اردو و فارسی ادب کے آفتابِ تاباں، مرزا اسد اللہ خان غالبؔ کی ہمہ گیر ادبی عظمت اور لازوال فکری وراثت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے قطر کی قدیم ترین اردو ادبی تنظیم بزمِ اردو قطر (قائم شدہ 1959) کے زیرِ اہتمام 16 جنوری بروز جمعہ کو دوحہ کے معروف ہوٹل کراؤن پلازا کے وسیع منار
ہال میں ایک نہایت شکوہ آفریں، باوقار اور یادگار عالمی مشاعرہ منعقد ہوا۔ یہ محفلِ سخن اہلِ ذوق کے لیے ایک روح پرور اور دل نواز اجتماع ثابت ہوئی، جہاں روایت، جمالیات اور فکری بالیدگی کا حسین امتزاج پوری آب و تاب سے جلوہ گر تھا۔اس عظیم الشان ادبی محفل میں شعر و سخن سے شغف رکھنے والے نامور دانشوران، اہلِ قلم، نقادانِ ادب اور ادب نواز شخصیات کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ مشاعرے میں شریک سترہ شعرائے کرام میں سے دس شعرا دنیا کے مختلف ممالک ہندوستان، پاکستان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور امریکہ سے تشریف لائے اور اپنے فکر آفریں کلام کے ذریعے شبِ مشاعرہ کو نورِ شعور و آگہی سے منور کیا۔ جب کہ قطر میں مقیم منتخب میزبان شعرا نے بھی اپنے اعلیٰ فن کے جواہر نچھاور کر کے محفل میں چار چاند لگا دیے۔ یوں یہ ادبی محفل حقیقی معنوں میں اردو زبان و ادب کی عالمی نمائندہ بن کر سامنے آئی۔
یہ عظیم الشان مشاعرہ فکرِ غالبؔ کے محور پر ترتیب دیا گیا تھا جس کے ایک حصے میں انیسویں صدی کی کلاسیکی اردو شاعری، بالخصوص مرزا غالبؔ اور مومن خان مومنؔ کے منتخب کلام کی دل نشیں اور مترنم قرأت پیش کی گئی، جس نے سامعین کو اردو کی کلاسیکی روایت کی لطافتوں، فکری گہرائیوں اور جمالیاتی محاسن سے روشناس کرایا۔ دوسرے حصے میں عالمی مشاعرہ منعقد ہوا، جو دیر تک اہلِ ذوق کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔
اس با وقار مشاعرے کی صدارت شاعرِ خلیج و فخر المتغزلین جلیل نظامی نے فرمائی، جن کے علمی وقار، ادبی مرتبے اور ہمہ گیر شخصیت نے محفل کو وقار و جلال بخشا۔ نظامت کے فرائض ممتاز نثر نگار، صاحبِ اسلوب خاکہ نگار اور چیئرمین بزمِ اردو قطر، ڈاکٹر فیصل حنیف نے نہایت خوش اسلوبی، متانت اور سلیقہ مندی کے ساتھ انجام دیے۔ اس یادگار عالمی مشاعرے کو مزید جِلا ہندوستان کے کہنہ مشق اور نامور شاعر راجیش ریڈی، ممتاز پاکستانی ٹی وی اینکر و شاعر وصی شاہ اور معروف شاعر و نقاد و دانشور اختر عثمان کی بطورِ مہمانانِ خصوصی شرکت سے ملی۔ اسی طرح ہندوستان سے منفرد لب و لہجہ کے نوجوان شاعر ڈاکٹر محب وفا، پاکستان سے مشہور مصور و شاعر عدنان بیگ اور خوش فکر شاعر و ادیب ڈاکٹر شہباز نیّر، امریکہ سے فعال شاعرہ حمیرا گل تشنہ، متحدہ عرب امارات سے مترمم نوجوان شاعر شہباز شمسی اور سعودی عرب سے با وقار شاعر حسان عارفی کی بطورِ مہمانانِ اعزازی شرکت نے اس ادبی اجتماع کی وقعت اور معنویت میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔ بزمِ اردو قطر کے صدر رفیق شاد اکولوی اور جنرل سکریٹری افتخار راغب نے شعرائے کرام کا اسٹیج پر استقبال کیا۔ تقریب کا آغاز قاری عبد الملک فلاحی کی پرسوز اور روح پرور تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد مشاعرہ کوآرڈینیٹر ارشاد احمد نے شرکائے محفل کو انتظامی و حفاظتی ہدایات سے آگاہ کیا۔ مشاعرے کا باضابطہ افتتاح جلیل نظامی کی دل میں اتر جانے والی نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا، جس نے محفل کے روحانی و وجدانی ماحول کو دوچند کر دیا۔ بعد ازاں رفیق شاد اکولوی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے بزمِ اردو قطر کی علمی، ادبی اور تہذیبی خدمات پر مفصل روشنی ڈالی اور اس امر کو واضح کیا کہ یہ ادارہ قطر میں اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ایک فعال اور مؤثر ادبی تربیت گاہ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جہاں روایت کی پاسداری، فکر کی شفافیت اور اظہار کی شائستگی باہم آہنگ ہو کر ایک باوقار ادبی روایت کو پروان چڑھارہی ہے۔
مرزا غالبؔ کی ادبی عظمت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے پروگرام کے ابتدائی حصے میں کلاسیکی شاعری کی قرأت پیش کی گئی، جہاں شہباز شمسی نے اپنی مترنم اور خوش الحان آواز میں مومن خان مومنؔ کی منتخب غزل پیش کر کے سامعین کو وجد آفریں کیفیت سے ہمکنار کر دیا۔ باضابطہ ناظمِ مشاعرہ ڈاکٹر فیصل حنیف نے اپنے شگفتہ و سنجیدہ اسلوب میں غالبؔ کے منتخب اشعار کو حوالہ بناتے ہوئے شاعر کی فکری رفعت، لفظی صناعی اور تخلیقی عظمت کو نہایت دل نشیں انداز میں اجاگر کرتے ہوئے مشاعرے کی کاروائی کو آگے بڑھایا۔ مشاعرہ کوآرڈینیٹر سانول عباسی نے مہمان شعرا کا تعارف کراتے ہوئے ان کے ادبی سفر، فکری رجحانات اور شعری خدمات پر جامع اور بلیغ روشنی ڈالی۔ مشاعرے میں شریک ممتاز شعرائے کرام اظفر گردیزی، سانول عباسی، مشفق رضا نقوی، سید فیاض بخاری عرف کمال شہ میری، شہباز شمسی، جمشید انصاری، حسان عارفی، ڈاکٹر محب وفا، افتخار راغب، ڈاکٹر شہباز نیّر، حمیرا گل تشنہ، رفیق شاد اکولوی، وصی شاہ، عدنان بیگ، اختر عثمان، راجیش ریڈی اور جلیل نظامی نے اپنے اپنے منفرد اسلوب میں ایسا سحر طاری کیا کہ سامعین بار بار داد و تحسین کے نذرانے پیش کرنے پر مجبور ہوتے رہے اور مشاعرے کا آہنگ بلند ہوتا رہا۔ جہاں ہندوستان سے تشریف لائے نوجوان شاعر ڈاکٹر محب وفا نے اپنی منفرد و معنی آفرینی سے لبریز شاعری سے سامعین کو چونکایا وہیں پاکستان کے مایہ ناز شاعر اختر عثمان کو ان کی فکری گہرائی، جذباتی صداقت اور پُراثر ترسیلِ خیال پر خصوصی پذیرائی حاصل ہوئی۔ جب کہ وصی شاہ اپنی رومانوی حسیت، پختہ شعری لہجے اور دل آویز ادائیگی کے باعث محفل کی مرکزِ نگاہ رہے۔ ہندوستان کے ممتاز شاعر راجیش ریڈی نے اپنی شستہ زبان، منفرد صوتی آہنگ اور فکری توازن سے سامعین کو مسحور کر لیا، جب کہ صدرِ مشاعرہ شاعرِ خلیج جلیل نظامی نے اپنی کلاسیکی غزل گوئی اور مترنم انداز سے محفل کو عروج بخشا۔ تقریب کے اختتام پر شعرائے کرام اور بزمِ اردو قطر کے ذمہ داران کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔ بعد ازاں بزمِ اردو قطر کے نائب صدر فیروز خان نے نہایت پرتپاک، شائستہ اور بلیغ انداز میں کلماتِ تشکر پیش کیے۔ اس عظیم الشان ادبی اجتماع کی کامیابی میں مشاعرہ کوآرڈینیٹرز ارشاد احمد اور سانول عباسی کی تنظیمی کاوشیں لائقِ تحسین رہیں۔ انتظامی کمیٹی جس میں ڈاکٹر فیصل حنیف، رفیق شاد اکولوی، افتخار راغب، سید فیاض بخاری عرف کمال شہ میری اور اظفر گردیزی شامل تھے نے نظم و نسق اور انتظامی امور کو نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیا۔ بزمِ اردو قطر کے دیگر اہم اراکین جن میں فیروز خان، شمش الدین رحیمی، ڈاکٹر وصی الحق وصی، جمشید انصاری، شاہزیب شہاب، افسر عاصمی، وزیر احمد وزیر اور وسیم احمد شامل ہیں، کی بھرپور معاونت سے یہ عالمی مشاعرہ ایک شاندار ادبی کامیابی میں ڈھل گیا اور ادب دوست سامعین کے لیے ایک یادگار اور ناقابلِ فراموش محفل ثابت ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: شاہ زیب شہاب
سکریٹری نشر و اشاعت، بزم اردو قطر
Leave a Reply