Today ePaper
Rahbar e Kisan International

پاکستان کی جغرافیائی تاریخ اور بحران۔

Articles , Snippets , / Sunday, January 25th, 2026

rki.news

قطر میں مقیم معروف سینئر صحافی اشرف صدیقی کا قطر ٹریبیون میں شائع مضمون بتاریخ 13/01/2026
ترجمہ۔ محمد طاہر جمیل دوحہ قطر

پاکستان کی افواج کو آج دنیا میں ایک مضبوط، انتہائی پیشہ ور اور مؤثر عسکری قوت کے طور پر دیکھاجاتاہے، جو انسدادِ دہشت گردی اور روایتی جنگ دونوں میں غیر معمولی مہارت رکھتی ہے۔ یہ اعزاز بھی پاکستان ہی کو حاصل ہے کہ وہ عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے، جو اس کی حکمت عملی کی اہمیت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے ہمسایہ ملک چین کے ساتھ دیرینہ حکمت عملی میں شراکت داری بھی نہایت اہم ہے، جس نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ کمزور معیشت کو سہارا دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

اپنے وقت کی ایک بڑی عالمی طاقت کے خلاف پنجہ آزمائی کا فیصلہ:
سرد جنگ کے عروج کے دور میں جب دو عالمی طاقتیں امریکہ اور سوویت یونین آمنے سامنے تھیں، سوویت یونین نے افغانستان پر یلغار (1979–1989) کردی۔ ابتدا میں مغرب کا ردِعمل خاصا محتاط اور کمزور رہا۔ امریکہ سمیت بیشتر مغربی دنیا بڑی حد تک خاموش تماشائی بنی رہی۔
تاہم پاکستان کے صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی عسکری قیادت نے سوویت افواج کی پیش قدمی سے پیدا ہونے والے سنگین خطرے کو بروقت سمجھ لیا۔ چونکہ سوویت یونین کو گرم پانیوں کی بندرگاہوں اور مشرقِ وسطیٰ میں اثر و رسوخ بڑھانے کا خواہاں سمجھا جاتا تھا، اس لیے جنرل ضیاء اور ان کے رفقاء نے ایک جرات مندانہ اور نہایت سوچا سمجھا فیصلہ کیا۔ افغانستان کے دشوار گزار جغرافیے اور پیچیدہ سماجی و قبائلی ڈھانچے کی گہری سمجھ بوجھ کی بنیاد پر انہوں نے سوویت یونین کو ایک طویل گوریلا جنگ میں الجھا دیا۔ یوں پاکستان میں ہونے والی جنگ اپنی سرزمین کے بجائے بیرونِ ملک لڑی۔

سفارت کاری، خطرناک حربے اور نو تعمیردنیا:
تقریباً دس برس تک پاکستان افغان مجاہدین کے شانہ بشانہ کھڑا رہا، انہیں تربیت، حکمتِ عملی کی رہنمائی فراہم کی اور چالیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو دہائیوں تک بغیر کسی بیرونی امداد کے پناہ دی۔ ابتدائی برسوں میں یہ تمام تر تعاون مغرب کی کسی براہِ راست عسکری مدد کے بغیر کیا گیا۔ بعد ازاں جنرل ضیاء الحق اور ان کے رفقاء کی مسلسل اور دانشمندانہ سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں مغربی ممالک قائل ہوئے اور پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے جدید اسلحہ فراہم کرنا شروع کیا۔
یہ فیصلہ کن امداد افغان مزاحمت کے لیے سوویت فوج کو تھکانے اور بالآخر شکست دینے کا ذریعہ بنی ۔ ایک ایسی شکست جس نے سوویت یونین کے انہدام اور مشرقی یورپ و وسطی ایشیا کی آزادی کی راہ ہموار کی۔ اس فتح کے عالمی اثرات اتنے گہرے تھے کہ انہوں نے دنیا کا نقشہ بدل دیا، حتیٰ کہ جرمنی کے اتحاد جیسے واقعات کی بنیاد بھی یہی بنی۔

اس کے باوجود عام بیانیہ اکثر اس کامیابی کا سہرا امریکہ کے سر باندھاجاتا ہے، جبکہ پاکستان کے فیصلہ کن کردار کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا ہے۔ اس میں ایک گہری ستم ظریفی پوشیدہ ہے۔ تقریباً دو دہائیوں کے بعد خود امریکہ اپنی جدید ترین عسکری قوت اور اتحادی افواج، مہلک ہتھیاروں اور ایک لاکھ سے زائد فوج کے باوجود اسی افغان سرزمین سے بیس سالہ جنگ کے بعد شکست تسلیم کر کے نکلنے پر مجبور ہوا۔
امریکی فتح کی یہ سادہ اور یک رخی کہانی دانستہ طور پر پروان چڑھائی گئی ۔کتابوں ، فلموں (خصوصاً بالی وڈ) کے ذریعے پھیلائی گئی، اور اسے پاکستان اور امریکہ دونوں ملکوں میں بعض حلقوں کے ذریعے دہرایا جاتا ہے ۔ افسوس کہ اس طویل بیانیے نے پاکستان کی مسلح افواج اور انٹیلی جنس اداروں کی تاریخ کی ایک عظیم کامیابی کو دھندلا دیا۔

ایک دور کا پراسرار اختتام:
افسوسناک طور پر، سوویت انخلا کے فوراً بعد جنرل ضیاء الحق تقریباً تیس اعلیٰ فوجی افسران، پاکستان میں امریکی سفیر اور امریکی دفاعی اتاشی سمیت بہاولپور کے قریب ایک پراسرار طیارہ حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ ان کی وفات نے پاکستان کی حکمت عملی کی تاریخ کے ایک فیصلہ کن دور کا اچانک خاتمہ کر دیا۔
جنرل ضیاء کی قیادت میں فوج اور خفیہ اداروں کی غیر معمولی کارکردگی نے پاکستان کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دلایا اور اس کی حکمت عملی کی گہرائی اور عملی صلاحیتوں کو مستحکم کیا۔ اگرچہ 1978 سے 1988 تک ان کا دورِ حکومت جو پاکستان کی طویل ترین فوجی حکمرانی تھی اب بھی متنازع سمجھا جاتا ہے لیکن ان کی وفات پر عوامی غم و غصہ اور سوگ بے مثال تھا۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں ان کے جنازے میں لاکھوں افراد نے شرکت کی جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع مانا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں، حتیٰ کہ مکہ مکرمہ میں خانہ کعبہ، مدینہ منورہ میں مسجد نبویؐ، قطر اور دیگر بڑے شہروں میں بھی ان کے لیے غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ یہ ایک ایسے رہنما کو منفرد اور پر وقار خراجِ عقیدت تھا جس نے عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو گہرے طور پر متاثر کیا۔

ایک مصنوعی طوفان، آزادی کے نام پر سیاسی منصوبہ:
بہت سے تجزیہ کار آج کے جغرافیائی و سیاسی منظرنامے کو حکمت عملی کے روک تھام کے تناظر میں دیکھتے ہیں، جسے امریکی سرپرستی میں اسرائیلی توسیع پسندی اور “عرب اسپرنگ” کے بعد پیدا ہونے والے عدم استحکام نے تقویت دی جس کے نتیجے میں عراق اور لیبیا جیسے مضبوط ریاستی ڈھانچے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے۔ اس نازک علاقائی فضا میں پاکستان کو اکثر ایک مستحکم عسکری طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جسے حالیہ سعودی پاکستان دفاعی تعاون نے مزید مضبوط کیا ہے۔
ناقدین کے مطابق پاکستان کے اس اثر اور رسوخ کو کمزور کرنے کے لیے ایک طویل المدتی حکمتِ عملی اپنائی گئی جسے مبینہ طور پر ایک ہمسایہ حریف ریاست کی حمایت حاصل ہے اور جو افغان سرزمین کے ذریعے پاکستان کی معاشی اور دفاعی صلاحیتوں کو بتدریج نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ پاکستان کے فوجی ترجمان کے مطابق اس وقت افغانستان میں تقریباً 20 دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں جسے اسلام آباد اپنی علاقائی جارحیت کے خلاف براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے۔
پاکستان کے اندر اسی حکمتِ عملی کا اظہار 2011 کے بعد عمران خان کے سیاسی عروج کی صورت میں ہوا۔ روایتی سیاست سے باہر سمجھے جانے والے عمران خان کو ’’آزادی‘‘ کے نعرے کے تحت آگے لایا گیا، جس میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں تشکیل پانے والے ادارہ جاتی اور ذرائع ابلاغ کے پھیلائے ہوئے جال نے اہم کردار ادا کیا۔ ناقدین کے مطابق ان کا طرزِ قیادت تقسیم پیدا کرنے والا اور بتدریج آمرانہ ہوتا گیا جو مسلسل سیاسی مکالمے کے بجائے عوامی جذبات ابھارنے پر انحصار کرتا رہا۔ دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات کی پالیسی کو بھی وسیع حلقے انتہا پسند عناصر کی حوصلہ افزائی قرار دیتے ہیں، خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخواہ میں، جہاں ان کی جماعت کی حکومت رہی ۔

عوامی سیاست سے سیاسی تنہائی تک:
عمران خان کا دورِ حکومت شدید تنازعات کا شکار رہا۔ ناقدین ان کے بعض اقدامات کو قومی مفاد کے منافی سمجھتے ہیں۔ حساس غیر ملکی دوروں کے دوران سیاسی احتجاج، عالمی مالیاتی اداروں کی امداد کے خلاف تحریک، 2019 میں گرفتار بھارتی پائلٹ کی فوری رہائی، اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے برخلاف کشمیر کے انضمام پر مبینہ خاموشی، 2022 سے زیرِ التوا فارن فنڈنگ کیس، اور بڑے علاقائی بحرانوں کے دوران غیر مربوط سفارتی حکمتِ عملی۔ان کے جاری قانونی معاملات جن میں بار بار کی تاخیر اور ریاستی اداروں سے محاذ آرائی شامل ہےکو عام طور پر احتساب سے بچنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جس تاثر کو ایک طاقتور وفادار ذرائع ابلاغ کا جال تقویت دیتا ہے۔ اس کے ردِعمل میں پاکستان کی عسکری قیادت نے سخت داخلی احتساب کا عمل شروع کیا، جس کے تحت ملکی سیاست یا شدت پسندوں کی سہولت کاری میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کورٹ مارشل کیے گئے۔ یہ اقدام ادارہ جاتی نظم و ضبط اور نظریاتی یکجہتی کی بحالی کی ایک سنجیدہ کوشش سمجھا جاتا ہے۔
ادھر عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) ایک سیاسی جمود کا شکار ہو چکی ہے۔ اگرچہ پارٹی کی سینئر قیادت کے کچھ حلقے مکالمے اور پُرامن حل کے حامی ہیں، مگر خود عمران خان کا ایک غیر جمہوری رویہ ، سیاستدانوں سے براہِ راست بات چیت اور پارلیمنٹ کی کارروائیوں سے گریزاں دیکھا جاتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنا مؤقف چھوٹی اتحادی جماعتوں کے ذریعے پیش کرتے ہیں جسے ناقدین ذاتی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔ مئی 2023 میں فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی اندرونی ٹوٹ پھوٹ اور مذاکرات سے فرار کے سخت رویہ نے اسے تنہا کر دیا ہے ۔ نتیجتاً ناقدین کے مطابق عمران خان وہ اعتماد اور ساکھ کھو چکے ہیں جو ایک جمہوری معاشرے کیلئے سیاسی قوتوں کے ساتھ بامعنی بات چیت کے لیے ضروری ہوتی ہیں ۔

بحران سےتجدید نو کی امید:
اس گہرے قومی بحران کے باوجود ایک مضبوط امید موجود ہے۔ پاکستان کے ادارہ جاتی ڈھانچے کی بحالی کے لیے پارلیمنٹ، انتظامیہ اور عدلیہ کی مشترکہ، کٹھن اور مسلسل جدوجہد بالآخر طویل المدتی استحکام اور ترقی کے بیج بو سکتی ہے۔
پاکستان زندہ اور پائندہ باد۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International