rki.news
محمد طاہر جمیل ۔ دوحہ، قطر
علامہ اقبال کا مشہور و معروف شعر ہے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
یہ شعر اپنی سادہ، عام فہم اور مکالماتی زبان کی وجہ سے ہر خاص و عام میں یکساں مقبول ہے۔ بچہ ہو یا بڑا، پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ اکثریت نے یہ شعر سنا ہوا ہے اورسبھی اسے آسانی سے یاد بھی کر لیتے ہیں۔ شعر میں موجود مکالماتی انداز، یعنی خدا کا بندے سے سوال کرنا، اسے غیر معمولی طور پر دلکش بنا دیتا ہے۔
بچپن میں اگرچہ اس شعر کا مفہوم پوری طرح سمجھ میں نہیں آتا تھا، بلکہ ہم اس کی پیروڈی
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضائی کہاں ہے
سے لطف اندوز ہوتے تھے، لیکن جب شعور نے آنکھ کھولی تو احساس ہوا کہ اس شعر کے معانی کس قدر گہرے، ہمہ گیر اور زندگی بدل دینے والے ہیں۔
علامہ اقبال جب خودی کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد غرور یا انا ہرگز نہیں، بلکہ اپنی اصل پہچان، خود شناسی، باطنی قوت اور مقصدِ حیات کا شعور ہے۔ اقبال کی خودی وہ شعور ہے جو خدا سے جڑا ہوا ہے، جو انسان کو احساسِ کمتری سے نکال کر خود اعتمادی عطا کرتا ہے اور اسے غلامی کے بجائے آزادی کی راہ دکھاتا ہے ۔
خودی وہ قوت ہے جو انسان کو تقدیر کا محض تابع نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے اپنی تقدیر کا معمار بننے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہ انسان کو ایک عام فرد سے فعال، باوقار اور باکردار شخصیت میں ڈھال دیتی ہے۔ یہ شعر دراصل انسانی عزم اور حوصلے کی انتہا ہے۔ اقبال نے بندگی کا ایک نیا تصور پیش کیا ہے جس میں انسان ایک بااختیار ہستی بن کر سامنے آتا ہے۔
اقبال کے نزدیک اگر انسان اپنی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچان لے اور انہیں نکھار لے تو وہ اس مقام تک پہنچ سکتا ہے جہاں اللہ کی رضا اور بندے کی رضا ایک ہو جاتی ہے۔ یوں بندہ اللہ کی مرضی میں اس طرح ڈھل جاتا ہے کہ اس کی دعائیں تقدیر بن جاتی ہیں، گویا اللہ اسے شریکِ مشورہ بنا لیتا ہے۔
یہاں اقبال نے تقدیر کے روایتی تصور کو بدل دیا ہے۔ عام سوچ یہ ہے کہ جو قسمت میں لکھا ہے وہی ہوگا، مگر اقبال اس کے برعکس یہ پیغام دیتے ہیں کہ انسان اپنی تقدیر خود بدل سکتا ہے۔ یہی فکر مایوس دلوں میں امید کی شمع روشن کرتی ہے۔
خودی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان خود کو یہ باور کرائے کہ وہ کمزور نہیں، حالات کا شکار نہیں، بلکہ اس کے اندر اللہ کی عطا کردہ بے شمار صلاحیتیں موجود ہیں۔ اس کی زندگی بے مقصد نہیں، بلکہ ایک واضح نصب العین رکھتی ہے۔
جو اپنی پہچان چھوڑ دیتا ہے وہ مٹ جاتا ہے، اور جو اپنی خودی کو سنبھالے رکھتا ہے وہ زندہ قوم بن جاتا ہے۔
نوجوان کے لیے خودی کا شعور نہایت اہم ہے۔ اسے معلوم ہو کہ میں کون ہوں؟ میں دوسروں کی اندھی تقلید کیوں کروں؟ میری اپنی آواز، رائے اور راستہ ہے۔ میرے اندر خود اعتمادی ہے، اور میں ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑے ہونے کی طاقت رکھتا ہوں۔
خودی کا ایک بڑا تقاضا یہ بھی ہے کہ نوجوان اندھی تقلید سے انکار کرے، سوال کرنے کی جرات رکھے، رسم و رواج کو سمجھ کر قبول یا رد کرے۔ یعنی سوچ میں آزادی ہو مگر بے راہ روی نہ ہو۔
اقبال کی عملی خودی یہ ہے کہ انسان زندگی کو محض نوکری تک محدود نہ کرے بلکہ کوئی باعزت مقصد اختیار کرے۔ صرف کامیابی نہیں بلکہ اقدار کو مقدم رکھے، وقتی فائدے کے بجائے دیرپا اصولوں پر عمل کرے۔
آج کا باشعور نوجوان خوددار اور باوقار ہو، ذلت پر سمجھوتہ نہ کرے، اپنی اقدار پر قائم رہے، باطل کے سامنے خاموش نہ رہے اور مایوسی میں بھی امید کی شمع جلائے رکھے۔ وہ خوف اور مایوسی کو خود پر حاوی نہ ہونے دے، علم، کردار اور عمل کو اپنا ہتھیار بنائے۔
جب نوجوان اپنی خودی کو بیدار کر لیتا ہے تو ناممکن کچھ بھی نہیں رہتا۔ انسان بے بس نہیں رہتا بلکہ اپنے فیصلوں اور اعمال کا خود ذمہ دار بنتا ہے۔
علامہ اقبال نے خودی کے تصور کو جس جامعیت اور گہرائی سے پیش کیا ہے، اردو اور فارسی ادب میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اگرچہ اقبال سے پہلے اور بعد میں بھی کئی مفکرین اور شعرا نے اس موضوع پر گفتگو کی، مگر اقبال کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے خودی کو ایک مکمل فلسفۂ حیات بنا دیا جس میں عمل، جدوجہد اور تخلیق شامل ہیں۔صوفیائے کرام نے معرفتِ نفس یعنی جس نے اپنے نفس کو پہچانا، اس نے رب کو پہچانا، کا درس دیا۔ مولانا روم نے انسانِ کامل کا تصور پیش کیا، مگر اقبال کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اسے محض ایک صوفیانہ اصطلاح کے بجائے ایک مکمل فلسفہِ حیات بنا دیا
مرزا غالب کے ہاں بھی خودی کا ایک منفرد رنگ ملتا ہے، جہاں وہ اپنی انا کو مٹانے کے بجائے اسے برقرار رکھنے کے قائل تھے: بندگی میں بھی وہ آزاد و خود آرا ہیں کہ ہم الٹے پھر آئے درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا
یعنی بندگی میں بھی میری خودداری قائم ہے، اگر منزل کا دروازہ میرے استقبال کے لیے نہ کھلا تو میں وہاں سے لوٹ آنا بہتر سمجھتا ہوں
خودی دراصل اپنی ذات کا عرفان اور وہ احساسِ نفس ہے جو انسان کو اشرف المخلوقات کے منصب پر فائز کرتا ہے۔ یہ رگِ جاں میں دوڑتا ہوا وہ لہو ہے جو انسان کو مرتبۂ عالی عطا کرتا ہے۔
خودی ہے نام رگِ جاں کا، زندگی کا لہو
خودی سے پاتا ہے انسان مرتبہِ عالی
ہمیں چاہیے کہ تقدیر کا رونا رونے کے بجائے خود کو اس قدر بلند کریں کہ ہم اپنی محنت اور اللہ کی رحمت سے مل کر اپنی تقدیر خود بنائیں اور اپنی دنیا آپ پیدا کریں۔ لاالہ الا اللہ کا اصل راز خودی ہے توحید، خودی کی تلوارکو آب دار بناتی ہے اورخودی، توحید کی محافظ ہے۔
خودی کا سرِ نہاں لاالہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لاالہ الا اللہ
Leave a Reply