بشر وہ ہے کہ جس پر آدمیّت رشک کرتی ہے
عقیدہ رشک کرتا ہے عقیدت رشک کرتی ہے
بتائیں کیا فرشتو ! ہم تمہیں خود اپنے بارے میں
شریعت اور رسالت پر نبوّت رشک کرتی ہے
ہمیں نے علم و عرفاں کی بدولت عزتیں پائیں
ہمی انسان ہیں وہ ، جن پر رفعت رشک کرتی ہے
سنا ہے حشر میں انصاف ، منصف کرنے والا ہے
وہ عادل ہے کہ جس پر قدر و قدرت رشک کرتی ہے
تمھاری شاعری میں ذائقہ تو شہد جیسا ہے
بصیرت اور بصارت پر ، سماعت رشک کرتی ہے
وفا ایسی نبھائی ہم نے تمثیلہ کہ اب ہم پر
وجاہت رشک کرتی ہے ، جسارت رشک کرتی ہے
شاعرہ تمثیلہ لطیف
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 16465
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 16465 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 16465
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply