وُہ جِس گھڑی تیری آنکھوں کو دید ہوتی ہے
تو ایک لمحے میں پِھر دِل کی عید ہوتی ہے
جو آبرُو کو بچاتے ہوئے مَرے عورت
کہو نہ مُردہ اُسے، وُہ شہید ہوتی ہے
ادب کرو گے، تُمہیں بھی ادب مِلے گا یہاں
کِسی کِسی کی نصیحت مُفید ہوتی ہے
تُمہیں نہ کوئی بھی دیکھے، کہ صِرف مَیں دیکُھوں
کبھی کبھی یہی خواہش شدید ہوتی ہے
وفا کرے کوئی شوہر جو اپنی بیوی سے
تو ایسے مرد کی بیوی مُرید ہوتی ہے
دُعائیں ماں کی ہمیشہ یہاں جو لیتا ہے
تو پِھر اُسی کی ترقی مزید ہوتی ہے
لبّوں سے کچھ نہ کہو، کچھ نہ تُم کہو ساتھی
بس آج آنکھوں سے گُفت و شُنید ہوتی ہے
حُسینؓ کی جو بُھلا دے یہاں پہ قُربانی
وُہ قوم، قوم نہیں، وُہ یزید ہوتی ہے
کرے بھروسہ جو مایُوسیوں میں مولا پر
اُسی کے واسطے خانمؔ اُمید ہوتی ہے
فریدہ خانم ، لاہور .
Leave a Reply