Today ePaper
Rahbar e Kisan International

ایس آئی آر کے حوالے سے دستاویزات کی رسیدیں کیوں نہیں؟

Articles , Snippets , / Tuesday, January 27th, 2026

rki.news

بقلم
احمد وکیل علیمی”
دوردرشن کولکاتا
افسوس یا غم بیشتر حالات میں یا ماضی کے لیے ہوتے ہیں یا مستقبل کے لیے۔آدمی یا تو کسی گزرے ہوئے نقصان کا افسوس کرتا رہتا ہے یا اس واقعے کا غم، جس کے متعلق اسے اندیشہ ہوکہ وہ آئندہ پیش آئے گا۔ مگر یہ دونوں غیر ضروری ہیں۔ جو نقصان ہوچکا وہ ہوچکا۔ اب وہ دوبارہ واپس آنے والا نہیں۔ پھر اس کا غم کرنے سے کیا فائدہ؟ اور جس کام کے بگڑنے کا اندیشہ ہے وہ بہر حال ایک امکانی چیز ہے۔ امکانات میں یہ بات بھی ہے کہ SIR کے سلسلے سے جب Hearingکے لیے دستاویزات کے ساتھ حاضر ہونے کی ہدایت جاری کی گئی ہے اور اپنی حقیقی شناخت ثابت کر نے کے لیے مطلوبہ لازمی کاغذات پیش کرنے کا حکم صادر کیا گیا ہے تو کئی اسناد جمع لے کر اس کی رسید کیوں نہیں دی جارہی ہے۔؟ میں نے رسید طلب کی تو صاف انکار کرد یا گیا۔ جب بتایا کہ ناچیز کا تعلق الیکٹرونک میڈیا دوردرشن کولکاتاسے ہے تو عملے دست پاچہ ہوگئے۔ اپنی کمزوری و خفّت مٹاتے ہوئےانہوں نے کہاکہ رسیدیں فراہم کیے جانے کی بات ہوچکی ہے۔ کسی مجبوری کے سبب رسیدیں آئندہ تاریخ سے فراہم کیے جانے کا سلسلہ بن رہا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ جب دستاویزات جمع لینے کا اعادہ کیا گیا تھا تو اُسی وقت رسید کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جاسکتا تھا۔ کبھی کبھی مثل
” آب نہ دیدہ موزہ کشیدہ” ( خطرے میں مبتلا ہونے سے پہلے شور مچانا) کا اطلاق حصارِ خجالت کا شکار ہونے سے بہتر ہے۔ بغیر روئے مائیں بچے کو دودھ پلانے میں تغافل پسند واقع ہوئی ہیں۔ احتجاج نہیں کیا جائے تو رسید ملنے سے رہی۔ جمع کرنے والے کے پاس کوئی ثبوت نہیں کہ اس نے دستاویز جمع کیا ہے۔ جمع کیے گئے کاغذات سے اگر کسی طرح کوئی ایک کاغذ بھی لاپتہ ہوجائے تو بعد میں سرکاری عملے یہ کہہ کر دامن جھاڑ لیں گے کہ وہ کاغذ ان کے پاس جمع ہی نہیں کیا گیا ہے۔ یہ قانونی امور انجام دیے جارہے ہیں۔ اس ضمن میں کسی قسم کی بے فکری متاسفوں کی قطار میں ہمیں لاکھڑا کرے گی۔جمع کرکے رسید نہ ملنے کا ایک ناقابل فراموش عظیم نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ بے روزگاری کے زمانے کی بات ہے۔ ٹیچر کی ملازمت کے سلسلے سے میں انٹرویو میں حاضر تھا۔ ۔ انٹرویو سے تین روز قبل ابتدا سے انتہا تک کی تعلیمی اسناد کی دو دو نقول جمع کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ جمع کرتے وقت میں نے رسید کا مطالبہ کیا تو ہیڈ ماسٹر محترم نے کہا کہ کسی کو جمع کرنے کی رسید نہیں دی جارہی ہے , اسی لیے مجھے بھی نہیں دی جائے گی۔ دوسری صورت میں مجھے کہا گیا کہ میں اپنی درخواست واپس لے جاؤں۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ پاپی پیٹ کا سوال تھا۔ اُلجھنا دانائی و حکمت کی بات نہیں تھی۔ جمع کرکے میں لب دوز کرہاً گھر واپس آرہا تھا کہ راستے میں اُس زمانے کی سماجی و سیاسی شخصیت جناب واقف رزاقی ( مرحوم) سے ملاقات ہوگئی۔ میری اُتری صورت دیکھ کر انہوں نے پوچھ ہی لیا کہ مغموم نظر آرہا ہوں؟میں نے ساری باتیں بتائیں تو سن کر کہنے لگے کہ قانونی طور پر جب کوئی چیز جمع کی جاتی ہے تو اس کی رسید ضرور ملنی چاہیے۔ انہوں نےکہا کہ رسید کی عدم فراہمی جرائم اور نا انصافی کے در کو وا کرتی ہے۔ گمان کو یقین کا پر اُس وقت لگ ہی گیا جب انٹرویو ہوا تو معلوم ہوا کہ میرا آنرز فرسٹ کلاس کی سند میری درخواست سے غائب تھی۔ میں سچا ہوکر بھی جھوٹا بنا دیاگیا۔ اسکول کمیٹی نے من مانی کرکے واقف رزّاقی صاحب کے خدشے کو یقینیت کا لبادہ پہنادیا۔
کہنا یہی ہے کہ جمع کیے گئے اپنے کاغذات / دستاویزات کی رسیدکی فراہمی کو یقینی بنانے کی کامیاب کوشش کی جائے۔ ورنہ کفِ افسوس ملنا پڑے گا ۔ اب پچھتاوت کیا ہوت، جب چڑیا چُگ گئی کھیت۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International