rki.news
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
مشرق وسطی سخت قسم کی کشیدگی کا شکار ہے اوروہاں دن بدن حالات بگڑ رہے ہیں۔اسرائیل نے فلسطین کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اب بھی لاکھوں فلسطینیوں کی زندگیاں سخت خطرے میں ہیں۔علاوہ ازیں ایران بھی خطرات کی زد میں آچکا ہے۔ایران میں گزشتہ سال کے دسمبر کے آخر میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے اور یہ مظاہرے مہنگائی کی بنیاد پر شروع ہوئے۔معمولی سے مظاہروں نے ملک گیرصورت اختیار کر لی۔یوں لگنے لگا کہ ایران کی موجودہ حکومت کا تختہ الٹنے والا ہے لیکن اب مظاہروں پر قابو پا لیا گیا ہے۔ہلاکتیں ہوئیں اور زخمی بھی ہوئے نیز گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔حکومت کی طرف سے ہلاکتوں کی کم تعداد بتائی جا رہی ہے اور ان ہلاکتوں کا الزام بھی شر پسند مظاہرین پر لگایا جا رہا ہے۔جبکہ کچھ ذرائع ابلاغ میں ہلاکتوں کی تعداد 30 ہزار تک بھی بتائی جا رہی ہے اور اس کی ذمہ داری ایران کی موجودہ گورنمنٹ پر ڈالی جا رہی ہے۔بہرحال مستقبل میں بہت کچھ واضح ہو جائے گا اور بہت کچھ پردہ راز میں بھی رہے گا۔ایرانی حکومت کوشش کر رہی ہے کہ ایران کی سلامتی برقرار رکھی جا سکے۔امریکہ اور اسرائیل کی دشمنی نے ایران کی سلامتی کے لیے ہمیشہ خطرات پیدا کیے ہیں۔گزشتہ سال کے جون میں بھی ایران پر اسرائیل نے حملہ کیا تھا اور اس کی مدد امریکہ نے بھی کی تھی،لیکن بڑی جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔اب بھی خدشات موجود ہیں کہ امریکہ یا اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ چھڑ جائے۔اگر جنگ چھڑتی ہے تو پورا خطہ لپیٹ میں آسکتا ہے،کیونکہ اسرائیل اپنے عزائم ظاہر کر چکا ہے کہ گریٹر اسرائیل بنایا جائے گا۔گریٹر اسرائیل کو بنانے کا مطلب یہ ہوگا کہ کئی ممالک صفحہ ہستی سے مٹ جائیں۔ممالک جب مٹ جائیں گے تو بہت بڑی انسانی آبادی بھی صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی۔اس لیے ضروری ہے کہ اسرائیل سمیت تمام امن دشمن طاقتوں کو بزور طاقت روکاجائے۔
ایران کو بھی اچھی طرح علم ہے کہ اس کو کون سے خطرات لاحق ہیں؟اس لیے ایران میں مسلسل جدید سے جدید اسلحہ اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ بوقت ضرورت آسانی سے نہ سہی مشکل سے ہی مقابلہ کیا جا سکے۔یہ درست ہے کہ ایران کے پاس مخالفین کے مقابلے میں کم جدید اسلحہ موجود ہے اورہتھیاروں کی تعداد بھی کم ہے،لیکن ایران کاموجودہ اسلحہ بھی اسرائیل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔اسرائیل کے علاوہ امریکہ بھی کوشش کر رہا ہے کہ ایران کو سبق سکھایا جائے۔امریکہ مشرق وسطی میں کئی دہائیوں سے فوجی اڈے بھی چلا رہا ہے اور وہاں اس کے 40 ہزار سے 50 ہزار فوجی بھی تعینات ہیں۔کونسل آف فارن ریلیشنز کے مطابق امریکہ کےکئی مقامات پر عارضی اور مستقل اڈوں کا نیٹ ورک موجود ہے۔ان میں سے آٹھ مستقل اڈے بحرین،مصر، عراق، اردن،کویت ،قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں موجود ہیں۔مستقل اڈوں کا مطلب یہ ہے کہ ان علاقوں کا کنٹرول امریکہ کے ہاتھوں میں ہے۔ان مستقل اور عارضی اڈوں کے ذریعے امریکہ ایران سمیت کسی بھی ریاست پر حملہ کر سکتا ہےنیزامریکہ مزید عارضی یا مستقل اڈے فوری طور پر بھی حاصل کر سکتا ہے۔اب اگر ایران کے ساتھ جنگ شروع ہوتی ہے تو یہ اڈے امریکہ کی سہولت کاری کے لیے کافی ہوں گے۔امریکہ کے لیے یہ سہولت ہے کہ ان اڈوں کے ذریعے ایران پر حملہ کر سکتا ہے اور اس طرح اس کا کم نقصان ہوگا۔جن ممالک میں امریکہ کے اڈے ہیں،ان پر جوابی حملے ہوں گے اور نقصان اڈوں والے ممالک ہی اٹھائیں گے۔ایران کے پاس صرف ایک ہی آپشن ہوگا کہ اسرائیل پر حملہ کرے۔اسرائیل کی تباہی امریکہ نہیں چاہتا۔اس لیےاسرائیل کی تباہی کا خدشہ ہی ایران کو محفوظ رکھے ہوئے ہے۔پھر بھی ایران پر حملہ ہو سکتا ہے اور یہ حملہ مشرق وسطی کے امن کو مکمل تباہ کر سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ ماضی کے مقابلے میں ایران مضبوط ہو چکا ہے۔ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان برگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے کہا کہ جنگ کے دوران حاصل ہونے والے عملی تجربات کی بنیاد پر نہ صرف میزائلوں کی کارکردگی بہتر کی گئی ہے بلکہ ان کی تعداد میں اضافہ بھی ہوا ہے۔اگر ایران ماضی کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تو ہو گیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ایران کی سلامتی زیادہ محفوظ ہو گئی ہے۔جبکہ پینٹاگون کی دستاویزات نے انکشاف کیاہے کہ ایران کمزور ہے اوراس کےلیے پہلے سے زیادہ خدشات بڑھ گئے ہیں۔اب ایران اگر واقعی کمزور ہو چکا ہے تو اس پر حملہ ہو سکتا ہے۔ماضی کے حالات کے پیش نظر دعوی کیا جا سکتا ہے کہ ایران پر اسرائیل لازما حملہ کرے گا،کیونکہ مشرق وسطی میں صرف ایران ہی سرخ نشان بنا ہوا ہے۔دیگر ممالک بھی مزاحمت کر سکتے ہیں،لیکن ایران پر قبضہ کر کے بہت بڑی کامیابی حاصل ہو جائے گی۔اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس وقت ایران کو بچایا جائے تاکہ مشرق وسطی میں بدامنی نہ پھیل سکے۔ایران بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں بھی ہے،جس کی وجہ سے وہ اپنا تیل یا دیگر معدنیات وغیرہ عالمی مارکیٹ میں فروخت نہیں کر سکتا اور نہ کوئی خریداری کر سکتا ہے۔عالمی پابندیاں اگر ہٹ جاتی ہیں تو ایران کابہت جلد ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شمار ہو سکتا ہے۔
یہ اعتراف تو ایرانی قیادت کو بھی کرنا چاہیے کہ انسانی حقوق کی پامالیاں بھی ہو رہی ہیں۔طبقہ اشرافیہ بہت زیادہ مراعات حاصل کر رہے ہیں اور عام آدمی کی مشکلات بہت ہی بڑھی ہوئی ہیں۔سیاسی اور مذہبی حالات بھی درست کرنے ہوں گے ورنہ نتائج ایران کے خلاف بھی جا سکتے ہیں۔کچھ دن قبل ہونے والے مظاہروں پر تو قابو پا لیا گیا ہے،ہو سکتا ہے مستقبل میں قابو نہ پایا جا سکے۔ایران یہ بھی دعوی کر رہا ہے کہ ان مظاہروں کے پیچھے دس دشمن ممالک کے اینٹلی جنس ادارے بھی ملوث تھے۔مستقبل میں اگر اس طرح مظاہرے شروع ہوئے تو ہو سکتا ہے ایران کھوکھلا ہو جائے۔ایرانی حکومت کو چاہیے کہ شہریوں کو بنیادی حقوق دے،ورنہ ایران اپنی سلامتی کھو بھی سکتا ہے۔بے شک ایران اس وقت شدید خطرات میں گھرا ہوا ہے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کب اس پر حملہ ہو جائے؟بین الاقوامی پروازوں کو بھی روکا جا رہا ہے۔حالات سے علم ہو رہا ہے کہ ایران کے خلاف سخت قسم کا شکنجہ کساجا رہا ہے۔مشرق وسطی کے ممالک بھی ایران کو بچانے کی کوشش کریں،ورنہ وہ بھی نشانہ بن سکتے ہیں۔علاوہ ازیں اس خطہ کا امن عالمی امن کا ضامن ہو سکتا ہے،اگر یہ خطہ بدامنی کا شکار ہو گیا تو عالمی بدامنی شروع ہو جائے گی۔یہ کہنا ضروری ہے کہ ایران کی مشکلات بہت زیادہ بڑھ گئی ہی
Leave a Reply