شفق گوں ، آپ کا چہرہ بہت ہے
یہ رنگ اک شوخ پر جچتا بہت ہے
خبر تھی آپ نے آنا نہیں تھا
مگر کیوں راستہ دیکھا بہت ہے
دکھائی دی جھلک اک آپ کی آج
سو پیاسے کو تو اک قطرہ بہت ہے
میں کہتی ہوں کہ آج آفس نہ جائیں
اگر بارش کا اندیشہ بہت ہے
بڑی خوش رنگ ، نازک چوڑیاں ہیں
چلو ، فی الحال یہ تحفہ بہت ہے
نہ جانے ، کس تعلق سے ہو باتیں
کہ لہجہ اب کے سنجیدہ بہت ہے
خدایا ! راحتوں کی ہے گزارش
پریشاں حال تمثیلہ بہت ہے
تمثیلہ لطیف
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 18621
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Categories| Ad | wp_the_query |
|---|
| 8,21,3 | post_id: 18621 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Leave a Reply