عرشی کو مل سجاد حسین
صنف کہانی
احمد ہسپتال میں زندگی کی آخری سا نس لے رہا تھا کیونکہ احمد نے اپنا کام ایمانداری سے کیا تھا اور ضمیر کی عدالت میں سرخرو ٹھہرا۔
احمد جب سے پشاور موٹروے کا دورہ کرکے آیا تھا،تب سے احمد کو دھمکی بھرے پیغامات موصول ہورہے تھے ؛ کہ ان کے فائل کو منظور کیا جائے اور ان کے کام مداخلت نہ کی جائے جب کہ ایک نظر دیکھنے پر ہی احمد جان گئے تھے کر موٹروے بنانے میں استعمال کیا جانے والا میٹریل ناقص تھا ۔جس سے ہزاروں جانیں خطرے میں آسکتی تھی؛ اس لیے اپنی جان کی پرواہ کیے بنا انھوں نے موٹروے کا کام رکوا دیا ۔
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: عنوان ضمیر, ID: 4939
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 4939 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: عنوان ضمیر, ID: 4939
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply