rki.news
عامرمُعانؔ
اینٹ اور سیمنٹ سے بنا مضبوط گل پلازہ کئی دن آگ اور پانی کے ایک انہونے کھیل میں شکست سے دوچار ہو کر آخر جل کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا۔ ایک اندازے کے مطابق 85 جانیں آگ کی وحشت کا شکار ہو کر ایک اذیت ناک موت کی گود میں جا سوئی ہیں۔ چند لمحات پہلے تک کی پر رونق 1200 دکانیں جلے ہوئے ملبے کے ڈھیر کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ ملک میں ہر طرف اس سانحہ پر افسوس کا ماحول ہے۔ ہر آنکھ اشک بار ہے۔ فوری طور پر اس سانحہ عظیم پر کچھ لکھنا ممکن ہی نہیں تھا۔ حرف سے پہلے اشک کاغذ کو چوم کر کچھ بھی لکھنے کی طاقت چھین لیتے تھے۔ اس دوران سیاسی جماعتوں نے انسانی جانوں کے ضیاع پر بھی صرف پوائنٹ اسکورننگ کرنے پر توجہ مرکوز رکھی۔ کسی کو اس تکلیف کا اندازہ کہاں ہو سکتا ہے جو ان 1200 دکانوں کے مالک اور مزدور سے لے کر ان سے وابستہ خاندان والوں پر گزر رہی ہے۔ ان گھروں سے صرف انسانی جنازے نہیں اٹھ رہے، بلکہ خوبصورت زندگی کے خوابوں کے جنازے اٹھ رہے ہیں۔ 45 سالہ رواں دواں قہقہوں سے بھرپور گل پلازہ کی زندگی کو موت کا سناٹا نگل گیا ہے۔ کل تک جہاں روشنیاں دیر رات تک گل پلازہ کی رونق ہوا کرتی تھیں۔ اب وہاں اندھیرا ملبے کے ڈھیر کی صورت پڑا ہوا ہے۔ ایک سوال ضرور ہر ذہن کو جھنجھوڑتا ہے، کہ آخر ایک عام شہری ارباب اختیار سے کیا امید رکھتا ہے؟ وہ صرف امن و سکون سے اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہے۔ کیا ایک عام شہری کا اتنا بھی حق نہیں ہے؟
ہنسی خوشی یہاں آزاد ہر اک ذی روح ہو
زندگی اتنی سہل سب کی بناؤ یارو
ان چند دنوں میں اداروں کی ناقص کارکردگی پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، لیکن کیا واقعی ہم نے اس سانحہ سے کچھ سبق بھی سیکھا ہے؟ اب تک تو پہلے کے حادثوں کے بعد جیسی ہی صورتحال نظر آ رہی ہے۔ مقصد صرف وقت گزارنا ہے، تاکہ عوام کچھ دن اپنے غصہ کا اظہار کرنے کے بعد پھر نان جویں کے دائرے میں چکر لگانا شروع کر دے۔ پھر سب کچھ بھول کر نئے کسی سانحے کے ہونے تک آنکھ، کان اور زبان بند کر کے جانوروں سے بدتر زندگی سے سمجھوتہ کر لے۔ ہم سنا کرتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں ایسے حادثوں پر حکومتوں کا کیا کردار ہوا کرتا ہے۔ وہ کردار جو ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک کے لئے اب تک خواب ہی ہے۔ یہاں تو حادثات کے بعد کی تحقیقات سے غلطی بھی مرنے والے ہی کی نکلتی ہے۔ ویسے یہ بات درست بھی ہے۔ غلطی مرنے والے کی ہی ہے، مرتے ہوئے احتجاجی چیخ کیوں نکالی۔ کچھ لاشوں کی شناخت کے بعد تدفین کر کے لواحقین چپ کر کے بیٹھ چکے ہیں۔ تاہم جن کی شناخت تاحال نہیں ہوئی ہے، ان کے لواحقین اپنوں کی آخری رسومات اپنے ہاتھوں ادا کرنے کی خواہش میں پتھرائی آنکھوں سے محو انتظار ہیں کہ کب کچھ ہڈیاں ان کے ہاتھوں میں تھما کر کہہ دیا جائے کہ جائیں اور چپ چاپ ان ہڈیوں کو دفن کرنے کے بعد وقت کا تلخ جام پی کر دوبارہ دو وقت کی روٹی کی فکر کریں، اور اس سانحہ کو کسی خوفناک خواب کی طرح بھلا دیں۔ کسی اعتراض یا سوال کا حق یہاں جیتے جاگتے کیڑے مکوڑوں کی صورت جیتے انسانوں کو کہاں۔ کراچی کے گل پلازہ کی آگ بجھنے کے ساتھ ہی کوئٹہ میں حلیم پلازہ میں لگی آگ کی خبر نے دل دہلا دیا، پھر سبزی منڈی کراچی میں آگ کی خبر آئی، پھر لاہور کے ایک ہوٹل میں آگ نے اپنا زور دکھانے کی کوشش کی۔ گو ان تمام مقامات پر لگی آگ نے زیادہ نقصان نہیں پہنچایا، مگر اس میں مہربانی آگ کی ہی رہی، زیادہ پھیلنے سے پہلے عام آدمی پر ترس کھا کر خود ہی بجھ گئی۔ لیکن بجھتے بجھتے بھی یہ حقیقت آشکار ضرور کر گئی کہ ان تمام مقامات پر بھی آگ بجھانے کے آلات کتنے ناکافی ہیں۔ صرف ان مقامات پر نہیں بلکہ پورے ملک میں آگ بجھانے کے انتظامات اتنے ہی ناقص ہیں۔ یہی دعا ہے کہ اللہ تعالٰی اپنا فضل و کرم رکھیں اور مزید کہیں آگ نہ لگے۔ وگرنہ آگ ان مقامات کی حقیقت بھی آشکار کر دے گی۔ گل پلازہ تو جل کر خاکستر ہو گیا ہے، لیکن یہ بات بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ کہیں بھی حادثے سے بچاؤ کے مکمل انتظامات نہیں ہیں۔ کہیں بھی کسی حادثے کا شکار ہونے پر عوام خود ہی ذمہ دار ہوں گے۔
بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہونے سے پورے ملک کی فضاء سوگوار ہے۔ کاش یہ سانحہ ہم سب کی آنکھیں کھولنے کا باعث بن جائے، تاکہ ہم تمام مقامات پر مکمل انتظامات کر سکیں۔ آئندہ ایسا کوئی سانحہ کہیں بھی رونما نہ ہونے پائے۔ ہر زندگی قیمتی ہوتی ہے، لیکن جب ایکساتھ اتنی زندگیوں کے چراغ بجھتے ہیں تو اندھیرا گہرا ہو جاتا ہے۔ جاگیے اگر فرات کے کنارے پیاس سے مرنے والے کتے کا حساب ہو گا اور انتہائی سخت ہو گا، تو انسانی زندگیاں یوں ضائع ہونے کا کتنا سخت حساب ہو گا۔ کیا ذمہ داران یہ حساب دے پائیں گے؟
Leave a Reply