Today ePaper
Rahbar e Kisan International

عالمی یومِ صحافت: سچ اور ذمہ داری کا عہد

Articles , Snippets , / Sunday, May 3rd, 2026

ہارون رشید قریشی

ہر سال 3 مئی کو دنیا بھر میں عالمی یومِ آزادیِ صحافت منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک رسمی موقع نہیں بلکہ آزادیِ اظہار، سچائی اور صحافتی ذمہ داری کے عہد کی تجدید کا دن بھی ہے۔ اس دن کا باقاعدہ آغاز سال 1993 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایک اہم اعلان کے ذریعے کیا گیا جس کی بنیاد سال 1991 میں نمیبیا میں منعقدہ یونیسکو کے سیمینار میں پیش کیے گئے “وینڈہوک ڈیکلریشن” پر رکھی گئی۔
اس دن کا بنیادی مقصد آزادیِ صحافت کا تحفظ، صحافیوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کو فروغ دینا ہے۔ دنیا بھر کی حکومتوں کو یاد دلایا جاتا ہے کہ وہ صحافیوں کو آزادانہ اور محفوظ ماحول فراہم کریں تاکہ وہ بلا خوف و خطر سچائی عوام تک پہنچا سکیں۔
اگر ہم ماضی کی صحافت پر نظر ڈالیں تو یہ ایک محنت طلب اور اصولوں پر مبنی دور تھا۔ اس وقت ایک خبر تیار کرنے کے لیے کاتب سے لے کر پرنٹنگ تک کئی مراحل سے گزرنا پڑتا تھا۔ جو خبر کاتب کے قلم سے لکھی جاتی وہ سیدھی دل پر اثر کرتی تھی۔ کاتب سے پرنٹنگ کی کہانی میں نے اپنے گھر میں دیکھی
میرے والد مرحوم عبدالرشید قریشی نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز سن 1948 میں کیا اورنظام تعلیم کے جریدے کا اجراء کیا اس کے بعد مزید صحافتی زندگی کی کوششوں کو تیز کیا 1956ءکو رہبر کسان ہفت روز کر بنیاد رکھی جو کہ آج مرحوم کے اس نیک میشن کو آگے لے کر چل رہے ہیں۔ ان کی صحافتی سماجی زندگی میں کوششوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا. باقاعدگی کے ساتھ فجر کے بعد گھروں کی دہلیز پر پہنچنے والے اخبارات نہ صرف معلومات کا ذریعہ ہوتے تھے بلکہ ایک مستند حوالہ بھی سمجھے جاتے تھے۔ اس دور کے صحافیوں کا مقصد صرف سچ کو عوام تک پہنچانا ہوتا تھا، اور اسی وجہ سے انھیں معاشرے میں عزت اور وقار حاصل تھا جس کا آج تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ماضی کی صحافت کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ اس وقت صحافیوں کو حکومتی سطح پر کوئی خاص مراعات حاصل نہیں تھیں۔ حکومت کی جانب سے اخبارات کے لیے کاغذ کا کوٹہ ضرور دیا جاتا تھا مگر یہ نہایت محدود ہوتا تھا اور اکثر اس کی تقسیم میں میرٹ کے بجائے پسند و ناپسند کا عنصر شامل ہو جاتا تھا۔ بعض اوقات یہ کوٹہ ان صحافیوں یا اداروں کو زیادہ ملتا جو حکومت کے قریب سمجھے جاتے تھے، جبکہ آزاد اور اصولی صحافت کرنے والے اس سہولت سے محروم رہتے تھے۔ اس کے باوجود سچے صحافیوں نے کبھی اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور ہر مشکل کے باوجود سچائی کا علم بلند رکھا۔
مگر آج کا دور پرانے دور سے بالکل مختلف ہے۔ ٹیکنالوجی نے صحافت کی اصل روح کو بدل دیا ہے۔ خاص طور پر مصنوعی ذہانت (AI) نے میڈیا کے صحیح معنوں کو تبدیل کر دیا ہے۔ اب زیادہ تر صحافی موبائل، آئی پیڈ یا لیپ ٹاپ سے دفتر بیٹھے خبریں بنا لیتے ہیں اور ڈیٹا کی بنیاد پر اہم رپورٹس بنائی جا رہی ہیں۔

اب تو پاکستان میں بھی اس انڈسٹری نے حد کردی ہے۔ چند ماہ قبل ایک معروف انگریزی روزنامہ اخبار کی ایک اہم خبر نے دنیا کو چونکا دیا وہ اہم خبر کو AI کی مدد سے تیار کیا گیا جس میں رپورٹر کی عجلت اور غفلت میں خبر کے نیچے AI کی فوٹیج کو بھی خبر کا حصہ بنا دیا گیا تھا، یوں اس کی تیار کی ہوئی رپورٹ دنیا کی خبروں کی زینت بن گئی۔ جس نے نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ جدید صحافت کس تیزی سے نئی ٹیکنالوجی کو اپنا رہی ہے اور اپنا اصلی مقام اور معیار ختم کر رہی ہے۔تاہم اس کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس تیز رفتار دوڑ میں صحافت کے پیشے کی اقتدار، جس کا سارا دارومدار تحقیق پر ہوتا ہے اب اس کی دھندلی سی تصویر باقی ہے۔
پرنٹ میڈیا، جو کبھی صحافت کی بنیاد سمجھا جاتا تھا، اب بتدریج زوال کا شکار ہے، جبکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور AI پر مبنی صحافت فروغ پا رہی ہے۔ یہ تبدیلی ایک طرف سہولت فراہم کرتی ہے تو دوسری طرف صحافتی اصولوں کے لیے ایک چیلنج بھی ہے۔ آج کے دن ہمیں ان عظیم صحافیوں کو ضرور یاد کرنا چاہیے جنہوں نے مشکل حالات کے باوجود سچ کا پرچم بلند رکھا اور اس پیشے کی بنیاد کو مضبوط کیا۔ ان کی خدمات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھی صحافت کی اصل روح ،سچائی، دیانت اور غیر جانبداری کو برقرار رکھیں۔ اگر ہم واقعی اس پیشے کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں پرنٹ میڈیا کو بھی زندہ رکھنا ہوگا کیونکہ یہی صحافت کا بنیادی اور مستند ذریعہ رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات کہنے اور سچ لکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Ad debug output

The ad is not displayed on the page

current post: عالمی یومِ صحافت: سچ اور ذمہ داری کا عہد, ID: 52369

Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)

Display Conditions
specific pages
Adwp_the_query
post_id: 52369
is_singular: 1


Find solutions in the manual
Ad debug output

The ad is not displayed on the page

current post: عالمی یومِ صحافت: سچ اور ذمہ داری کا عہد, ID: 52369

Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)

Display Conditions
post type
Adwp_the_query
post


Find solutions in the manual

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International