Today ePaper
Rahbar e Kisan International

جدیدیت کے ابتدائی تصورات جیف ویلس/Jeff Wallace

Literature - جہانِ ادب , Snippets , / Thursday, January 29th, 2026

  rki.news

ترجمہ،تسہیل ، تلخیص:ڈاکٹر عامر سہیل( ایبٹ آباد)

متنوع،اختراعی اورتجرباتی  اشیا کو محیط ہے۔اس میں ادب، پلاسٹک آرٹ،بصری فنون، موسیقی،فلم،ڈیزائن، فنِ تعمیر اور فیشن وغیرہ شامل ہے۔اس کے زمانے کا تعین کسی حد تک 1880ء تا 1950ء کی دہائی تک کیا جا سکتا ہے۔ یہ اصطلاح اپنی ابتدائی صورت میں،بیسویں صدی کے شروع میں،اینگلو امریکی  پڑھے لکھے طبقے نے آرٹ اور کلچر میں ہونے والی تجرباتی کیفیت کو واضح کرنے کی خاطر  استعمال کی تھی۔رفتہ رفتہ اس اصطلاح کا دائرہ اس قدر وسیع ہوا کہ اب انسان سے وابستہ ہرشئے،فکر،فن، فنکار، فلاسفہ ،ثقافتی مظاہر،تحریکیں،رجحانات،انڈسٹری،ملبوسات غرض اب یہ سب کچھ  ماڈرن ازم کی چھتری تلے آ چکا ہے۔ تاریخی  اور ثقافتی حوالے سے یہ تاحال ایک پیچیدہ اور گنجلگ علمی مظہر ہے۔ اگر ادبی سطح پر اس کا مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ جہاں کئی نئی اصناف اس کی دین ہیں وہاں پرانی اصناف کی حد بندیوں پر بھی سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ماڈرن ازم کی اصطلاح کو بھی ہر ناقد نے اپنے اپنے طو ر پر  سمجھنے اور سمجھانے کی سعی کی ہے،میرے نزدیک ماڈرن ازم تاریخ کا وہ لمحہ ہے جب آرٹ میں شعور  کی نفی کر دی گئی تھی۔علاوہ ازیں جانی پہچانی ادبی ہئیت کو نامانوس بنا دیا گیا ہے۔ہم جن اصناف اور اُن کی ہئیتوں کو تسلیم کر چکے ہیں اور  ہر قسم کی ادبی ساخت(صورت؛ڈول ؛ وضع ،ڈھنگ،تراش، روپ، چہرہ،شکل ، قالب، ہیکل، پیکر حالت) جو  کسی تصور کی نمائندہ رہی اسے مشکلات کا شکار بنانا ماڈرن ازم کے منشور کا حصہ رہا ہے۔مصوری میں  اشیا کو مسخ کرنا اور  مکعبیت (Cubism)جیسے نئے پیٹرن اسی کی وجہ سے رواج پانے لگے تھے۔ ماڈرن ازم نے جس انداز سے ادب اور  فکریات کی  مختلف جتہوں کو متاثر کیا اُسی طرح جنس اور سیکس کے بارے میں بھی علمی تحقیق کو آگے بڑھایا۔عورت کی حیاتیاتی،نفسیاتی،سماجی اور بشری   جہات کو پہلی مرتبہ بطور ایک سنجیدہ علمی  ڈسپلن کے موضوعِ بحث بنایا  جانے لگا۔اب ماڈرن آرٹسٹ  کو احساس ہونے لگ گیا کہ واقعی وجودِ زن سے تصویر کائنات  کے رنگ جلوہ دکھا رہے ہیں۔ جس طرح یہ سوال بڑے اہم ہیں کہ  ماڈرن ازم کب  شروع ہوا اور اس کی بنیادی فکریات کیا ہیں؟ بالکل اسی طرح یہ سوال بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ جغرافیائی طور پر ماڈرن ازم کی کیا پوزیشن بنتی ہے؟ اس کا ایک تسلیم شدہ جواب یہ ہے کہ اس فکر کاا صل مشاہدہ یورپ اور نیویارک میں ہی ممکن ہے۔اس امر میں کسی قسم کا کوئی  شبہ نہیں کہ ماڈرن ازم جس ثقافتی یلغار کو ہمراہ لایا  اس کی کھپت صرف بڑے بڑے شہروں میں ممکن تھی۔تاہم اس کا دائرہء اثر اب انڈیا،پاکستان،مشرقی ایشا،میکسیکو اور دور دراز جزائر  تک بآسانی دیکھا  جا سکتا ہے۔ ماڈرن ازم  کی بنیادوں میں  قومی حدود سے بلند  اور چھوٹے چھوٹے قومی مفادات سے بالا تر رہتے ہوئےآگے بڑھنا شامل ہے۔ماڈرن ازم کے مطالعات اب ہماری روز مرہ زندگی  سے بھرے پڑے ہیں ،کیوں کہ جدیدیت جس صارفیت کو ساتھ لائی اس  نے عام انسانی زندگی پر اتنے گہرے نقش چھوڑے ہیں جنھیں ماڈرنسٹ نقاد یا تجزیہ کار موضو ع بنانا پسند کرتے ہیں۔ بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں میں جدیدیت نے جو کایا پلٹ کی اس کا صحیح مشاہدہ صرف روزمرہ معمولات میں ممکن تھا۔یعنی انسانی رہن سہن کا طریقہ بدلا کہ وہ اب گھروں کے بجائے اپارٹمنٹس  بنا کر رہنے لگے،سفر کرنے کے ذرائع بدل گئے،کام کاج،کھانا پینا،خریداری،فیشن اور رابطے کے انداز و اطوار میں اس نئی صورتحال کی جھلکیاں بآسانی مشاہدہ کی جا سکتی ہیں۔ڈیزائن  اور فنِ تعمیر نے انسانی زندگی کو از سرنو مرتب کرنا شروع  کر دیا تھا۔ جدیدیت کے تحت لکھا جانے والا ادب بھی روزمرہ زندگی کا بدلتا پیش نامہ ثابت ہوا۔جیمس جائس نے  Ulyssesمیں وقت کے نفسیاتی پہلو اور  زندگی  کی باریک جزئیات کو  جس طرح سمیٹ کر  پیش کیا وہ نئے منظرنامے کی مزید تفہیم  کرتا ہے۔ورجینیا وولف نے  عورت  بحیثیت  فرد اپنی  آزادی اور خود مختاری کو جس طریقے سے دیکھنے کی خواہش مند ہے اُسے نہایت فنکارانہ مہارت کے ساتھ Mrs.Dallowayمیں زندہ کر دکھایا ہے۔ ٹیکنالوجی نے جس طرح  متنوع پیداوار کو عام کیا، جیسا کہ  ٹین کے ڈبوں میں کھانے کی چیزوں کا   دستیاب  ہونا پھرٹائپ رائیٹر اورموٹر کار نے زندگی میں نئی معنویت کے در کھول دیئے۔ جب سماج میں اس وسیع پیمانے پر تبدیلی آئی تو پھر جدیدیت کے مطالعات  بھی ادب اور جمالیات کے تنگنائے سے نکل کر بین العلومی مظاہر کی جانب متوجہ ہوئے جس کے باعث جدیدیت اب  ثقافتی مطالعات کا حصہ بن چکا ہے۔ٹیکنالوجی نے جمالیات کے تصورات پر کاری ضرب لگائی اس ضمن میں ایکسرے اور  کیمرے سے بننے والے فوٹوگراف نے زاویہ ہائے نظر بدل کر رکھ دیئے۔انسانی جسم کے بارے میں ان نئے ادراکات نے انسانی تخیل کو اصل حقیقیت دیکھنے پر مجبور کر دیا تھا۔ جدیدیت کی پذیرائی اور اس کی تفہیم و ترسیل کی خاطر  رسائل و جرائد کی اہمیت کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا  سکتا۔یہ بظاہر معمولی نظر آنے والے رسائل جدیدیت پر  مستقل لکھنے کی وجہ سے آج بھی محققین کی توجہ کا مرکز ہیں کیوں یہاں کافی علمی سرمایہ محفوظ ہو گیا تھا۔عہد حاضر میں جدیدیت پر لکھنے والے آن لائن تحقیقی رسائل اسی روایت کی جدید شکل ہیں۔جدیدیت  پر بحث کے دوران ہمارا واسطہ تین ایسی اصطلاحات سے پڑتا ہے  جنھیں ہم معنی سمجھنے کی عمومی غلطی کی جاتی ہے،ان کے نامModerism,Modernity,Post modernism ہیں۔یہاں اصل نکتہ خاطر نشان رہے کہ جدیدیت((Modernism سے مراد  بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں کی وہ انقلابی تحریک جس اظہار ادب اور آرٹ کی دنیا میں ہوا تھا۔اس اصطلاح کا باقاعدہ ایک ماضی ہے جسے امریکہ کے پڑھے لکھے بااثر طبقے نے اعتبار بخشا  اور تمام ثقافتی مظاہر کو محور قرار دیا۔ جدیدیت کی دیگر صفات میں آرٹ کے وہ رجحانات بھی شامل ہیں جس میں کلاسیکی/روایتی جکڑ بندیوں کے برعکس اُصول و ضوابط کا گہرا ذاتی شعور شامل ہے۔جدیدیت نے وقت کے  اس تصور کو بھی  چھوڑ دیا جو خطِ مستقیم کا پابند تھا جس میں اشیا زمانی تسلسل سے آگے بڑھتی تھیں یعنی اُن کا ایک خاص نقطہء آغاز اور نقطہء انجام  ہوتا تھا،اس کے برعکس  وقت کا ادراک  ماضی،حال اور مستقبل کی یکجائی میں دیکھنے کا رجحان بڑھنے لگا۔ بصری فنون اورفلم میں اس کی مثال مونتاج(کسی فن پارے، ادب پارے یا موسیقی کی ترتیب میں غیرمتجانس عناصر کو باہم ملا کر ایک واحد تصوّر یا مربوط کُل کی تخلیق)میں دیکھی جا سکتی ہے۔یہیں سےتجسیم کاری کا عمل فکشن میں در آیا اور اشیا کی ماہئیت کو زمان سے زیادہ مکان کے حوالے سے جاننے کی کوشش کو فروغ ملنے لگا۔قولِ محال،ابہام ،تجرید،اور غیر  یقینی صورت حال  کا چلن عام ہوا۔ فکشن میں کہانی کو کہیں  بھی منقطع کرکے انجام پذیر کرنا،عبوری اور ہنگامی  مظاہر کا فروغ،مصوری میں منظر نامہ اور پیش نامہ کا عجیب تضاد،فکشن میں واحد بیانیہ کی جگہ کثیر بیانیہ کا رواج اور پھر مزید اسی قسم کے تصورات و تعقلات جدیدیت کی پہچان ثابت ہوئے۔ان سب پر مستزاد وہ رویہ یا رجحان ہے جسے صلبِ  انسانیت کا نام دیا  گیا ہے،جدیدیت نے اسے Dehumanizationکی اصطلاح سے موسوم کیاہے،اس میں انسان کی اصلی صفات مفقود ہو جاتی ہیں یا دوسرے لفظوں میں ان کا  جنازہ نکال دیا جاتا ہے۔یہ دراصل دوسرے لوگوں میں انسانیت کی موجودگی کا مکمل   انکار ہے،یہی وجہ ہے کہ  سماج کے کم تر لوگوں کے ساتھ ہونے والے ظلم اور مصائب پر ان کے دل افسردہ نہیں ہوتے۔یعنی لوگوں میں ذہنی صلاحیتوں  کی کمی اُن کا سب سے بڑا جرم قرار پاتا ہے۔ جہاں تک دوسری اصطلاح جدت یا Modernity کا تعلق ہے تو اسے ماڈرن ازم سے  الگ سمجھنا چاہیئے،اگرچہ ان دونوں میں خاصی مماثلت بھی موجود ہے۔ ماڈرن ازم ایک خاص عہد کی ثقافتی ساختوں کو ظاہر کرتی ہےجب کہ  جدت یا Modernity ایک ایسا تاریخی عمل ہے   جس کے وسیع تناظر میں جدیدیت جنم لیتی ہے۔یوں اگر  دیکھا جائے تو جدت کے وسیع زمانی عمل میں جدیدیت محض ایک چھوٹا سا واقعہ ہے۔اسے ماڈرن بننے میں تاریخ کے ایک بڑے عمل سے گزرنا پڑا ہے۔مورخین نے اپنی کتابوں میں Early Modernکی اصطلاح سولہویں صدی کے لیے استعمال کی ہے یہاں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تاریخی ڈسکورس میں جدت کی اصطلاح کس قدر وسعتوں کی حامل ہے۔ تاریخی حوالےسے جدت کے چار ایسے سنگِ میل سامنے رکھے جا سکتے ہیں جس کی مدد سے  یہ اصطلاح مزید واضح ہو جاتی ہے۔پہلا موڑ جاگیر داری سے سرمایہ داری ہے جس میں لوگوں نے دیہاتوں سے شہروں کی جانب ہجرت کی اس طرح وہ شہری زندگی کی لذتوں سے بہرہ ور ہوئے اورنئے قصبے اور شہر آباد ہونے لگے۔ انیسویں صدی  میں کچھ آزاد ریاستیں استعمار کی شکل میں اُبھریں انھوں نے اپنے ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کی خاطر نوآبادیات قائم کیں۔استعماری ادارے اس قدر مضبوط ہوئے کہ اُن کا شمار دنیا کے اہم تجارتی مراکز میں ہونے لگا۔اس کی وجہ سے نئے  تصورات اور زبانوں کو  عروج ملا جس کے زیرِ سایہ جدید آرٹ کا راستہ ہموار ہو گیا۔ روپے پیسے کی فراوانی نے مزدور اور اُجرت کی قدر کو ایک نئے زاویئے سے سامنے لایا جس کا  فائدہ صرف سرمایہ دار کو ہوا۔سماج میں کام کاج کی نوعیت بدلی تو  صنعتی انقلاب نے مارکیٹ کا پرانا تصور بھی بدل کر رکھ دیا۔ دن کی روشنی اور موسموں کے تغیرات پر قابو پانا سیکھا لیا گیا۔جس نے پیداواری صلاحیت میں نا قابلِ یقین حد تک اضافہ کیا۔اس کے ہمراہ روشن خیالی بھی آ گئی جس نے پرانے عقائد اور رسومات پر کاری ضرب لگائی اور عقل و منطق کی حکمرانی قائم کرنے پر توجہ دی۔ ہر شئے کو منافع کی خاطر قربان کر دینا اس فکر کا اہم تقاضا قرار پایا۔دوسرا  موڑ انقلابِ فرانس(1789) ہے جس نے مطلق العنان باشاہت کا  خاتمہ کیا اور منطقی طور پر روشن خیال سیاست اور فلسفے کی اہمیت بڑھ گئی۔ بادشاہ لیوئس کو پھانسی دینے کے بعد  فرانس میں سیکولر حکومت بن گئی جس نے خالص جمہوری اُصولوں کے ساتھ مساوات ، آزادی ، اخوت اور عقل و خرد کو اپنا رہنما تسلیم کر  لیا۔ انھوں نے خود کو ہر قسم کی توہم پرستی سے آزاد کیا،اپنی تاریخ خود رقم کی اور جہالت کو ہر ممکن طریقے سے ملک بدر کر دیا۔ تیسرا اہم موڑ 1848ء کا بنتا ہے جب یورپ کے بڑے بڑے ممالک مثلاً اٹلی،فرانس، ہنگری، سویٹزرلینڈ ، آسٹریا، جرمنی اور بیلجیم میں مزدوروں اور حکومت کے درمیان رسہ کشی شروع ہو ئی ۔اس دور کو اے جے پی ٹیلر نے ” عوامی دور” قرار دیا تھا۔چوتھا اور آخری موڑ پہلی جنگ عظیم ہے۔ یہ جنگ اصل میں ان تمام خرابیوں کی وجہ سے پیدا  ہوئی جس میں نوآبادیات،معاشی خود غرضی،آگے نکلنے کی دوڑ اور ہر قسم  کی اقدار سے خود کو آزاد کرانے کی ذہنیت  شامل ہے۔اُس وقت یورپ اس حد تک اخلاقی پستی میں گرا ہوا   تھا کہ اُن کا یہ  نعرہ  تھا کہ” سچائی تلاش نہیں کی جاتی بلکہ اپنی ضرورت کے مطابق گھڑی جاتی  ہے۔” جدیدیت کی بہتر تفہیم  اس تمہید کے بغیر نہیں ممکن نہیں ہے۔

(2) جدیدیت  اور بصری فنون

مصوری باقی تمام فنون پر سبقت لے گئی ہے اور اس کے اظہار کا ایک وسیلہ تجرید  ہے۔ جدیدیت نے آرٹ کی دنیا میں اہم تحریکوں مثلاً  معکبیت(Cubism)،اظہاریت((Expressionism اور سرئیلزم نے اس مفروضے کو غلط ثابت کر دیا کہ آرٹ سماجی مسائل یا معروضی دنیا کو بڑی وضاحت کے ساتھ پیش کرتا ہے  جسےہم پہچان سکتے ہیں۔گلین بیکسڑ نے ٹام کی جو تصویر بنائی تھی اسے دیکھ کر یہ قیاس کرنا محال ہے کہ یہ کس قسم کے تصور ،خیال،شئے کو پیش کر رہی ہے اور اس سے معنی اخذ کرنے کے لیے نظروں کے زاویوں کو کیسے ایڈجسٹ کرنا ہو  گا۔یہ اصل میں تجریدی آرٹ تھا۔جدید  اور بصری آرٹ کے اُسلوب میں جو انقلاب آیا  اس نے مانوسیت اور  حوالہ جاتی کاموں میں مشکلات پیدا کر دی تھیں کیوں کہ اس سے قبل رئیلزم اپنی بنیادیں مضبوط کر چکا تھا۔ اب یہ الگ مسئلہ ہے کہ  بصری آرٹ ہمیشہ رئیلزم کا پابند نہیں ہوتا۔ بذات خود جدیدیت میں رئیلزم  کا تصور ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔یہاں ایک سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ  آرٹ اور جدید طرزِ زندگی کا آپسی تعلق کیا ہے؟جدید آرٹ میں تجرید کا کیا مقام ہے؟جدید ٹیکنالوجی،  مثلاً فلم اور فوٹوگراف نے بصری آرٹ کو کیسے متاثر کیا؟ جدید مصوری کے حوالے سے 1850 ء تا 1940ء تک   فرانس نے ترقی دکھائی ،امریکہ نے اس  ضمن میں جدید کے پیچیدہ امور کی جانب توجہ مبذول رکھی۔ماڈرنسٹ امیجری نے مباحث اٹھائے رکھے کہ  اس آرٹ کو کس زاویئے سے دیکھا جائے اور ان کی توضیح کیسے ممکن ہے؟اس کام کی خاطر نقشے اور ڈائیگرام تک استعمال ہونے لگ گئے تا کہ کسی نہ کسی طرح جدید آرٹ کا اسلوب،موضوع اور ہئیت کی تفہیم ممکن ہو سکے۔ معکبیت((Cubism اور تجریدی مصوری پر کیٹلاگ تیار ہونے لگ گئے۔اور جدید بصری آرٹ کو چار مختلف تناظرات کے تحت زیر بحث لانے کا رواج بڑھا،ان میں حقیقت پسندی کامعاملہ تجرید کے ساتھ،آزادی،آواں گارد((Avantgarde اور ٹیکنالوجی کی تبدیلیاں سرفہرست ہیں۔اس زمانے کا ایک قول روحِ عصر کی نمائندگی کر رہا  تھا کہ” اگر ہم نے خود کو اشیا کی حقیقی تصویر کشی تک محدود کر لیاتو،روح کا ارتقا بھی رُک جائے گا”یہ قول سی برین کیوسی کا ہے۔  1991ء میں روبرٹ ہیوز  کی مقبول تصینفThe Shock of the New سامنے آئی جس میں  یہ بحث اُٹھائی گئی کہ جدیدیت نے جس انداز سے کہانی  لکھنے کا رواج دیا اُس کی وجہ سے نقالی یعنیMimesisکا وجود خطرے میں پڑا گیا ہے۔یہ ارسطو کا دیا ہوا سنہری اُصول تھا جس کے مطابق آرٹ کا اصل کام یہ ہے کہ وہ  حقیقیت کے کسی پہلو کی نقل پیش کرے۔روبرٹ ہیوز نے تجویز دی کہ نقل کا تصور یا حقیقیت پسندی اصل میں ایسے تصورات ہیں جن کی نوعیت تناقض بالذات کی ہے۔حقیقیت کا تاثر دینے کے لیے مصور کا ذہین  اور اپنے فن میں چابکدست ہونا  بہت ضروری ہے، کیوں کہ اس نے ہموار سطح پر گہرائی کے ابعاد دکھانے ہوتے ہیں۔اس پیراڈاکس کے مطابق حقیقت پسندی بذات خود ایک عیارانہ اختراع ہے،یہ صرف حقیقت کا ایک ماڈل یا  سراب یا دھوکا یا پھر  التباس تخلیق کرتی ہے،اس طرح اگر دیکھا جائے تو حقیقیت کہیں زیادہ تجریدی بن جاتی ہے۔اب سوچنا یہ ہے کہ  حقیقیت کے بارے میں ہمارے کلاسیکی تصور  کا کیا بنے گا؟کیا  جدیدیت کے زیرِ اثر تخلیق ہونے والا آرٹ یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ  ماضی کے مقابلے میں زیادہ حقیقی ہے؟یہ ایسے سوالات تھے جو جواب  طلب تھے۔   اس بحث کو پال سیزان( (Paul Cezanneنے معکبیت کی روشنی میں آگے  بڑھاتے ہوئے کہا کہ فطرت کا مشاہدہ ہم تین پہلو ؤں  سے کر سکتے ہیں ۔ پہلی  شکل کو اسطوانہ یا بیلن((Cylinder کہیں گےجس میں کوئی بھی جامد جو دو متوازی سطوح مستوی اور ایک منحنی سطح سے محدود ہو اور جسے ایک خط مستقیم کو اس طرح حرکت دے کر بنایا جائے کہ وہ مستقل ایک معین قوس کو چھوئے اور اس کے اصل مقام سے ہمیشہ متوازی ہو،دوسری شکل کو کرہ یا  دائرہ((Sphere کہا گیا جو اصلاً جیومیٹری کی ایک ٹھوس شکل  ہےجو ایک نیم دائرے کے اپنے قطر کے اطراف گھومنے سے بنتی ہے؛ وہ گول شے جو تمام اطراف میں مرکز سے ہم فاصلہ ہو اس گول شکل کا کوئی وجود، جیسے گلوب یا گیند،تیسری صورت  مخروطہ یا Cone کی ہے۔ اس کا مشہورجملہ ہے کہ انسان کی ظاہری سطح کے مقابلے میں اس کی گہرائی زیادہ ہے۔سیزان نے اس حقیقیت کو باور کرایا کہ  ظاہری سطحوں سے باہر نکل کر  اشیاکے بطون میں جھانکا جائے،یہ عمیق ساخت دراصل حقیقیت کا  مشاہدہ ہے۔  محولہ بالا اقلیدسی اشکال میں  Cube کا اضافہ کرنے کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ  ان اشکال کا ایک اور فائدہ  بھی ہے کہ روشنی کا استعمال نئی تخلیقی سطحوں پر سامنے آنے لگا تھا۔اس دور میں چوں کہ معکبیت ((Cubismکا چلن عام تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ فن کار کے لیے ہر طرح کی آزادی اور تخلیقی جہت کا سامان موجود تھا۔اس رجحان کی نمایاں صفات کو درج ذیل نکات میں سمجھا جا سکتا ہے۔

  • نقالی اور تصویر سازی کو اقلیدسی اشکال اور ڈائیگرام کے مقابلے میں رد کر دینا۔
  • دو ابعادی((Two-dimentionalتصویر کو سہ  ابعادی پر محض اس خاطر ترجیح دینا کہ اس میں بصری دھوکا پیدا کیا جاتا تھا۔یہاں Space کی معنویت کو بھی از سرِنو متعین کیا گیا ہے۔ اب خلا خالی برتن  کی مانند     نہیں رہی کہ جس میں چیزیں رکھی جاتی ہیں بلکہ خلا اپنے آپ میں ایک طرح کی ہستی بن جاتی ہے، گویا دیکھنے والے کی آنکھ تصویر کی چپٹی سطح کے قریب ہی قید ہو جاتی ہے، پھر بھی اس کے متحرک ہونے میں زیادہ فعال کردار ادا کرتی ہے۔
  • فرانسیسیمصوری کے آرٹ کی ایک تحریک((Fauvism جو بیسویں صدی کے اوائل میں اٹھی، اس کا امتیاز بگاڑے ہوئے چپٹے ڈیزائن اور بھڑکیلے رنگ تھے، یہ تحریک اجتماعی سے زیادہ انفرادی تھی اور اس میں Matisse,Vlaminck,Rouaultجیسے آرٹسٹ شامل تھے۔اس کے برعکس مدھم یا کم رنگ  کو اہمیت دی  گئی ۔ گویا کینوس پر موجود اشیاء اور  سادہ جگہوں کے درمیان تعلق کے تجزیے کے حق میں ناظرین میں حسی ردعمل کی حوصلہ شکنی کرنا مقصود تھا۔
  • اشیاءکی نسبتی یکجہتی یا شفافیت کے بارے میں ایک غیر یقینی صورتحال، گویا ان کی تعریف یا شناخت  خود اپنی ذات میں مکمل نہیں بلکہ دوسری چیزوں کے ساتھ ان کے بدلتے ہوئے تعلقات کے لحاظ سے کی جا سکتی ہے۔
  • ایکہی شئے  کو،ایک ہی وقت میں، مختلف تناظرات کے ساتھ اس طرح دیکھنا کہ زمان و مکاں کی متنوع  حالتوں میں ان  کا وجود ہم آہنگ رہے۔
  • آرٹ میںغیر یورپی یا قدیم ثقافتی فنون کا حوالہ لانا،جیسا کہ پکاسو کے آرٹ((Demoiselles میں افریقی قبائل کی بازگشت سنی جا سکتی ہے۔

اگر معکبیت کی تاریخ دیکھی جائے  تو یہاں ہمیں حقیقت اور تجرید  کے درمیان انتہائی پیچیدہ تعلق اور تصورات کا سمندر موجزن ملے گا،بعد میں روحانیت  کو بھی اس بحث میں شامل کر لیا گیا تھا۔اس موضوع پر فرانسیسی اور انگریزی میں قابلِ قدر ذخیرہ موجود ہے جسے پڑھ کر اس عہد کی تاریخ کو ذہنوں میں زندہ کیا جا سکتا ہے۔ جدیدیت  نے تاثریت((Impressionismاور اظہاریت((Expressionism  جیسی تحریکوں کو  بصری فنون میں خصوصی اہمیت دی،جس نے یہ اہم سوال  اٹھایا کہ کیا ان کے وجہ سے مصوروں نے خود مختاری حاصل کر لی تھی؟اپنی اصل کے اعتبار سے دونوں تحریکوں میں واضح حد فاصل قائم تھی۔تاثریت کی بنیاد معروضیت  پر تھی  جس میں جدید زندگی کے مظاہر کو روشنی کے بدلتے شیڈز میں مشاہدہ کرنے کا رجحان غالب ہے۔ جب کہ اظہاریت   نےموضوعی  پیرائے میں  زندگی کو حِسی اور عقلی سطحوں دیکھا اور دکھایا ہے۔یورپ میں اجتماعی شہری شناخت  کاایک اہم  مرحلہ  جرمن اظہاریت پسندی نے طے کر لیا۔لیکن یہ  نکتہ  خاطر نشان رہے کہ تاثریت اور اظہاریت ،دونوں نے مصوری کی روایت کے ذریعے جدید زندگی کی حقیقت بیان کر دی ہے ۔ اب اگلا سوال یہ ہے جدیدیت نے آواں گارد،((Avant-gardeمستقبل شناسی،ڈاڈا ازم اور سرئیلزم سے کیا کام لیا۔پہلے آواں گارد کی اصطلاح پر توجہ کیجئے، یہ  لفظ پیش رو،پہل کار،یاکسی بھی میدان میں اختراعی پیش قدمی کرنے والوں ،بالخصوص فن کار یا ادیب جو غیر تقلیدی یا انقلابی تصورات یا اسالیب سے کام  لیں اُن کے لیے بولا جاتا ہے۔اسے ہراول دستہ بھی کہہ سکتے  ہیں۔ثقافتی اصطلاح کے طور پر اسے فرانسیسی یوٹوپیائی  سوشلسٹ  ہنری ڈی سینٹ سیمن  سے منسوب کیا جاتا ہے۔اس کا تعلق اُس گروہ کے ساتھ  تھاجو مستقبل میں سماج کی  کایا پلٹ کرناچاہتے تھے۔باقی بیان کردہ اصطلاحات میں ہمیں آزادی او ر سیاست کے ملے جُلے شیڈز نظر آتے ہیں۔ مقصد یہی تھاکہ اظہارو ابلاغ اور ترسیل معانی کے نئے وسائل پیدا کیے جائیں۔ فوٹو گرافی کی ایجاد نے جدید بصری آرٹ کو کئی حوالوں سے متاثر کیا ہے۔اس میں ہونے والی تیز ترین پیش رفت نے فوٹو گرافی کو اس مقام تک پہنچا دیا جہاں اب پریس کی وجہ سے تصاویر کی اشاعت ممکن ہو چکی تھی۔یہ سب تبدیلیاں 1826ء سے 1925ء کے درمیاں عمل میں آئیں۔کوڈک کیمرے نے وہ سب کچھ ممکن بنا دیا جو ایک مصور اپنے فن کے ذریعے کیا کرتا تھا۔نتیجے کے طور پر اب آرٹسٹ کے پاس یہی ایک راستہ بچ گیا کہ وہ تصویر بنانے کا کوئی ایسا متبادل  راستہ تلاشے  جو فوٹو گرافی سے یکسر مختلف ہو۔اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ جدیدیت میں کیمرہ گرافی اور مصوری کا باہمی رشتہ خاصا پیچیدہ ہے۔یہی وہ تناظر ہے جس   نےمصوری میں ڈاڈا ازم اور سرئیلزم کی راہیں ہموار کر دی تھیں۔ یہ بات واضح رہے کہ مصوری اپنے دور کا غالب رجحان رہا اور فوٹو گرافی کے کئی معاملات مصوری ہی کے مرہونِ منت ہیں۔پھر وہ دور بھی آیا جب جدیدیت کے زیرِ اثر کیمرہ کلب،آرٹ گیلری،نمائش اور رسائل ایک پلیٹ فارم پر آ جمع ہوئے۔یورپ میں مصوری کی کئی نمائشیں اصل میں فوٹو گرافی کلب کے زیراہتمام منعقد ہوئیں اور  مصوروں نے فوٹو گرافی کو مقبول بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کیا۔جدیدیت کی راست تفہیم حاصل کرنے کی خاطر  فوٹو گرافی کی تاریخ،مسائل اور اثرات کو جاننا از حد ضروری ہے۔والٹر بینجمن نے 1931ء میں فوٹو گرافی کی جو مختصر تاریخ لکھی وہ ان تمام اہم مسائل کی نشان دہی کرتی ہے۔

3) جدیدیت کی تاریخ اور سیاست

ہم تاریخ اور سیاست کے باہمی رشتے کو جدیدیت کے معاصر تناظر میں کیسے سمجھ سکتے ہیں؟اس کی خاطر ہمیں تاریخ کا ایک ایسا ماڈل سامنے رکھنا ہوگا جس  میں آرٹ کی تحریکیں فعال نظر آئیں۔کیوں کہ بصری آرٹ کے تحت  مصوری  اور فوٹوگرافی  میں جو پیش رفت ہوئی وہ بذات خود تاریخی عمل ہے۔جب دنیا میں تیزی کے ساتھ بدلاؤ  آ رہا تھا اُس وقت جدیدیت بھی سماجی اکھاڑ پچھاڑ اور بے یقین صورتِ حال  کے مقام پر کھڑی سب کچھ دیکھ رہی تھی۔فرانسیسی شاعر  چارلس پیگی نے اپنی موت سے ایک سال قبل 1914ء میں یہ شہرہ آفاق بات کہی کہ” دنیا نے گزشتہ 30 برسوں میں جتنی تبدیلیاں دیکھیں، اتنی حضرت عیسیٰؑ سے  تاحال نہیں دیکھی ہوں گی”۔جدیدیت میں ہئیت ((Forms میں جس طرح توڑ پھوڑ شروع ہوئی اس کی ایک وجہ سماجی اور سیاسی اتار چڑھاؤ بھی تھا۔ جدیدیت کی تاریخ میں تین اہم سیاسی واقعات کو  کلیدی حیثیت حاصل ہے،جن کی ترتیب کچھ یوں ہے: پہلی جنگِ عظیم(1914ء تا 1918ء)، روسی بالشویک انقلاب(1917ء) اور German Weimar Republic and Bauhaus Instituite کا قیام جس کا دورانیہ تاریخی اعتبار سے  1919ء تا 1933ء بنتا ہے۔یہ چاروں مظاہر واقعات سے کہیں زیادہ  تدریجی تغیر کے ساتھ منسلک ہیں: جیسا کہ سلطنت اور نوآبادیات،فورڈ سرمایہ داری اور صارفیت کلچر،نئی ٹیکنالوجی کا عروج اور جنس کے موضوع پر نئے ڈسکورس کا آغاز وغیرہ۔ ان سب  واقعات کا بیان حقائق کی بازیافت ہرگز نہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ  تاریخ اور جدید کلچر کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ متصل چلے آ رہے ہیں۔

4) جدیدیت کے اہم تصورات

والٹ وٹمین((Walt Whitman نے 1885ء میں سیکولر تصورات کے بارے میں اپنے کتاب Leaves Of Grass کے دیباچے میں اظہار خیال کرتے ہوئے مذہبی پیشوائیت پر کاری ضرب لگا دی تھی اور واشگاف  الفاظ میں یہ کہا کہ اِن کا عہد گزر چکا اب ان کی جگہ بہتر لوگ سماج میں آئیں گے اوراس  آزادسماج میں ہر انسان اپنا پادری خود ہو گا۔ والٹ وٹمین کے یہ الفاظ  جدیدیت اور سیکولر سماج کا مقدمہ بن گئے۔وٹمین( 18191ء -1991ء) جدید شاعری کا بہت اہم پیش رو ہے کیوں کہ اسی نے آزاد نظم کی بنیاد ڈالی تھی۔اس جدید نظمیہ ہئیت نے روایتی  شعری ساخت،بحور اور اوزان کو چھوڑ دیا تھا۔ سماج میں انفردیت کی حیثیت بڑھ گئی اور اجتماعیت کا نیا مفہوم سامنے آنے لگا۔سیکولر ازم نے مذہب کا خاتمہ نہیں کیا بلکہ اسے بڑی حد تک فرد کا ذاتی مسئلہ قرار دیا جس میں ریاست کا کوئی دخل نہیں تھا۔اسے جمہوری انفرادیت پسندی کہا جا سکتا ہے جہاں ہر شخص اپنا پریسٹ خود تھا۔اس رجائیت بھرے وژن کے مقابلے میں مذہب کی سابقہ حیثیت قائم نہ رہی اور رفتہ رفتہ سیکولر معاشرے میں اس کا اثر ونفوذ کم پڑنے لگا۔ اس نئے ماحول میں آرٹ کو جو آزادی نصیب ہوئی تو وہاں برہنہ مجسمے بننے لگے،جس میں یہ دکھانا تھا کہ انسان اب صرف اپنے ساتھ ہی رہ رہا ہے اس پر سے ہر قسم کی سماجی اور مذہبی پابندی ختم ہو چکی ہے۔یہ وہی دور ہے جس میں وجودیت کی تحریک اُبھری اور سارتر،البرٹ کامیو  اور سیمن ڈی بوا نے انسانی  وجود  کی معنویت کو اجاگر کرنے میں اپنی عمریں صرف کر دیں۔ اس فکر کے مطابق انسان کا ہونا اہم ہے نہ کہ یہ  پوچھنا کہ وہ کیوں ہے۔ مذہب  کی فکریات سے آزادی  کے بعد انسان کی جو نئی صورت سامنے آئی اس کا بہترین اظہار ہمیں فریڈرک نطشے کی تحریروں میں ملتا ہے۔  فریڈرک نطشے( 1844ء- 1900ء) جدید یت کےاہم بنیاد گزاروں میں سے ہے۔اس نے لامذہبی جدیدیت کو اپنایا اور  ہر قسم کی ماورائی قوت کا انکاری ہو گیا۔ اس کی  شہرہ آفاق کتاب بعنوانThe Gay Science جو 1881ء میں منظر عام پر آئی اُس  میں ایک پاگل آدمی کو دکھایا گیا ہے جس نے دن کی روشنی میں ایک لالٹین ہاتھ میں پکڑ رکھی ہے اور ہر کسی سے یہ کہتا ہے کہ وہ خدا کی  تلاش میں ہے جس کے بغیرانسان اس وسیع کائنات  میں اکیلا رہ گیاہے۔اس نے سوال اٹھایا کہ انسان خود کو کیسے پاک کر سکتا ہے؟ اس کے لیے کون سی  نئی مذہبی رسومات اختراع کرنی ہوں گی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ انسان خود ہی  ہر شئے کا مالک بن چکا ہے!  دن کی روشنی میں لالٹین   بظاہر بے اثر نظر آتی ہے، لیکن اس کا اشارہ روشن خیالی کی تحریک کی طرف بھی جاتا ہے کہ جب سیکولر خیالات عام ہوئے تو پرانے زمانے کا طلسم بھی از خود ٹوٹ گیا۔نطشے کے پاگل کردار میں  علامتی حوالے سے یہ بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ جاود اور مذہبی رسومات کی جگہ اب منطقی اور عقلی قوت کا راج ہے ۔عقل و شعور نے اپنی راجدھانی قائم کر لی ہے۔اب انسان ہی سب کچھ ہے اور اپنی تقدیر کا آپ مالک ہے۔جدیدیت نے اس خلا کو اپنے نئے دعووں کی مدد سے پُر کرنی کی کوشش کی جسے ہم کسی حد تک پرانے دور کی تلافی یا کفارہ بھی کہہ  سکتے ہیں۔نئے تصورات کی آبیاری میں ہنری جیمز، ورجینا وولف،ٹی ایس ایلیٹ، ملارمے اورگئیوم ایپولی نا نے اپنے کردار خوب نبھائے۔ یہ  بھی کہا جا سکتا ہے کہ  جدیدیت بڑی حدتک رومانیت کا ردِ عمل رہی ہے کیوں کہ ولیم بلیک اور  ورڈز ورتھ نے اپنی شاعری میں صنعتی سرمایہ داری اور بے لگام عقلیت کی بڑی مخالفت کی ہے۔نطشے کا فلسفہ اپنی پوری شدت کے ساتھ عقلی ہی رہا جس میں وہ معاصر مذہبی پیشوائیت پر ضرب لگاتا ہے۔اس نے  The Genealogy of Moralsمیں لکھا ہے کہ” انسان وہاں کیا سیکھ سکتا ہے جہاں فکر کی تمام راہیں مسدود ہوں”۔نطشے کا خیال تھا کہ مذہبی پیشوائیت نے غلامی کی اقدار  متعارف کرائی ہیں جس کی وجہ سے سماج  میں طاقت اور قوت کا فطری توازن بگڑا ہے۔ سماج میں گناہ اور ثواب کا ایسا تجریدی نظام رواج پا گیا ہے جو ارادے کی قوت کے منافی ہے۔نطشے کا وہ فلسفہ جس کا تعلق ارادے اور طاقت کے ساتھ تھا بالآخر سپر  مین کی روپ میں سامنے آیا جوبذات خود ہر قسم کی اخلاقیات کا معیار بن گیا،سپر مین کی یہ حیثیت علم فلسفہ میں متنازع رہی ہے۔جس طرح نازی/فاشسٹ فکر نے سماجی اقدار کو مسخ کیا اور آریائی نسبت کو  برتری کی علامت قرار دیا اس بنیاد پر یہ کہنا مناسب ہے کہ نطشے اصلاً ایک  فاشسٹ فلسفی تھا کیوں کہ اس کی فکریات نہ صرف ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرتی ہے بلکہ آمریت کو بھی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔نطشے کی کئی تحریریں ایسی  ہیں جو اپنے  بلند آہنگ اُسلوب،اختصار پسندی اور جدلیاتی توانائی کی بدولت جدیدیت کی تفہیم میں معاونت کرتی ہیں۔اس کی اہم تصنیفThe Birth of Tragedy جو 1872ء میں شائع  ہوئی،اس میں ارادے کی  پر  وقیع خیالات ہیں لیکن اس کتاب کو ہم جدیدیت کے جمالیاتی  پہلو کے طورپر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ نطشے کا جمالیاتی نظریہ بڑی حد  تک قدیم یونانی روایت سے متاثر ہے،وہ ایک طرف  اپالو کی صفات سے  اپنے جمالیاتی نظریے کو ہم آہنگ کرتا ہے جس میں روشنی، خواب، ذہن،علامت،تفکر،خیالات اورپلاسٹک آرٹس شامل ہے تو دوسری جانب دایو نیسس((Dionysus ہے جس سے وہ تاریکی، جسم،جبلت، سرشاری و بے خودی اور موسیقی کا فن حاصل کرتا ہے۔جدیدیت کے زیرِ اثر جس  کلچر کی نشوونما ہوئی اُس میں اپالو کو برتری حاصل ہے،یعنی زندگی بڑھانے والی قوتیں مثلاًعقلیت اور خیالات کو  فوقیت ملی۔ نطشے کا کہنا ہے کہ سیکولر ازم اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب اپنے آپ  کو سمجھنے کی خاطر  تاریخ کو اساطیر سے بدل دیا جائے،جہاں اساطیر  انسان کی تحت الشعوری مابعد الطبیعیات کی نمائندگی کرنا شروع کر دے۔نطشے کے ان خیالات کا اثر اتنا شدید تھا کہ مائیکل بیل نےاسے جدیدیت میں اساطیر بنانے کا نام دیا ہے۔اس ضمن میں اگر دیکھا جائے تو جیمس جائس کی یولی سس،ٹی ایس ایلیٹ کی ویسٹ لینڈ اور ایزاپاؤنڈ کی   شعری تصنیف Pisan Cantos اصل میں شعوری سطح پر اساطیری ساختوں کی اعلیٰ پیش کش ہے۔کلاسیکی ادب یا پھر   علم الانسان میں  اساطیری اظہارات کی مشترکہ خواہش نظر آتی ہے۔ نطشے نے نصرانی اخلاقیات پر تنقید کی جس کی وجہ سے  سیکولر جدیدیت میں لاادریت کو فروغ ملا۔ لادریت((Agnosticism کی اصطلاح ٹی ایچ  ہکسلے کی وضع کردہ ہے جس نے مذہبی عقائد کے بارے  میں تلاش و جستجو اور فلسفیانہ لاتعلقی کی بنیاد رکھی۔ انیسویں صدی کے آخر میں( فرنگی ثقافت میں) بطور عوامی دانش ور، ہکسلے کو اُس وقت بڑی شہرت ملی جب اُس نے ڈارون کے نظریہء ارتقا کو سیکولر پیرائے میں عام کرنا شروع کر دیا تھا۔ڈارون  نے اپنی مشہور زمانہ  تصنیف On the Origin of Species میں کائنات کے روایتی نظریہء تخلیق  کو رد کرتے ہوئے نظریہ ء ارتقا پیش  کیا ،جس نے فطری انتخاب کے اُصول کو آفاقی قرار دینے کے ساتھ انسان کی فضیلت پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا۔ڈارون اور نطشے دونوں میں ارادے کی قوت کا اُصول قدرِ مشترک رکھتا ہے۔جہد البقا کا  یہ اُصول بڑی حد تک مارکسی جدلیات میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ نسل کی معدومیت کو بھی اسی اُصول کی روشنی میں جانچا جاتا ہے۔ڈارون کی آفاقیت کا اندازہ یہاں سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ  لارڈ کیلون نے تھرمو ڈائے  نیمکس کا دوسرا ُصول  اسی نظریہ ء ارتقا کے مباحث میں دیکھ لیا تھا۔اس دور میں سماجیات،نفسیات اور طبعییات میں نئے نئے تصورات آنے  شروع ہو گئے۔ وکٹورئین عہد میں ہر علم کو الگ الگ خانوں میں بانٹ کر مطالعہ کیا جاتا ہے جب کہ جدیدیت نے علوم کے مابین اشتراکی اُصولوں کی دریافت پر  دھیان دیا۔ اب ہسٹیریا کے مریض کو جادو کا کرشمہ نہیں  بلکہ انسان کی پیچیدہ نفسیات اور سماجیات  کا مسئلہ سمجھا جانے لگا تھا۔ یہ جدیدیت کا وہی دور ہے جس میں جانداروں، بالخصوص انسان کی بہتر نسلی افزائش پرعملی  تجربات شروع ہوئے اور اس طرح علم کا  ایک نیا شعبہ Eugenics(علم اصلاح ِنوع انسانی،بنی نوع انسان کی اصلاح شدہ نژاد برآری کا علم،علم حسن زائی) کا ظہور ہوا جس نے بحث و مناظرے کی نئی راہیں کھول دیں۔اب نسل پرستی کے لیے سائنس سے مدد لی جانے لگی۔ثقافتی اور سیاسی منظرنامے میں ان مباحث نے خوب پذیرائی حاصل کی۔کچھ مفکرین نے اسے جدیدیت کا تاریک پہلو بھی کہا ہے۔فرانسس گالٹن نے اپنی کتاب Hereditary Genius میں علم اصلاح ِنوع انسانی کو واضح کرنے کی خاطر 1869ء میں ایک نئی اصطلاح Eugenicsمتعارف کرائی تھی۔نسل پرستی کی اس تحریک میں گالٹن کی کتاب بنیادی منشور  کا درجہ رکھتی ہے۔ گالٹن اس خیال کا حامی تھا کہ شہری صنعتی زندگی اور تنزل و انحطاط کا آپس میں گہرا تعلق ہے کیوں کہ ایک ایسا وقت آن پہنچے گا جب  شہروں میں کام کرنے والوں کی تعداد بڑھ  کر قابو سے باہر ہوجائے گی جس کی وجہ سے کمزور نسل  انحطاط پذیری کا باعث بن سکتی ہے۔جرمنی کی بڑھتی فوجی طاقت کے تناظر میں برطانیہ کو یوجینکس میں دولت اور صحت دونوں کا حصول آسان نظر آنے لگا تھا۔یوں یہ سلسلہ ڈارون کے فطری انتخاب کے متوازی ،مصنوعی انتخاب کے طور پر سامنے آتا ہے،ابتدا میں اس اُصول کے تحت کبوتروں کی نسل بڑھائی گئی پھر ان کی توجہ نسل انسانی کی طرف ہوئی کہ کمزورنسل کا خاتمہ کرکے اپنی  ضرورت اور پسند کی نسل پیدا کی جائے جو سیاسی اور معاشی  ترقی میں معاونت کر سکے۔ تاہم جرمنی میں اس فکر کا تاریک منشور سامنے آیا جس کی وجہ سے وہاں سرکاری طور پر بانجھ پن کو لازمی بنا دیا گیا۔جدیدیت کے برطانوی دور میں  یوجینکس کو ثقافتی اور سیاسی حوالے سے موضوع بنانا عام رواج رہا ہے۔برطانیہ ہی  سے ایک علمی رسالہ The New Ageنکلتا رہا، جس میں نطشے کے افکارو نظریات کی نشرواشاعت ہوتی تھی،اس میں بڑے تسلسل کے ساتھ صحت مند نسل کا پرچار بھی شامل تھا  اور بڑے طریقے سلیقے سےصحت مند اور طاقتور قوم کا بیانیہ ازبر کرایا جا رہا تھا۔اسی طرح 1914ء میں تانیثی منشور سامنے آیا  جس میں ذہین عورتوں کو یہ باور کرایا گیا کہ وہ اپنی نسلی ذمہ داریوں کو ہمیشہ سامنے رکھیں اور کم بچے خوشحال گھرانے کے فلسفے کو اپنائیں۔نسل کا بھوت اس حد تک سماجی اقدار پر غالب آیا کہ  غیر ضروری بچوں کی پیدائش روکنے کی خاطر باکرہ لڑکیوں کی سرجری تک کرا دی جاتی تھی۔سماج میں جدیدیت کی جمالیات،اس کی عملی تشکیل، عورت کو  بظاہر خود مختار بنانا، نئی حکمتِ عملی ، نئی پالیسی تیار کرنا اور سماجی زندگی کے ہر پہلو کو سرکاری منشور کا پابند بنانا،یہ سب ایسےاقدامات  تھے جن کے آگے  بولنے والا کوئی نہ تھا۔ جدیدیت نے باقی علوم و فنون کی طرح طبعیات پر بھی اپنے اثرات مرتسم کیے اور چند بنیادی فکری سوالات نے  سارے ماحول کو اپنی  گرفت میں لے لیا،جیسا کہ کیا کائناتی مظاہر کو ہم شئے تسلیم کریں یا محض ایک واقعہ؟کیا ہر مادی شئے صرف ایک حالت ہے اور بس!کیا کوئی شئے اپنی ذات میں مکمل ہے؟ جدیدیت کی فضا میں  طبیعیات میں ایسے سوالوں کا آنا نیک شگون تھا کیوں کہ ماہرین نے پاپولر فزکس پر قابلِ قدر تصانیف یادگار چھوڑی ہیں ،جن کے مطالعے کی سفارش  ہر دور میں کی جاتی ہے۔جیمز جینز کی کتاب The Mysterious Universe کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے اگرچہ یہ کتاب 1930ء میں شائع ہوئی  تھی۔ اسی طرح اے این وائیٹ ہیڈ کی تصنیف((Science and the Modern World کا ذکر ضروری ہے جو 1925ء میں سامنے آئی اور قبولِ عام کے درجے پر فائز ہوئی۔سر آرتھر سٹینلے ایڈنگٹن جو برطانیہ کے معروف ماہر فلکیات اورریاضی دان  تھا اس کی تصنیف The Nature of the physical Worldکا زمانہ  1928ء کا ہے  جس نے بڑے اختصار اور دل چسپ اُسلوب میں  طبعی سائنسی انکشافات کو موضوع بنایا۔یہ کتابیں جدید کلچر پر طبیعیات کے اثرات کا جامع جائزہ پیش کرتی ہیں۔ ان بدلتے سائنسی رجحانات میں یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ  مادیت اور میکانیات میں کس کو دیس نکالا ملا ہے؟ البتہ نیوٹن کی طبیعیات کا طلسم ٹوٹنا شروع ہو گیا تھا۔سترھویں صدی عیسوی کے بالکل آغاز سے لے کر بیسویں صدی تک جو تین صدیاں بنتی ہیں ان میں عقل ِعام کی حکمرانی ہوئی،دنیا کے بارے میں ایک علمی تصور قائم ہوا، سائنسی طرزِ فکر نے اپنی جگہ  اس طرح بنائی کہ اسے مستقبل بینی کی صلاحیت حاصل ہو گئی۔فطرت کے متعلق علم بڑھا اور کائناتی اُصولوں کی جانکاری  نے کئی طرح کی سہولتیں پیدا کر دیں۔

الف) زبان/لسانیات

آئرس مردوخ نے سارتر پر لکھتے ہوئے یہ اہم نکتہ سامنے لایا کہ ہم  زبان کو صرف رابطے یا ابلاغ کا ایک ذریعہ  نہیں سمجھ سکتے نیزاس کی شفافیت((Transparency ختم ہو چکی ہے۔ ہماری مثال اس شخص جیسی ہے جو ایک عرصے  سےکھڑکی کے شیشے کو نظر انداز کر تے ہوئے باہر کا منظر دیکھ رہا ہے، لیکن اب اُس نے شیشے پر بھی توجہ مرکوز کر دی ہے۔ یہاں بیسویں صدی کے آغاز میں جو لسانیاتی تبدیلیاں آئیں آئرس مردوخ اصل میں اُنھیں نشان زد کر رہی ہے۔ ہم پہلے یہ سوچ رہے تھے کہ منظر کو دیکھا جا رہا ہے،اب شیشے کے متعلق سوچنے کا آغاز ہوا ہے کہ یہ ہمارے اور منظر کے درمیان کیوں  زبردستی مخل ہوتا ہے؟یہ بھی جدیدیت کی فراہم کردہ آگاہی کا نتیجہ ہے  کہ زبان کی مادیت اور اس کی سرگرمیوں کو سائنسی خطوط پر جانچنے کا رواج ہوا۔ اب زبان کے بارے میں یہ سوچ باقی نہیں رہی کہ زبان ایک خالی برتن کی مانند ہے جس میں ہم اپنے خیالات کو بھرتے ہیں۔اس کے بجائے زبان  کو ایسا مواد مانا گیا جس کے وسیلے سے تصورات اور خیالات تشکیل دیتے ہیں۔بجائے اس کے کہ ہم زبان کو بولیں  اور لکھیں،زبان ہمیں لکھتی اور بولتی ہے۔یہاں ہم جدیدیت کی وہ نمایاں خصوصیت دیکھ سکتے ہیں جس میں اشیا ِ،تسلیم شدہ تصورات اورعقلِ عامہ کی تقلیب کر دی جاتی ہے۔آخر تقلیب کا یہ عمل کیسے وقوع پذیر ہوتا ہے؟اس کا پہلا کلیدی حوالہ  وہ اہم تصینفی کام ہے جس کا سہرا فرڈی نینڈ  ڈی سوسیئر (1913-1857ء) کے سر جاتا ہے۔اس سوئس مفکر کا اصل کارنامہ  Course in General Linguisticsجو اس کے مرنے کے بعد 1915ء میں سامنے آیا اور ساختیاتی لسانیات اور نشانیات((Semiology کا نقطہء آغاز قرار پایا۔سوسئیر نے بڑی وضاحت اور مفصل طریقے سےیہ نئی آگاہی دی کہ ہر فرد زبان کے معاملے میں مجبورِ محض ہے،  جب کہ تمام لوگ زبان  کے ضمن میں خود کو مختارِ کُل سمجھتے ہیں۔ ہم جو زبان  کسی خاص سماجی سیاق  میں اور انفرادی سطح پر استعمال کر رہے ہوتے ہیں اُسے پیرول ((Parole کہا جاتا ہے، یہ بھی  اپنے اُصول، لانگ((Langue  یعنی زبان کے تجریدی  نظام سے ہی اخذ  کرتا ہے، یہ اصلاًطے شدہ اُصول ہوتے ہیں۔ اس دنیا کو زبان نے ہمیشہ اور پہلے سے  ہی ساخت میں رکھ دیا گیا ہے بجائے اس کے ہم اسے زبان کی صورت میں پیش کرتے۔ تمام اشیا کو جو نام دیئے گئے ہیں وہ من مانے((Arbitrary  ہوتے ہیں، چیز اور نام میں کسی قسم کی کوئی مطابقت نہیں ہوتی،یہ سلسلہ ہماری تربیت اور ثقافتی  جبر کے تحت چلتا رہتا ہے۔ درحقیقیت شے اور لفظ کا کوئی منطقی ربط نہیں ہوتا۔زبان کے اس رشتے کو نشان((Signدال((Signifierاور مدلول یعنی ((Signified کی مدد سے سمجھا جا سکتا ہے۔ساختیات کے مباحث کو کسی خاص کلیے میں سمیٹنا قدرے محال ہے تاہم یہ  بات خاطر نشان رہے کہ سوسیئر کا یہ لسانی نظام  صرف اور صرف باہمی فرق اور امتیازات پر استوار ہے۔ہمارے آس پاس  موجود ہرشئے اسی زبان اور اسی  نظام کی مرہونِ منت ہے۔ بیسویں صدی کے ابتدا میں  جدیدیت  نےجو لسانیاتی نازک موڑ دیکھے اُس کا ملخص دو  حوالوں کی صورت میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ ماضی میں جن مسائل کی تفہیم  کچھ خاص اصطلاحات کی مرہونِ منت تھی اب اُن کے لیے نئی نئی اصطلاحات وضع ہونے لگیں،یعنی تشکیلِ نو کا عمل سامنے آنے لگا۔اب زبان کو اُن معاملات کے حصول میں بھی اہمیت دی جانے لگی جن کا تعلق  مابعد الطبیعیاتی سچائیوں کے ساتھ تھا۔دریدا نے  Logocentrismکی بات کی ہے یعنی زبان کو زیادہ سے زیادہ تجرباتی اور رسمی ہونا چاہیئے تاکہ ہمارے اظہارات میں مزید سہولت اور وضاحت پیدا ہو۔یہ اصطلاح اصلاً جرمن فلسفی اور ماہر نفسیات  لڈوگ کلیگس نے 1900ء میں وضع کی تھی،جو  مغرب کی اُس روایت کی طرف اشارہ کرتی ہے جس  میں سائنس اور فلسفے کی تمام تفہیمات کی خاطر زبان اور الفاظ کو مرکزی حیثیت حاصل تھی  کیوں کہ انھی کی مدد سے ہم خارجی دنیا کا علم حاصل کر سکتے ہیں۔ آسٹریائی فلسفی لڈوگ وٹگنسٹائن(1889ء -1951ء) جو زبانوں کے کھیل میں خصوصی دل چسپی رکھتا تھا،اس  نے زبان کا ایک ایسا ماڈل پیش کیا جس میں زبان  کے حصول  میں شامل تمام ممکنہ ذرائع کو مسلمہ دستور یا رواج  میں تلاش کیا گیا ہے۔اس نے اپنی  کتاب Tractatus میں لکھا ہے کہ  زبان کی حد اصل میں میری دنیا کی بھی حد ہے۔اس نے علمِ فلسفہ کو  ایسی منطقی زبان میں لکھنے کی سعی کی جس میں غیر ضروری مواد شامل نہ ہو۔یہ کتاب اس خیال پر مبنی ہے کہ فلسفیانہ مسائل زبان  میں موجود منطق کی غلط فہمیوں سے پیدا ہوتے ہیں۔ وٹگنسٹائن کا اپنا اُسلوب انتہائی اشاراتی  اورعلامت  پر مبنی ہے وہ اپنی بات کہنے کے لیے دوٹوک الفاظ اور منطقی جملے بنانے کا شوقین ہے۔ وہ فلسفیانہ  زبان کو ہر قسم کی آرائش اور غیر ضروری وضاحت سے پاک  رکھتاہے۔یہ وہی دور ہے جس میں منطقی اثباتیت،ویانا سرکل اور کارل پاپر فعال نظر آتے ہیں۔ یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہے جہاں امریکہ میں تجربیت((Pragmatism کی تحریک اُبھرتی ہے، جس میں ولیم جیمز کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جس نے جدیدیت   پر کئی جہتوں سے اپنے اثرات مرتب  کیےہیں۔اس کے نزدیک  “سچ” وراثت میں نہیں ملتا بلکہ یہ الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے۔جیمز کا جھکاؤ بیک وقت نفسیات اور فلسفہ کی جانب  تھا۔نفسیات میں جو  نیا لسانیاتی موڑ آیا اُس نے اس  شعبے کو وسعت آشنا کیا۔جیمز کی تینوں اہم تصانیف مثلاً اُصول نفسیات(1890ء)، تجرباتِ وارداتِ روحانی(1902ء) اور تجربیت( 1907ء) میں ثقافتی مظاہر  اور لسانیاتی حوالے سے واضح دل چسپی نظر آتی ہے۔ حتیٰ کہ سگمنڈ فرائیڈ  نےتحلیل نفسی کی صورت میں جس موضوعی سائنس  کومتعارف کرایا وہاں بھی لسانیاتی تنوع حاوی ہے۔ فرائیڈ کےنزدیک الفاظ ایسے اشارے ہیں جو ہمیں لاشعور تک رسائی دیتے ہیں۔زبان کی مدد سے انسان کی نفسیاتی حد بندی کی  جا سکتی ہے کیوں  کہ سنائے جانے والے لطائف،زبان یا قلم کا پھسلنا، بھول جانا، اشیاء کو غلط جگہ رکھ دینا اورلاشعوری ردِ عمل کے اظہارات وغیرہ سب ایسے مظاہر ہیں جو ایک ثقافت میں جنم لیتے ہیں اور اپنی ایک نفسیاتی افادیت رکھتے ہیں۔فرائیڈ کے ایک پیروکار ژاک دریدا نے اس کی فکر میں نئے اضافے کیے۔اس نے بتایا کہ انسانی لاشعور کی ساخت بھی زبان جیسی ہے۔

(ب) ہنری برگساں(1859ء -1941ء)

اب جدیدیت کی بحث ایسے مقام پر آ پہنچی ہے جہاں حالات و واقعات میں قدرے ہم آہنگی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ یہاں اب ہماری ملاقات  فرانسیسی  فلسفی ہنری برگساں کے ساتھ ہونے والی ہے۔برگساں کی شہرت  اس کی تصانیف اور عقلیت کی مخالفت  کے باعث ہے۔ان کتابوں میں” زمان اور آزاد ارادہ”،” مادہ اور ذہن “او ر” شہرہ آفاق تصنیف “تخلیقی ارتقا” کا ذکر لازمی ہے۔برگساں کی فکر جن فلسفیانہ مسائل کو زیرِ بحث لائی اُن میں سائنسی اور عقلی طریقِ کار،علت و معلول اور ارتقا  کو خاص اہمیت حاصل ہے۔  برگساں کے ہاں وقت یا زماں کا فلسفہ خاصا پیچیدہ ہے،اس  کے نزدیک ہم نے وقت کو عقلیت کے  دائرے میں مقید کر دیا ہے اس طرح ہم  وقت کے اُس جوہر سے محروم ہو گئے جو ہماری گرفت میں آ سکتا تھا یعنی قابلِ ادراک تھا۔یہ اصل میں زمان ِ متسلسل ہے جس کا شعور ہمیں اس لیے حاصل نہیں ہوتا کہ ہم نے وقت کو منٹ اور سیکنڈز کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ رکھاہے۔اس  طرح ماضی،حال اور مستقبل کی تقسیم میں بھی وقت کی اصلیت ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔برگساں کے نزدیک  وقت کی تفہیم اس میکانکی طریقِ کار کے ذریعے ممکن نہیں ہو سکتی۔وقت کا ہونا اصل حقیقت ہے،یعنی  وقت کو امروز اور فردا میں نہیں رکھا جا سکتا،وقت کو بہاؤ سمجھنا چاہیئے۔وقت کی اس کیفیت یا حالت کو  اس نے  Pure Duration کا نام دیا ہے۔ برگساں  کے نزدیک تغیر اہم ہے،وہ کہتا ہے کہ ہماری شخصیت  مسلسل خود بخود جنم لیتی،نشوونما پاتی اور پختہ ہوتی چلی جاتی ہے۔اس کا ہر لمحہ ایک نئی وارادت ہے جو پہلی حالت پر اضافہ کرتی ہے،یہ  نہ صرف نئی واردات ہے بلکہ غیر متوقع بھی ہے۔بے شک میری موجودہ حالت کی وضاحت اس شئےکی ممکن ہوتی ہے جو ایک لمحہ پہلے میرے اندر موجود تھی اور مجھ پر اثر انداز ہو رہی تھی۔اس کا تجزیہ کرتے ہوئے مجھے دوسرے عناصر نہیں ملیں گے۔ایک مافوق البشری ذہانت بھی اس قابل نہیں کہ وہ ایسی سادہ،غیر منقسم شکل کی پیش بینی کر سکے جو  ان خالص مجرد عناصر کو ان کی ٹھوس ترتیب وتنظیم بخشتی ہے۔کیوں کہ  پیش بینی کے لیے ضروری ہے کہ  ماضی میں حاصل ہونے والے علم کی بنیاد پر مستقبل کو ترتیب دیا جس سکے۔۔۔ہر حالت تاریخ کا ایک لمحہ ہے جو بتدریج منکشف ہو رہا ہے،یہ سادہ ہے لیکن اس کا پیشگی ادراک نہیں ہو سکتا کیوں کہ یہ اپنی تقسیم ناپذیری میں اس تمام علم کو مرتکز کر دیتی ہے جو حاصل ہو چکا ہے اور اس پر اضافہ بھی ہو رہا ہے۔  جو تصویر مکمل ہو چکی ہے اس کی وضاحت فنکار کی فطرت ان رنگوں کی وساطت سے کرتی ہے جو تختہ ءمصور پر بھرے ہوتے ہیں۔ لیکن اس چیز کے علم سے بھی جو اس کی وضاحت کرتی ہے حتٰی کہ مصور بھی اس بات کی معین طور پر پیش بینی نہیں کر سکتا کہ تصویر کیسی ہو گی ؟ کیونکہ اس کی پیش گوئی کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ اس کی تکمیل سے قبل ہی اسے پیش کر دیا گیا۔ گویا یہ ایک سہل مفروضہ ہے جس کی تردید خود اس کے اندر موجود ہے۔ یہی معاملہ ہماری زندگی کے اُن لمحات کا ہے جن کے معمار ہم خود ہیں۔ ان میں سے ہر ایک گویا ایک طرح کی تخلیق ہے اور جس طرح نقاش کی صلاحیت خواہ اچھی ہوتی ہے یا بری بہر حال اپنے نقاش کے زیر اثر بہتر صورت اختیار کرتی ہے۔ ہماری ہر حالت بھی اپنے لمحہء آغاز سے ہماری شخصیت کو تبدیل کرتی ہے اور اس طرح دراصل ہم نئی صورت میں ڈھل رہے ہوتے ہیں ۔( تخلیقی ارتقا،انگریزی ترجمہ،آرتھر مچل،یونیورسٹی پریس آف امریکہ،1983ء،ص 6-7) خود تخلیقیت کا عمل آگے چل کر Vitalism (روحیت،یہ نظریہ کہ جانداروں کی زندگی طبعی اور کیمیائی قوتوں سے کم لیکن ایک بنیادی جوہر سے زیادہ تعلق رکھتی ہے جسے روح حیوانی کہتے ہیں،میکانیت کی ضد)اور Elan Vital (جوششِ حیات)کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔برٹرینڈ رسل نے اپنی تصنیف” فلسفہء مغرب کی تاریخ” (1946ء)میں برگساں کے ایسے وجدانی اورروحانی تصورات کو قدرے طنزیہ پیرائے میں زیرِ بحث لایا ہے۔لیکن اب حال ہی  میں فرانسیسی فلسفی Gilles Deleuze کے توسط سے  برگساں کی بازیافت ہوئی اوراس کی فکر کو جینیات اور نیوروسائنس کے ساتھ منسلک کر کے نئے حقائق  سامنے لائے گئے ہیں۔برگساں کا یہ نیا جنم  مابعد جدیدیت کی فکریات میں بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔اس نئے پہلو کوJohn Mullarkeyنے بڑی  محنت سے مرتب کیا اور  The New Bergsonکے نام سے مانچیسٹر یونیورسٹی پریس نے 1999ء شائع کر دیاہے۔ جدیدیت کی ابتدائی دہائیوں میں برگساں نے  شہرت و ناموری کا بلند ترین مقام حاصل کر لیا تھا۔اس کی فکریات  وسیع حلقوں میں  زیرِ بحث رہی جس نے  گہرے اثرات مرتب کیے۔امریکن شاعرہ،ڈرامہ نگار اور  ناول نگارگرٹروڈ سٹائن(1874ء- 1946ء) اپنی ایک کہانی میں وقت کے لحاظ سے حال کی جاریہ کیفیت کو پیش کیا ہے جس پر برگساں کے تصورِ خود تخلیقیت کے واضح اثرات موجود ہیں۔ایک اور کہانی  Melancthaمیں کرداروں اور اسلوب کے حوالے سے جو تجربات کیے وہاں بھی فکرِ برگساں کی جھلکیاں دیکھی جا سکتی ہیں،اگرچہ یہاں تاریخی جبر کو مات دینے کا رجحان بھی ملتا ہے۔ڈی ایچ لارنس  اپنے مشہور ناول The Rainbowوقت کے تسلسل کو نمایاں کرنے کی خاطر رموزِ اوقاف کو روایت سے ہٹ کر استعمال کرتا ہے تاکہ  جذبات کے بہاؤ میں وقت کی جو کیفیت اُبھرتی ہے اسے سمجھا اور سمجھایا جا سکے۔

ج) جدید طبیعیات

ٹیری ایگلٹن نے کہا ہے کہ وقت کی تفہیم میں جو کمی کوتاہی کلاسیکی عہد میں ہوئی اس کا ازالہ جدیدیت  کے مفکرین(جدید طبیعیات کی روشنی میں) نے کچھ اس علمی وقار کے ساتھ کیا کہ  وقت کے  جدید اور قدیم تصور میں توازن پیدا ہو گیا۔ جدیدیت میں زمان و مکاں کے ہر  علمی تصور کا مرکز البرٹ آئن سٹائن کے خصوصی (1905ء) اور عمومی (1916ء) نظریہء اضافیت کے ساتھ منسلک ہے، جو زمان اور مکان کی نوعیت کو  ایک مشاہدہ  کرنے  والے کے تناظر میں اضافی قرار دیتا ہے۔یہ اضافی خاصیت حرکت  اور سکون کے باہمی ادل بدل سے ہوتی ہے ۔  مادّہ اور توانائی کی مخصوص صفات بھی باہم بدلاؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ آئن سٹائن  کے طبیعیاتی نظریات طبعی وسعت کی ناقابل تصور حدوں پر کام کرتے ہیں۔کوانٹم  فزکس نے  ایٹم کی باریکیوں تک رسائی کر لی ہے جس کی وجہ سے کائنات کا ایک نیا تصور اُبھرا ہے۔ان انتہاؤں پر مظاہر کا مشاہدہ اور پیمائش کرنے سے ایسے رویوں اور اُصولوں کا پتا چلتا ہے جو روزمرہ کی زندگی میں محض ناقابلِ تصور ہیں۔ اس طرح کے نتائج ہمیں زمان اور مکان کے روایتی تصورات کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور کرتے ہیں۔ آئن سٹائن کا نظریہء اضافت اُس وقت گمراہ کن لگتا ہے جب اسے  سائنسی علم کے بعض مطلق تصورات کے حوالے سے جانچا جائے۔یہ کام طبیعیات کی گزشتہ تاریخ سے مکمل طور پر  الگ تھلگ نظر آئے گا۔نیوٹن کے نظریات کا زمانہ ختم ہو ا اور کائنات کا ایک نیا تصور سامنے آ گیا۔آئن سٹائن  نے رفتار اور روشنی کے بارے میں جن تحقیقات کو عام کیا انھوں نے دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔یہاں تک کہThe Times نے بھی 7/نومبر 1919ء کی اشاعت میں نیوٹن کو خدا  حافظ کہنے کے بعد آئن سٹائن کو جدید طبیعیات کا علم بردار تسلیم کر لیا۔ جدیدیت کے زیرِ اثر لکھنے والے اور دیگر شعبوں کے آرٹسٹ جن خطوط کو عین حقیقیت مان کر تخلیقات کر رہے تھے آئن سٹائن کے نظریات نے اُن کے کاموں اور ورلڈ ویو  کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ یہ اُصول عام ہو گیا کہ کائنات میں کوئی شئے مطلق((Absolute ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ناظر اور  منظر کا فرق اضافی ہے۔ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں۔آئن سٹائن نے جہاں نیوٹن  کے غیر حل شدہ مسائل کا  حل پیش کیا وہاں اقلیدس کے نظریہء کائنات کی درستی بھی کر دی۔سائنس کے یہ پیچیدہ نظریات اور ثقافت کے پھیلے ہوئے وسیع آفاق یہ دونوں ایسے ناگزیز  تناظرات  اور طریقِ کار ہیں جو جدیدیت کی تفہیم میں آسانی پیدا کرتے ہیں۔اخبارات،رسائل اور مقبول سائنسی تحریروں نے زمان و مکاں کے بارے میں سب کو  نئے زاویوں سے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ ان نئی اور اچھوتی سائنسی دریافتوں نے مصوری میں Cubism پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ جدیدیت نے افریقی لوگوں کو بھی نئے مطالعات کا حصہ تسلیم کیا جس کی وجہ سے معاصرین نے تخلیقی  اور تحقیقی اعتبار سے اہم اضافے کیے۔

د)انسانی ذات کوموضوعِ بحث بنانا

روشن خیالی((Enlightenmentکا دارومدا ر کسی نہ کسی حوالے سے  انسان  اور اس سے وابستہ علم کے ساتھرہا ہے۔ روشن خیالی  کا  رجائی سیکولر پہلو اصل میں انفرادی انسان اور اس کی ذات کے ساتھ منسلک ہے۔اس کا بہترین اظہار رینے ڈیکارٹ کے اس مشہورِ زمانہ قول میں دیکھا جا سکتا ہے جسے  لاطینی میں Cogito, ergo sum کہا جاتا ہے اور انگریزی میں اس کا ترجمہ “I think, therefore I am” کیا گیا، یعنی “میں سوچتا ہوں ،اس لیے میں ہوں” جس کی وضاحت و صراحت دیکھنے کے لیے الیگزینڈر پوپ کی تحریر بعنوان Essay on Criticismکا مطالعہ ناگزیر ہے۔اس سے بخوبی انداز ہو جاتا ہے کہ  اس دور کا ایک غالب بیانیہ  انسان کا بہترین مطالعہ،انسان ہی رہا ہے۔روشن خیالی کا  وسیع البنیاد مقدمہ یہ رہا کہ انسانی علم کی چوں کہ کوئی انتہا نہیں ہے لہٰذا اس سارے  علم کو انسانی کی باطنی یا داخلی تفہیم میں لگا دینا چاہیئے۔خود شناسی کو روشن خیالی کی اولین شرط قرار دیا گیا۔اس دوران کچھ اس قسم کے تضادات بھی اُبھرے کہ کیا ہم اپنے بارے میں جاننے کی اہلیت رکھتے ہیں یا ہم اپنے متعلق کچھ نہیں جانتے۔ فرڈی نینڈ  ڈی سوسیئر نے لسانیاتی حوالے سے  انسان کی داخلیت یا معروضیت کو بحث سے   خارج  کر دیا ۔اس کا کہنا تھا کہ زبان ایک ایسا مظاہر ہے جو  سماج میں پہلے سے موجود  چلا آتا ہے اور انسان اس  چوکھٹے میں خود کوڈھالنے پر مجبورِ محض ہے۔زبان کے اسی تفاعل میں ہماری موضوعیت کی تشکیل ہوتی ہے۔کارل مارکس کے  ہاں بھی معاشی قوتوں کی بنیاد پر داخلیت کو نکال باہر کیا گیا ہے۔فرائیڈ نے لاشعور کی موجودگی دریافت کرنے کے بعد داخلیت کی خود مختارانہ حیثیت کو رد کر دیا تھا۔ان مباحث نے یہ ثابت کیا کہ انسان کی داخلیت یا موضوعیت کی کوئی گنجائش نہیں نکلتی کیوں کہ اس کا تانا بانا  کہیں اور تیار ہوتا ہے۔کارل مارکس نے سماج اور انسان کے تمام بنیادی رویوں کو خالص مادی حوالے سے تجزیانے کا جو کام کیا اُس کی وجہ سے کئی سابقہ تصورات اپنی چمک دمک کھو بیٹھے ، جن میں داخلیت کا مسئلہ بھی شامل ہے۔اگرچہ مارکسی مادیت کا یہ تصور سوسئیر کی لسانیاتی  مادیت اور ڈارون کے ارتقائی مادیت سے مختلف ہے۔ جدیدیت نے جس کلچر کو فروغ دیا اُس میں نیا پن پیدا کرنے کی خاطر ہر پرانی شئے کا رد کر دیا گیا اورماضی سے رشتہ منقطع کرنے کے بعد اب صرف یہی ایک فکر باقی رہ گئی کہ دنیا  کس طرح جدید بنایا جائے۔اس جدیدیت نے جتنے متنوع افکار پیش کیےانھوں نے سماج میں ایک عجیب سی صورتِ حال پید کر دی تھی کیوں کہ ہر شعبہء علم اپنے قائم کردہ استدلات کو کافی و شافی خیال کرتا تھا۔ سگمنڈ فرائیڈ نے  اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اُس نے انسانی شعور و لاشعور یا  تحلیل نفسی کی بابت جن تحقیقاتی نتائج کو سامنے رکھ کر تاریخ میں پہلی مرتبہ سائنسی تھیوری تشکیل دی،اُس پر اولین رسائی  آرٹ اور ادب سے وابستہ افراد پہلے ہی حاصل کر چکے تھے۔جدیدیت میں انسان کی داخلیت یا باطنی زندگی کے حوالے سے جوعلمی مباحث اُٹھے اس کی وجہ سے تحلیلِ نفسی اور فنکاروں کے لاشعور کو ایک دوسرے وابستہ کر دیا گیا اور وقت گزرنے کے ساتھ اس موضوع پر نئے نئے نکات منکشف ہوتے رہے۔بصری آرٹ میں سرئیل ازم ایک ایسارجحان ہے جو براہِ راست فرائیڈئن تصورات کے تابع ہے،اس میں لاشعور کی اُس کیفیت کو رنگوں اور کینوس کی مدد سے اجاگر کیا گیا، جو نیند کی کیفیت سے مشابہ ہے،یہ  غیر مانوس  اور بظاہر بے معنی عناصر اپنی الگ معنویت  رکھتے ہیں۔کیوبسٹ اور اظہاریت پسند آرٹسٹ یہ  باور کرانے میں کامیاب ہو گئے کہ انسان اتنا پیچیدہ ہے کہ وہ اپنے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ ادب میں شعور کی روفرائیڈ کے اُس  نفسیاتی طریقِ کار کا عکس ہے جسے Talking Cureکا نام دیا گیا  اورانتشار خیالی کو ظاہر کرتی ہے۔یہ تکنیک فکشن میں زیادہ برتی گئی ہے۔شاعری میں علامت پسندی اور تمثال پسندی کے اُصول،کیوب ازم میں کولاژ کاتصور او ر فلم میں مونتاج کی شمولیت،ان سب نے مل کرجدیدیت کی جمالیات کا تعین کیا  اورانسانی لاشعور کی بھرپور نمائندگی کی ۔یہ امر زیادہ حیران کُن نہیں ہونا چاہیئے کہ فلم اور  فنکارانہ جدیدیت آپس میں کچھ ایسے گھل مل گئے کہ جلد ہی یہ  منفرد اور مناسب میڈیم کے طور پر ظہور پذیر ہوئے جس کی وجہ سے   نفسِ انسانی کی دریافت میں آسانی ہوئی اور دوسری جانب اس کا رشتہ تحلیلِ نفسی کے ساتھ بھی اُستوار رہا۔

ذ) جدّت پسند شاعری/علامت پسندی/آزاد نظم

جدیدیت  کا ایک بڑا کارنامہ لسانیاتی نظریہ سازی ہے جس نے انسانی فکر کو  متاثر کیا۔ شاعری کادارومدار ہی چوں کہ زبان و بیان کے معاملات پر ہے تو اس لیے یہاں تبدیلوں کا عمل زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔یہاں ایک تناقض کا ذکر ضروری ہے جو بہت جلد نمایاں صورت میں سامنے آیا۔ہم دیکھتے ہیں کہ ایک طرف تو شاعری نے اپنی ترسیل،  لوگوں سے رابطے اور ابلاغ کے لیے رمزیہ اظہار کو ترجیح دی اور دوسری جانب اس خواہش  کو بھی سینے سے لگائے رکھا کہ  زبان کی رمزیت بہ ہر طور فعال رہے۔یا   پھر شعری زبان موسیقی،آواز،سوانگ،اداکاری،تمثال اورتصویر کی کسی متبادل زبان میں ڈھل جائے۔اس صورتِ  حال کو ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں؟اس معاملے کو جدیدیت کے تناظر میں کیسے بیان کیا جا سکتا ہے؟اس کا جواب جاننے کے لیے  جدیدیت کے تحت لکھی جانےوالی نظم پڑھنی ہو گی۔جس میں سادگی وپرکاری ایک ساتھ دیکھی جا سکتی ہے۔کچھ نظمیں ایسی بھی ملیں گی جن کی زبان بظاہر انتہائی سادہ و سلیس ہے لیکن کسی مرکزی خیال کو گرفت میں لانا محال ہے۔کہیں علامت نے تصور کو دھندلا دیا تو کہیں خیال یا اُسلوب کی تجریدیت نے معنی تک رسائی ناممکن بنا دی۔ یہ بات خاطر نشان رہے کہ فرانس میں 1870ء سے 1890ء کے درمیان علامت پسند ی کی تحریک فعال رہی اور یہی وہ نقطہء آغاز ہے جب جدّت پسند شاعری کی داغ بیل ڈالی جا رہی تھی۔یہ تحریک اُصولی طور پر جن شعرا کے مرہونِ منت رہی اُن میں کئی نام سامنے آئے لیکن  اپنے ہمہ گیر اثرات کی وجہ سے سٹیفن ملارمے(1842ء-1898ء) پال ورلئین(1844ء-1896ء) اور ارتھر رینبو (1854ء-1891ء) سرِ فہرست نظر آتے ہیں۔ چارلس بودلئیر کی ابتدائی شاعری کو بھی  اسی زمرے میں رکھاجا سکتا ہے۔کم اہم شعرا میں Gerard De Nerval(1808ء-1855ء) اور Villiers deL Isle Adam(1838ء-1889ء) لائق توجہ ہیں۔ان کے علاوہ دو ایسے شاعر بھی ہیں جن کے اثرات ٹی ایس ایلیٹ کی ابتدائی شاعری میں دیکھے جا سکتے ہیں،ان میں Jules Laforge اور Tristan Corbieresکا ذکر  لازمی ہے۔جدیدیت کی تحریک  اپنی  شناخت کے حوالے سے نظم و نثر میں  نظری اور عملی سطحوں  پر ارتقاپذیر رہی مثلاً آرتھر سیمن کی The Symbolis Movement in Literature اعلیٰ پائے کی تصنیف ہے جو 1899ء میں  اور ڈبلیو بی ییٹس کی The Symbolism of Poetryکی اشاعت 1900ء ہوئی جس نے علامت پسندی کی تحریک کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا اور ایک وسیع حلقے کو متاثر کیا۔ایگسل کیسل کی اہم تنقیدی کتابA Study in the imaginative Literature of 1870-1930 1931ء میں سامنے آئی اور جدیدیت کے تحت لکھے جانے والے ادب کا بہترین محاکمہ پیش کرتی ہے۔امریکی نقاد ایڈمنڈ ویلسن نے علامتی شاعری کی بصیرت افروز تنقید لکھی۔علامت  پسندی کے متوازی تمثال پسند یImagismکی جھلکیاں دیکھنا قدرے آسان ہے،یہاں علامت کے برعکس ایک واضح تصور کو  سند حاصل ہے،اس  سلسلے کے شعرا بھی اپنے رنگ میں جلوہ دکھاتے نظر آتے ہیں۔

ر) جدیدیت اور فکشن

جدّت پسند فکشن کا زمانہ  وہی ہے جب جدیدیت کی تحریک میں نظری اور عملی تصانیف کا انقلابی سلسلہ  شروع ہوا اور فکشن کا  موضوع اس وقت زیادہ  اہمیت اختیار کرتا ہے جب آرٹ کی روشنی میں اس کی ہئیت کو زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔  گستاؤ فلابیر سے لے کر ہنری جیمز کی تحریروں تک کئی نوع  کے ایسے تغیرات  آئے جس نے فکشن کو  نمایاں کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا  اس میں پرنٹنگ پریس کے ذریعےناول کی نشرواشاعت،لوگوں میں مطالعے کی عادات کا فروغ، برطانیہ میں 1894ء کے بعد چلتے پھرتے کتب خانوں کا زوال،ناول کا تین جلدوں میں شائع ہونا اورتخلیق کار سے پابندیوں کا ہٹ جانا زیادہ اہم پیش رفت ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ افسانوی ادب اور ناول کی ہئیت کو اٹھارویں صدی میں نمایاں طور پر جدید صنف کا درجہ حاصل ہو چکا تھا کیوں کہ سیکولر اور کمرشل معاشرے نے  اس کی راہ ہموار کر دی تھی۔اس مقام پر کچھ ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات جاننا ضروری ہے،مثلاً،بیسویں صدی کے ابتدائی دور کی جدیدیت میں جو حقیقت پسندی  ناول میں نظر آتی ہے، کیا وہ قلبِ ماہیئت کے لیے کافی ہے؟اس کے برعکس اگر ناول ہر قسم کی خود  مختاری حاصل کرتا ہے تو یہ کس حد تک جدید دنیا کی عکاسی کرنے میں کامیاب رہے گا؟ ان سوالو ں کو لے کر ہم انگلش جدیدیت پسند ناول نگار ورجینا وولف کی افسانوی نثر کا جائزہ لیتے ہیں،جس کی یہ خواہش تھی کہ وہ تسلیم شدہ افسانوی اُصولوں کو توڑ ڈالے گی۔اس حوالے سے آرنلڈ بینٹ کے ناول  Anna of the Five Townsاور ورجینا وولف کے ناول Mrs Dalloway کے درمیان موازنہ اہم نتائج  مہیا کرتا ہے۔ان کے کردار اپنے اپنے عہد کے تضادات اور رجحانات کی نمائندگی  کر رہے ہیں۔کہیں ظاہر ی نمود و نمائش پر توجہ ہے تو کہیں داخلی زندگی کے آلام مجسم ہو کر سامنے آ رہے ہیں۔کہیں یقین کو استحکام حاصل ہے تو کہیں بے یقینی کا راج ہے۔یعنی  بقول سلیم کوثر،عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی،میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے۔جدیدیت میں ایسے رویئے اور رجحانات نے صورت حال کو خاصا  گمبھیر بنا دیا تھا۔ البتہ جدیدیت  کے تحت فکشن میں  ہم فرانسیسی،روسی اور  امریکی روایت کا جب مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں وہاں رجحانات حاوی نظر آتے ہیں جنھیں بالترتیب علامت پسندی،فطرت پسندی اور  نفسیاتی پیش رفت کا نام دے سکتے ہیں۔ ولیم جیمز نے 1890ء میں اپنی شہرہ آفاق تصنیف ” اُصولِ نفسیات” شائع کی، جس میں ایک نئی اصطلاح وضع کی گئی جسے عرفِ عام میں شعور کی رو کہا جاتا ہے۔جیمز نے  بتایا کہ شعور کی حالت ٹکڑوں میں تقسیم شدہ کسی شئے جیسی نہیں  بلکہ یہ بہاؤ کی مانند ہے جس میں قدرتی  تسلسل ہے اور بغیر کسی رکاوٹ  کے مسلسل بہتا چلا جا رہا ہے۔شعور کی اس نئی دریافت نے ڈی ایچ لارنس،سگمنڈ فرائیڈ اور برگساں کو براہِ راست متاثر کیا۔آگے چل کر اس نے فکشن میں موجود زمان و مکاں کے تصورات کو متاثر کیا۔فکشن کا بیانیہ((Narrative اسی کی زد میں آکر نئی تکنیکی سکیم کا باعث بنا۔روایتی رموزِاوقاف کا پیٹرن بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ جدیدیت نے  اپنے عملی اظہارات کی خاطر ڈرامہ،سٹیج،موسیقی،رقص اور فلم کا رخ کیا جہاں اس فکر کی نئی جہات متعارف ہوئیں۔بالخصوص،ڈرامے کی صنف  جدیدیت کی تفہیم و ترسیل میں بڑی مدد گار ثابت ہوئی، جہاں ناظرین نے  اپنی آنکھوں کے سامنے وقت کے بدلتے دھارے  کا مشاہدہ کیا۔سٹیج پر کرداروں کی اپنی انفرادی کو ختم کرنے کے لیے ماسک کا استعمال ہونے لگا، جس کی وجہ سےروایتی کردار دم توڑ گئے۔بورژا حسیات کو اس طرح چیلنج کا سامنا کرنا پڑا کہ اب سٹیج پر جنس اور تشدد کے ایسے ایسے واقعات پیش ہونے لگ گئے جو اس سے قبل کسی نے پیش کرنے کی جرات نہیں کی تھی۔حقیقت کو مسخ کرکے پیش کرنے کا رجحان بھی فروغ پانے لگا۔جدیدیت نے علوم و فنون کے تمام رائج تصورات کو اس تیزی اور بے ترتیبی سے بدلنا شروع کیا کہ ایک عام انسان بھی اس بدلاؤ کو بآسانی دیکھ اور سُن سکتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(نوٹ) اصل انگریزی کتاب کا نام Beginning Modernism ہے جسےViva Books  نے دہلی سے 2017 میں شائع کیا تھا۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International