Today ePaper
Rahbar e Kisan International

امامتِ کبریٰ: اقتدار یا امانت؟

Articles , Snippets , / Thursday, January 22nd, 2026

rki.news

تحریر:
طارق محمود
میرج کنسلٹنٹ
ایکسپرٹ میرج بیورو انٹرنیشنل

حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کا یہ قول کہ “جب امامتِ صغریٰ کے قابل ایک فاسق و فاجر نہیں ہو سکتا، تو امامتِ کبریٰ کے قابل ایک فاسق و فاجر کیسے ہو سکتا ہے؟” محض ایک مذہبی استدلال نہیں بلکہ قیادت، ریاست اور قوم کے اجتماعی شعور پر ایک گہرا فکری سوال ہے۔ یہ جملہ دراصل اس بنیادی اصول کی یاد دہانی ہے کہ اسلام میں قیادت کو طاقت نہیں بلکہ امانت سمجھا جاتا ہے، اور امانت کا پہلا تقاضا کردار ہے۔
اسلامی فقہ میں امامتِ صغریٰ کے لیے عدالت، دیانت اور فسقِ ظاہر سے اجتناب کو شرط قرار دیا گیا ہے۔ امام مسجد صرف نماز کا پیشوا نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک اخلاقی حوالہ ہوتا ہے، جس کے پیچھے کھڑا ہونا اعتماد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہی تصور منطقی تسلسل کے ساتھ امامتِ کبریٰ تک پہنچتا ہے، جہاں حکمران نہ صرف فیصلے کرتا ہے بلکہ عدل، قانون، معیشت اور قومی سمت کا تعین بھی کرتا ہے۔ اگر محدود اجتماع میں اخلاق ناگزیر ہے تو وسیع تر اجتماع، یعنی ریاست، میں اس کی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
اسلامی سیاسی فکر اقتدار کو حق نہیں بلکہ ذمہ داری اور امانت قرار دیتی ہے۔ قرآن مجید امانت کو اہل لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیتا ہے، اور نبی کریم ﷺ نے قیادت کی خواہش کو فتنہ قرار دیا۔ یہ تعلیمات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ جو شخص ذاتی زندگی میں دیانت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، وہ قومی امانت کا اہل نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے حضرت مدنیؒ نے ایک سادہ مگر گہرے جملے میں بیان کر دیا۔
جدید سیاسیات بھی اسی اصول کی تصدیق کرتی ہے۔ ریاست کی مضبوطی صرف آئین، اداروں یا طاقت سے نہیں بلکہ اخلاقی جواز سے پیدا ہوتی ہے۔ سیاسی مفکرین کے مطابق جب قیادت اخلاقی ساکھ کھو دے تو قانون نافذ تو رہتا ہے مگر قابلِ قبول نہیں رہتا۔ ادارے قائم تو ہوتے ہیں مگر غیر جانبدار نہیں رہتے، اور اختلاف کو اصلاح کے بجائے خطرہ سمجھا جانے لگتا ہے۔ اس ماحول میں سیاست خدمت کے بجائے غلبے کی جنگ بن جاتی ہے۔
معاشی اعتبار سے بدکردار قیادت کے اثرات مزید سنگین ہوتے ہیں۔ تحقیقی رپورٹس کے مطابق بدعنوانی سرمایہ کاری کو روکتی ہے، ٹیکس نیٹ کو کمزور کرتی ہے اور طبقاتی خلیج کو بڑھاتی ہے۔ جب حکمران خود قانون سے بالاتر دکھائی دے تو عام شہری قانون کی پابندی کو غیر ضروری سمجھنے لگتا ہے۔ یوں معاشی بحران دراصل مالی نہیں بلکہ اخلاقی بحران بن جاتا ہے، جس کی قیمت سب سے زیادہ کمزور طبقہ ادا کرتا ہے۔
اگر ریاست کو علامتی طور پر ایک بڑی مسجد سمجھا جائے تو حضرت مدنیؒ کے قول کی معنویت اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ مسجد میں امام کے کردار پر سوال ہو تو مقتدی نماز بدل لیتے ہیں، مگر ریاست میں اگر قائد کے کردار پر سوال ہو تو پورا نظام عدم اعتماد کا شکار ہو جاتا ہے۔ فرق صرف دائرۂ اثر کا ہے، اصول دونوں جگہ ایک ہی ہے۔
یہ کہنا آسان ہے کہ قیادت ناکام ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ قوم نے قیادت کے انتخاب میں معیار کیا رکھا۔ جب ووٹ، تائید اور حمایت کردار کے بجائے مفاد، تعلق اور وقتی فائدے کی بنیاد پر دی جائے تو قیادت نہیں بلکہ اجتماعی زوال منتخب ہوتا ہے۔ حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کا یہ قول دراصل کسی ایک فرد یا جماعت پر نہیں بلکہ قوم کے اجتماعی ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امامتِ کبریٰ کا بحران قانون یا نظام کا نہیں بلکہ کردار کا بحران ہے۔ جب تک قیادت کو عبادت جیسی ذمہ داری اور سیاست کو امانت نہ سمجھا جائے، اصلاحات عارضی اور وعدے کھوکھلے رہیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں اخلاق کو قیادت کا معیار بناتی ہیں وہ مثال بنتی ہیں، اور جو اسے نظرانداز کرتی ہیں وہ عبرت کا نشان۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International