rki.news
25 جنوری کو دوپہر 1 بجے ممبئی سانتاکروز قبرستان میں دفن کیا جائیگا۔ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعون
طاہر فرازؔ کی رحلت اردو شاعری کے ایک باوقار، سادہ اور اثر آفریں لہجے کی خاموشی ہے۔
ان کا شعر دکھ، انا، وقت اور انسانی احساسات کو نہایت شفاف انداز میں بیان کرتا ہے۔
وہ کم کہتے تھے مگر دل تک بات پہنچا دیتے تھے۔
ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور اہلِ خانہ و چاہنے والوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آمین۔
گوشے بدل بدل کے ہر ایک رات کاٹ دی
کچے مکاں میں اب کے بھی برسات کاٹ دی
وہ سر بھی کاٹ دیتا تو ہوتا نہ کچھ ملال
افسوس یہ ہے اُس نے میری بات کاٹ دی
حالانکہ ہم ملے تھے بڑی مدّتوں کے بعد
اوقات کی کمی نے ملاقات کاٹ دی
جب بھی ہمیں چراغ میسّر نہ آسکا
سورج کے ذکر سے شبِ ظلمات کاٹ دی
دل بھی لہو لہان ہے، آنکھیں بھی ہیں اُداس
شاید اَنا نے شہ رگِ جذبات کاٹ دی
جادوگری کا کھیل ادھورا ہی رہ گیا
درویش نے شبیہ طلسمات کاٹ دی
ٹھنڈی ہوائیں، مہکی فضا، نرم چاندنی
شب تو بس اک تھی، جو تیرے ساتھ کاٹ دی
Leave a Reply