اُس نے خط کا جواب بھیجا ہے
اور لفافے میں پھول رکھا ہے
اُسکے بارے میں جب بھی سوچا ہے
دل عجب مرحلے سے گزرا ہے
اپنے اشعار کو لہو دے کر
میں نے جذبوں سے ان کو سینچا ہے
کیا ضرورت ہے مجھ کو مرنے کی
زندگی نے مجھے پکارا ہے
ایک وحشت ہے میری مٹھی میں
دل کو آوارگی نے کھینچا ہے
تیری دنیا تجھے مبارک ہو
میں نے اک شخص ہی تو مانگا ہے
آج تمثیلہ وہ چلا آیا
آج سورج کدھر سے نکلا ہے
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 18321
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Categories| Ad | wp_the_query |
|---|
| 8,21,3 | post_id: 18321 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Leave a Reply