rki.news
خواب آنکھوں میں، دل میں محبت رہی
حقیقت کی ہر اک سانس میں اذیت رہی
چاند جیسی ہنسی دل کی دیوار پر رہی
پھر وہی ہنسی دل پر گہری ملامت رہی
وفا کے وعدے عمر بھر ساتھ رہے
آخر میں وفا ہی بس بغاوت رہی
ہاتھوں میں ہاتھ، دل میں نہ کوئی خوفِ عبادت
بعد میں ہر اک لمس میں ندامت رہی
چاہا تھا کہ رشتہ کبھی نہ ٹوٹنے پائے
ہر اجازت آخر میں محض ریاست رہی
گناہ کو بھی ہم نے عبادت سمجھا
لکھے گئے ہر ورق پر فقط غربت رہی
وہ بھی میری، میں بھی اسی کا تھا کبھی
آخر میں فقط اسی کی سلطنت رہی
خوابوں کے شہر میں دل بادشاہ بنا رہا
آنکھ کھلی تو دل میں وہی اذیت رہی
معین جس خواب کو دل نے حقیقت مانا
جاگنے پر محبت بھی مکمل جراحت رہی
چیف سید معین شاہ
Leave a Reply