rki.news
یہ مانا میری الجھن کم نہیں ہے
خدا جب مہرباں ہے غم نہیں ہے
مجھے کچھ الجھنوں کا غم نہیں ہے
تری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے
چلاؤ جیسے چاہو باءک اپنی
یہاں پر کوئی بھی سسٹم نہیں ہے
حسینی پر ستم ڈھایا گیا ہے
مگر اس کا کوئی ماتم نہیں۔ ہے
مرا اس بزم میں لگتا نہیں دل
جہاں تو اے مری جانم نہیں ہے
مری آواز میں ہے خوش گلوئ
مرے گیتوں میں وہ سرگم نہیں ہے
خدایا تیرے گھر کو میں بھی دیکھوں
مرے دل میں یہ ارماں کم نہیں ہے
لٹا گھر مصطفیٰ کا کربلا میں
شہیدوں کا یہ احساں کم نہیں ہے
ہمارا غم کا قصہ سن رہے ہو
تمہاری آنکھ لیکن نم نہیں ہے
بھلا یہ دلبری کس کام کی ہے
میسر گر ہمیں سنگم نہیں ہے
جھکے ہیں لوگ سب کعبہ کے آگے
خدا کے رو برو سر خم نہیں ہے
اسے کہنے لگے ہیں لوگ فیشن
یہ عریانی ہے جس کا غم نہیں ہے
وفا کا پھول کھل کر ہی رہے گا
یہ مانا گرچہ مٹی نم نہیں ہے
بہت فرمائش کرتی ہے بیگم
ہے خالی جیب اور انکم نہیں ہے
سمندر کا بہت کھارا ہے پانی
ہو اختر میٹھا یہ زمزم نہیں ہے
شمیم اختر شمیم ۔۔
Leave a Reply