قلم بردار : ارشد فاروق
پچھلے دنوں عالمی سطح پر بین الاقوامی لیبر ڈے منایا گیا۔ یورپ بھر سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں اسے مزدوروں کے حقوق، ان کی آزادی اور ان کے ساتھ یکجہتی کے لئے عالمی سطح پر منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر مزدوروں کی تنظیمیں دنیا بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں اجتماعات منعقد کرتے ہیں، تقاریر ہوتی ہیں اور مزدوروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ میں تین دہائیوں سے زائد عرصہ سے فن لینڈ میں مقیم ہوں اور ہر سال یوم مئی کو ایک نئے انداز سے مشاہدہ کرتا ہوں لیکن اس دن کے منانے کے روائتی انداز کا ذکر کرنا لازم ہے۔
فن لینڈ میں اس دن کو کئی حوالوں سے یکجا کر دیا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ مقامی باشندے اسے اپنے روائتی انداز میں ایک الگ طریقے سے مناتے ہیں۔ اس دن کو فن میں یہاں کی مقامی زبان میں واپو کہا جاتا ہے۔ فن لینڈ کی تاریخ میں، جب یہاں سویڈن کی حکومت تھی تو ایک فلاسفر، معلم اور صوفی منش خاتون جس کا نام وال برگ تھا، عوام میں اپنی خوبیوں کی وجہ سے بے حد مقبول تھی۔ اس کے نام کا فنش زبان میں ترجمہ واپو کر دیا گیا۔ یکم مئی اس خاتون کے نام کا دن تھا۔ اس لئے یکم مئی کو واپو سے منسوب کر دیا گیا۔
فن لینڈ کے لوگ ستمبر سے لے کر اپریل کے اختتام تک سال بھر گرنے والی برف باری کے پگھلنے اور جاڑے کے اڑنت ہونے کا انتظار کرتے ہیں اس لئے یکم مئی تک چونکہ موسم سرما میں گرنے والی برف پگھل جاتی ہے اور درختوں پر نئی نویلی کونپلیں پھوٹنا شروع ہو جاتی ہے جنہیں دیکھ کر مقامی لوگوں کی خوشی دیدنی ہوتی ہے، اس طرح یکم مئی کو موسم گرما کی آمد کے ساتھ بھی جوڑ دیا گیا ہے۔ تیسری وجہ اس صوفی خاتون کے دانشور اور معلم ہونے کی عزت افزائی ہے کہ فن لینڈ بھر کی جامعات کے طلباء و طالبات مل کر واپو کی یاد میں یہ دن مناتے ہیں۔ اس دن سے پہلے ویک اینڈ پر ملک بھر کے لوگ مل کر اپنے اپنے گھروں کے باہر صفائی کرتے ہیں اور پھول اگاتے ہیں۔
فن لینڈ کے لوگ موسمِ گرما کے بے حد شوقین ہیں اور اس دن کا انتظار سال بھر کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کے لئے یہ دن کسی عید سے کم نہیں ہوتا۔ ۔ اس موقع پر مختلف اشیاء مہنگے داموں فروخت ہوتی ہیں۔ خاص طور پر بچوں میں مقبول غبارے بہت زیادہ خریدے جاتے ہیں، جو کہ مختلف جانوروں، پرندوں، مچھلیوں اور کارٹون کرداروں کی شکلوں میں بنے ہوتے ہیں۔ ایک اور دلچسپ چیز ٹوپیاں اور سینگ نما آرائشی اشیاء ہیں، جنہیں ہر عمر کے لوگ سروں پر پہنے پھرتے ہیں۔ گھروں، گلیوں اور بازاروں کو خصوصی طور پر جھنڈیوں اور رنگ برنگی آرائش سے سجایا جاتا ہے جبکہ ٹی وی پر بھی خصوصی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ اس دوران گھر سے باہر نکلیں تو ہر شخص کے انداز سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ موسمِ گرما کی آمد پر کتنا خوش ہے۔ ہائی اسکول پاس چکنے والے جوان و بوڑھے مرد و خواتین سر پر سفید رنگ اور سیاہ گھیرے والی مخصوص پی کیپ پہنے نظر آتے ہیں۔ لوگ ٹوپیاں سر پر پہننے کے بجائے بغل میں دبائے ، بازوؤں یا گردن میں لٹکائے پھرتے ہیں۔ گلے میں رنگ برنگے مصنوعی پھولوں کے ہار پہنتے ہیں، چہروں پر مختلف رنگ سجاتے اور ٹیٹوز لگاتے ہیں اور بعض لوگ عجیب و غریب رنگ برنگے اور چمکیلے لباس پہن کر گھومتے ہیں۔ ٹائی کو گلے میں شرٹ کے کالر پر باندھنے کی بجائے سر پر باندھے نظر آتے ہیں، میں نے تو اسے مدہوش بھی دیکھے جو گلے میں سائیکل کا ٹائر دالے گھوم رہے تھے۔ کئی نوجوانوں نے اپنے اچھے بھلئے کپڑے پھاڑ رکھے تھے اور ان پر رنگ انڈیلے گئے تھے۔ نوجوان جان بوجھ کر مجہول سے نظر آتے ہیں کہ شائد کسی ناری کو ان کی یہی ادا بھا جائے۔ غرض ہر شخص اپنے منفرد انداز میں مست نظر آتا ہے جیسے کہہ رہا ہو کہ
حالِ مستی یونہی رہے آباد: ایسے ہر شخص موسمِ گرما کو خوش آمدید کہتا ہے۔
بچوں کے لئے اس دن کی مخصوص ڈیلی کیسی یا نزاکت والا پکوان ’’ مُنکی‘‘ کہلاتا ہے جو گول شکل کی گھی یا تیل میں تلی ہوئی چھوٹی سی روٹی ہوتی ہے جس میں سوراخ ہوتا ہے، جب یہ گھی میں فرائی ہو کر اچھی طرح براؤن ہو جائے تو اسے چینی میں مسل دیا جاتا ہے، یوں سمجھیں کہ یہ فن لینڈ کی چوری سی بن جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ایک مزیدار سوڈا ڈرنک پیش کیا جاتا ہے جسے ’’ سیما‘‘ کہتے ہیں۔
اس موقع پر ایک خاص بات قابلِ ذکر ہے کہ فن لینڈ دنیا کے اُن ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں آبادی کے لحاظ سے شراب نوشی بہت زیادہ ہے اس طرح خالی ٹن پیکس اور بئیر کی بوتلوں کی تعداد بھی حیران کن حد تک بڑھ جاتی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق خالی بوتلیں جمع کرکے بیچنے سے گاڑی تک خریدی جا سکتی ہے، اور کئی لوگ ایسا کر بھی چکے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس شام اور پوری رات نوجوانوں کے گروہ شراب اور بیئر کی خالی بوتلیں جمع کرتے نظر آتے ہیں جو کہ ری سائیکلنگ کی مخصوص جگہوں پر لوٹا کر پیسے جمع کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ دوستوں سے گاڑیاں ادھار لیتے ہیں یا ایک رات کے لیے کوئی کھلی ویگن کرائے پر حاصل کر لیتے ہیں۔ کئی مقامات پر بوتلیں جمع کرنے کے دوران مختلف گروہوں میں معمولی جھگڑے بھی ہو جاتے ہیں۔
دو مئی کی صبح شہر کی گلیوں، سڑکوں، فٹ پاتھوں اور پارکوں میں گزشتہ رات کی محفلوں کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔ اس دن ایمبولینس گاڑیاں بھی زیادہ دکھائی دیتی ہیں جو مدہوش افراد کو بس اسٹاپس اور پارکوں سے اٹھا کر ہسپتال منتقل کر رہی ہوتی ہیں۔ لوگوں کے پکنک کے لئے بڑے اجتماعات سمندر کے کنارے ہوتے ہیں جہاں رات بھر پارٹیاں ہوتی ہیں اور موسیقی کا سلسلہ جاری رہتا ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر کوئی شخص نشے کی حالت میں دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کرتا اور نہ ہی خالی بوتلوں کو سمندر میں پھینکتا ہے۔
ان تمام مناظر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فن لینڈ کے لوگ موسمِ گرما کے کس قدر دیوانے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں کے لوگ سال بھر اس تہوار کا انتظار کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہان ساؤنا کی دعوت کو ٹھکرایا نہیں جاتا۔ اب تو ساحل سمندر پر کھلے پانی میں ڈبکی لگانے کے بعد یہاں جدید طرز پر تعمیر کئے گئے ساؤنا کہ سہولت بھی موجود ہے۔
دارالحکومت ہیلسنکی میں اس دن کی سب سے بڑی تقریب پرانے صدارتی محل کے قریب ساحلِ سمندر پر نصب ایک تاریخی مجسمے کے گرد منعقد ہوتی ہے۔ اس مجسمے کو “ہاویس امانڈا” کہا جاتا ہے۔ 30 اپریل کی شام یہاں اتنا رش ہوتا ہے کہ تل دھرنے کی جگہ نہیں رہتی۔ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور اسکولوں کے طلبہ گروہوں کی صورت میں یہاں جمع ہوتے ہیں۔ شام چھ بجے ہیلسنکی یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے نمائندے اس مجسمے کو خصوصی کیمیکل سے غسل دیتے ہیں، اسے شمپو سے دھویا جاتا ہے اور سال بھر کی گرد و غبار صاف کی جاتی ہے، اس کے سر پر سفید رنگ کی روایتی طالبِ علموں کی ٹوپی پہناتے ہیں۔ یہ ٹوپی ہر طالب علم کو ہائی اسکول سے فارغ التحصیل ہونے پر دی جاتی ہے اور لوگ اسے زندگی بھر سنبھال کر رکھتے ہیں۔ یہ مجسمہ ایک فوارے کے درمیان نصب ہے اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔ یکم مئی کو طلبہ کے مختلف گروہ باری باری اس مجسمے کو ٹوپی پہناتے ہیں۔ اسی موقع پر دور دراز کے شہروں اور قصبوں سے آئے کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنے لیے جیون ساتھی بھی تلاش کرتے ہیں۔ چونکہ فن لینڈ میں موسمِ سرما بہت طویل ہوتا ہے، اس لیے موسمِ گرما کی آمد وہاں غیر معمولی خوشی کا باعث بنتی ہے۔ اس روز ہر شخص، خواہ مرد ہو یا عورت، بوڑھا ہو یا جوان، خوش اور پُرجوش دکھائی دیتا ہے۔
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: واپّو: فنِ لینڈ کے لوگ یوم مئی کیسے مناتے ہیں ؟, ID: 52373
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 52373 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: واپّو: فنِ لینڈ کے لوگ یوم مئی کیسے مناتے ہیں ؟, ID: 52373
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply