rki.news
اک خواہشِ دیدار ہی کافی تو نہیں ناں
پل بھر کی ملاقات اضافی تو نہیں ناں
جو کچھ ہے مقدر کا لکھا مان لیا ہے
لیکن یہ محبت کی تلافی تو نہیں ناں
اے حُسنِ ستمگر! ترا ہر جلوہٴ صد رنگ
بے فیض ہے قُربت سے تو شافی تو نہیں ناں
جو زخم دیے تُو نے وہ دل پر ہیں نُمایاں
مرہم کی کوئی شکل شفافی تو نہیں ناں
اب وقت کے ہاتھوں میں ہے احساس کی تصویر
یادوں کی یہ البم بھی مصافی تو نہیں ناں
لفظوں کے تعاقب میں الجھتا رہا عالیٙ
تشبیہ کی تکرار بھی کافی تو نہیں ناں
علی مُنیر عالی
Leave a Reply