rki.news
اے خدا نور سے دل میرا منوّر کردے
پاٶں صحرا میں رکھوں اُس کو سمندر کردے
رکھ مسیحاٸی مرے ہاتھ میں دُکھ دور کروں
کر مجھے صبر عطا دل مِرا پتھر کردے
میری ہستی کو بنا دے سببِ خیروکرم
ذہن و دل کو مِرے نیکی کا تو دفتر کردے
میرے دل میں بھی اجالا ہو تری یادوں کا
شعر تجھ پر میں کہوں تُو اُنہیں گھرگھر کردے
نفرتوں کی جو گھٹاٸیں ہيں جہاں پر چھاٸیں
اپنی رحمت سے اُنہیں امن کا پیکر کردے
ایسے قائم ہو خدا کا یہاں پیغامِ دیں
حُکمِ الہٰی کو دل و زہن میں اَزبر کر دے
میرے لفظوں میں ہو سچاٸی کی مہکار ثمر
میرا ہر شعر بصیرت کا کُھلا در کردے
ثمرین ندیم ثمر
Leave a Reply