


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International