وہ اجنبی تھا لیکن ، وہ بے خبر نہیں تھا
جو شریک تھا سفر میں ، میرا ہم سفر نہیں تھا
میرے ساتھ بھی وہ رہ کے، میرے دل میں وہ نہیں تھا
میری نظر میں تھا وہ ، نور نظر نہیں تھا
قدموں میں میرے دنیا ، رکھنے کا تھا ارادہ
سب سے وہ چھین لیتا، اتنا جگر نہیں تھا
خوشبو ، ہوا اور بادل، وہ گاؤں کے نظارے
ہم نے نہ مڑ کے دیکھا، تو جو ادھر نہیں تھا
فرزانہ دیکھو اس کو، روتا ہے خالی گھر میں
لگی بد دعا وہ اس کو ، جس میں اثر نہیں تھا
فرزانہ صفدر ۔ ٹورنٹو
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 15857
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 15857 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 15857
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply