تجھ سے جب عشق والہانہ ہے
دل میں تیرے ، مرا ٹھکانہ ہے
دھوپ اترنے لگی منڈیروں سے
اب پرندوں نے لَوٹ آنا ہے
نفرتوں کے لباس اتار رکھو
شہرِ الفت اگر بسانا ہے
پھر سے چاہت پنپ رہی دل میں
پھر سے شاید فریب کھانا ہے
وقتِ رُخصت وہ لاکھ ہنس کے ملے
لیکن آنکھوں نے بھیگ جانا ہے
تھک چکے جسم و روح ، تمثیلہ
اور کب تک یہ بوجھ اٹھانا ہے
تمثیلہ لطیف
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 19455
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 19455 is_singular: 1 |
Categories| Ad | wp_the_query |
|---|
| 19 | post_id: 19455 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Leave a Reply