rki.news
تحریر. ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
جا تو اب جی لے میری آہ کے سنگ
دنیا ہے کرب میں گناہ کے سنگ
ٹوٹتے دل کی بدعا کے سنگ
جتنا تو نے مجھے ستایا ہے
جتنا تو نے مجھے رلایا ہے
میری روتی ہوی نگاہ کے سنگ
اپنی سانسوں کو جا تو پورا کر
کسے بھی کرب انتہا کے سنگ
میں تیرے ساتھ ساتھ ہی چلتی
کسی بھی رنگ انتہا کے سنگ
تو نے جتنا مجھے ستایا ہے
تو نے جتنا مجھے رلایا ہے
ڈر میری آہ سے بدعا سے ڈر
جا تو اب جی لے میری آہ کے سنگ
جا سسکتا رہ تو کناروں پہ
کسی الفت یا کسی چاہ کے سنگ
عادل نے ماہا سے تعلق توڑتے ہوے ایک پل کو بھی نہ سوچا کہ اس کے نازک دل اور سپنوں کے تاج محل کا کیا ہوگا؟ عادل اور ماہا جنریشن زی کے ہیر رانجھا تھے، لیلیٰ مجنوں تھے، سسی پنوں تھے،سوہنی مہینوال تھے،رومیو جیولیٹ تھے، وہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہوئے، اٹھتے بیٹھتے ہوے، لڑتے جھگرتے ہوے اتنے پیارے لگتے کہ ایسے ہی لگتا تھا جیسے وہ کسی بدبخت حاسد کی نظر بد کا شکار ہو ہی جایں گے. وہ دو ہنسوں کا جوڑا، رحم دل، میٹھے میٹھے بول بولنے والے جنہوں نے مستقبل کے کتنے ہی سہانے سپنے بن رکھے تھے، اور یہ سپنے بننے والے خدا جانے اتنے معصوم کیوں ہوتے ہیں کہ انھیں یہ بات بالکل ہی بھول جاتی ہے کہ خواب ٹوٹ جاتے ہیں. تو ایسا ہی کچھ ماہا کے ساتھ بھی ہوا جب ایک دن اچانک ہی عادل نے اسے کہا کہ سوری میں تمہارے ساتھ چلنے سے قاصر ہوں اور ماہا کو بیچ منجدھار میں چھوڑ کر سمندر پار کر گیا. ماہا کا دل ٹوٹ کے کءی ٹکڑوں میں بٹ گیا، ہر ٹکڑے پہ دکھ اپنی ایک علیحدہ داستان کے ساتھ چوکڑی مارے بیٹھا تھا وہ سانس لیتی تھی مگر زندہ نہ تھی، اس کا دل دھڑکتا تھا مگر دل نے محبت کے خواب دیکھنے چھوڑ دییے تھے، اس کی آنکھیں دنیا کی بے ثباتی کا اس بری طرح سے شکار تھیں کہ پتھرا چکی تھیں اور پتھرای ہوی آنکھیں بھی کبھی دیدار یار کی تمنا میں ادھر سے ادھر کسی کھوج میں پر سر پیکار ہوی ہیں? . وہ جیتی رہی، جیتی گءی، مہ وسال کی گردش میں سوار، مگر سچ پوچھیے تو جس پل اس نے اپنے رانجھے کو کھو یا تھا وہ اسی پل ہی مر گءی تھی اس کے لبوں پہ اس شخص کے لیے بد عا تھی، ایک آہ تھی جس نے بچپن سے جوانی تک اسے آس و امید کے جھولے میں جھولے جھولاے اور پھر ایک دن اچانک بغیر کسی وضاحت اور بنا کسی تمہید کے اسے بے آسرا چھوڑ کے چلتا بنا. شاید اسے کوی دنیاوی لالچ تھا، وہ کسی سود و زیاں کی داستاں کا مرکزی کردار بننے کے لیے ایک معصوم دل کا خون کر کے اپنی نیا پار لگانے والا تھا، لیکن دل توڑ کے اپنی نیا پار لگانے والے شاید بھول ہی جاتے ہیں کہ کسی کا دل توڑ کر فایدہ تو کیا حاصل ہو گا، الٹا دن کا سکون اور رات کی نیند سے بھی ہاتھ دھونے پڑ جائیں گے تو عادل خالی الذہن ہو کر اپنے آفس بھی جاتا، فایلیں بھی نبٹاتا، چاے کے سپ بھی لگاتا اسکی پروموشن کے آرڈر بھی اس کو کوی خوشی نہ دے پاے، اس کی شادی بھی باس کی بیٹی سے ہو گءی شادی پہ اسے، اس کے سسر نے گاڑی اور بنگلے کے تحایف دییے مگر اس کی خوشی اور سکون ماہا کی بدعا اور آہ نے کھا لیا، وہ کنارے پہ جا کے بھی ویسے ہی بیچ منجدھار میں غوطے کھا رہا تھا، جیسے اس نے ماہا کو بیچ منجدھار میں بڑی بے رحمی، بڑی بے حیای اور بڑی بے غیرتی سے چھوڑ دیا تھا، بس تھوڑے سے دنیاوی فایدے اور وقتی نمود و نمایش کے لیے. اس کے گھر کے ہر کونے کھدرے میں ماہا کی آہوں اور بد عاوں نے اس کا سکون اور چین مکمل طور پر چھین لیا تھا. کسی ٹوٹے ہوے دل کی دعا اور آہ سے بچییے کیونکہ یہ آہ اور بدعا پتھروں کے سینے پھاڑ دیتی ہے.
ڈاکٹر پونم نورین گوندل لاہور
Punnam.naureenl@icloud.com
Leave a Reply