یہ فرمانِ الٰہی ہے ، عمل سے حل نکلتا ہے
دیے کی لَو سے جس ترکیب سے کاجل نکلتا ہے
نہیں کچھ اتفاق ، آپس میں بے موسم جھگڑتے ہیں
اگر دشمن ہو بیرونی تو باہم مل کے لڑتے ہیں
عدو ان کا تو اکثر ان کو دہشت گرد کہتا ہے
مگر یہ ہیں مجاہد ، قوم کا ہر فرد کہتا ہے
لرزتی ہے یہاں پر روح آ کر حملہ آور کی
یہاں جھکتی ہے گردن ، ظالم و حاکم کی ، قیصر کی
یہاں غاصب بھی آئے اور پسپا ہو کے جب بھاگے
نہ سایہ تک ٹھہر پایا ، پشیماں ہو کے سب بھاگے
یہاں ہوگی لحد ، جیشِ محمد کے مجاہد کی
یا شاید دفن ہیں یادیں یہاں عون و محمد کی
نظارہ نال سے بندوق کی ، ہوتا ہے جنت کا
تو ایسی قوم سے کیا واسطہ ہو خوف و دہشت کا
خدا غالب کرے گا دینِ حکمت ساز پھر اک دن
کرے گا فتح حاصل ، حزبِ سر افراز پھر اک دن
اکٹھا کی حریفوں نے صلیبی فوج اگر اک دن
لکھے گی پھر وہی تاریخ ، قومِ با ظفر اک دن
ہَیوُلے کو بنا کر دشمن اپنا ، قتل کرتے ہیں
جنہیں ہے زعم ہم عادل ہیں نافذ عدل کرتے ہیں
بزمِ خود یہ ظالم قاتلانِ ابنِ مریم ع ہیں
جو بچوں کو انہیں کی ماں کے آگے قتل کرتے ہیں
اُدھَڑنی کھال باقی ہے ابھی تو دم بھی نکلے گا
ابھی رسی جلی ہے ساتھ اسکا خم بھی نکلے گا
نہ یہ ہوگا کہ اسکے خواب بھی آنکھوں میں جل جائیں
وہ اس فردوس سے با دیدہِ پُر نم بھی نکلے گا
صدائیں ، قبلہِ اول سے آتی ہیں مسلمانو
سپاہِ فاتحِ خیبر ہو ، اپنا دین پہچانو
عوض میں مال کے ہرگز نہ اپنی غیرتیں بیچو
یہ پودا حرمتوں کا ہے تو اس کو خون سے سینچو
تمثیلہ لطیف
Leave a Reply