rki.news
تحریر و تحقیق: اشعر عالم عماد
اردو شاعری کی روایت میں کچھ نام ایسے ہیں جو شور و ہنگامے سے دور رہ کر بھی اپنی تخلیقی شناخت برقرار رکھتے ہیں۔ زین افغان صاحب کا شمار انہی شعرا میں ہوتا ہے جن کی شاعری بنا کسی اعلان کے دلوں میں اترتی ہے اور دیر تک اپنا اثر قائم رکھتی ہے۔ ان کا کلام سلاستِ زبان، فکری سادگی اور داخلی موسیقیت کا حسین امتزاج ہے، جو قاری کو بے ساختہ اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
زین افغان صاحب یکم جنوری 1953 کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ کم عمری ہی میں شعر کہنے کا آغاز کیا، جو رفتہ رفتہ ایک سنجیدہ اور پختہ تخلیقی سفر میں ڈھل گیا۔ معروف شاعر عبید اللہ علیم سے قربت نے ان کے ذوقِ سخن کو جِلا ضرور بخشی، مگر زین افغان نے کسی کے اسلوب کی تقلید کے بجائے اپنی الگ شناخت قائم رکھی۔ ان کے ہاں نہ تو مستعار لہجے کی بازگشت سنائی دیتی ہے اور نہ ہی لفظی کرتب کا غیر ضروری اہتمام، بلکہ ایک صاف، شفاف اور سچا اظہار سامنے آتا ہے۔
زین افغان کی شاعری کا نمایاں وصف اس کی فطری روانی اور سادگی ہے۔ ان کے اشعار قاری پر بوجھ نہیں بنتے بلکہ احساس کی سطح پر بات کرتے ہیں۔ محبت، جدائی، آرزو اور حسرت جیسے روایتی موضوعات کو وہ ایک تازہ داخلی تجربے کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ان کے ہاں عشق نہ شوریدہ پن اختیار کرتا ہے اور نہ ہی محض رومانویت تک محدود رہتا ہے، بلکہ انسانی رشتوں کی نزاکت اور وقار کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔
1975 سے 1990 تک زین افغان باقاعدگی سے مشاعروں میں شریک رہے اور اہلِ ذوق سے داد پاتے رہے۔ تاہم وقت کے ساتھ مشاعروں کے بدلتے ہوئے مزاج اور مجموعی ادبی فضا نے ان کی طبیعت سے ہم آہنگی کھو دی، جس کے باعث انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کر لی۔ یہ کنارہ کشی تخلیقی خاموشی میں تبدیل نہیں ہوئی؛ وہ آج بھی شعر کہتے ہیں، مگر ہجوم سے دور رہ کر۔ یہ رویہ ان کے مزاج کی سنجیدگی اور فن کے ساتھ خلوص کا غماز ہے۔
ان کی شاعری میں صرف ذاتی کرب ہی نہیں بلکہ اجتماعی شعور بھی پوری قوت سے موجود ہے۔ سماجی ناانصافی، الزام تراشی اور تاریخی استعاروں کا استعمال ان کے فکری دائرے کو وسیع کرتا ہے۔ کربلا جیسے عظیم استعارے کو وہ محض ماضی کا واقعہ نہیں بناتے بلکہ اسے عہدِ حاضر کی صورتِ حال سے جوڑ دیتے ہیں، جس سے ان کا کلام ایک گہری معنویت اختیار کر لیتا ہے زین افغان کے اشعار میں داخلی سچائی نمایاں ہے۔ وہ جذبات کو بنا سنوارے، مگر سلیقے کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ان کا کلام وقتی تاثر کے بجائے دیرپا اثر رکھتا ہے۔ ان کی شاعری میں روایت کی پاسداری بھی ہے اور عصری شعور کی جھلک بھی، جو ایک سنجیدہ شاعر کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔
الغرض، زین افغان کی شاعری اردو ادب میں ایک مہذب، سادہ اور فکر انگیز آواز کی نمائندہ ہے۔ وہ ہنگامہ آرائی سے دور رہ کر بھی اپنے عہد کے سوالات کو نظر انداز نہیں کرتے۔ ان کا کلام اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اصل شاعری شور میں نہیں، بلکہ خاموشی میں بھی اپنی مکمل معنویت کے ساتھ زندہ رہتی ہے۔
ان کے کلام سے چند اقتباس پیشِ خدمت ہیں
تلخ یادوں کے سلسلے نہ رہیں
درمیاں اب یہ فاصلے نہ رہیں
ہے مسافت ابھی بہت لمبی
کاش پیروں میں آبلے نہ رہیں
کوئی ایسا کمال ہو جائے
اک دفعہ پھر وصال ہو جائے
ہاتھ میں ہاتھ ہو وہ پھر صاحب
عشق یہ بے مثال ہو جائے
ظلم کی پھر انتہا ہونے کو ہے
اک دفعہ پھر سانحہ ہونے کو ہے
شور ہے چاروں طرف بے انتہا
کربلا پھر اک بپا ہونے کو ہے
جانے کیسے اسے سنبھالا ہے
اس نے گھر کو ہی بیچ ڈالا ہے
ہم پہ تہمت ہے گھر جلانے کی
یہ بھی قصہ بڑا نرالا ہے
Leave a Reply