ز قلم عرشی کو مل سجاد حسین
عروج جائے نماز پر بیٹھی روتی بلکتی الله سے شکوه کناں تھی کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ کیوں سب نے مجھے اکیلا چھوڑ دیا ؟ میں تو بہت نیک تھی_ پھر میری دعا کیوں قبول نہیں ہوئی؟
آج تک تم نے جتنے بھی نیک عمل کیے کیا وہ سب اللہ کی رضا کے لیئے تھے ؟دل سے آواز آئی۔
نہیں؟
جب تمھارے سارے اعمال دنیا دکھاوے کے لیے تھے;تو پھر آج شکوہ کیسا؟
اگر ان میں سے ایک عمل بھی اللہ کی کیلئے ہوتا تو تم آج یوں تہی دامن نہ ہوتی دل کی آواز پر عروج دنگ ره گئ_
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: صنف کہانی عنوان دکھاوا, ID: 4873
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 4873 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: صنف کہانی عنوان دکھاوا, ID: 4873
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply