Today ePaper
Rahbar e Kisan International

غزل

Poetry - سُخن ریزے , / Thursday, January 23rd, 2025

سب دکھاوا ہے اور ہے مایا
تیری پلٹے گی ایک دن کایا

پیسہ آیا ، مگر تجھے افسوس
بات کرنے کا ڈھنگ کب آیا؟

کیوں نہ تجھ پر عذاب نازل ہو
زندگی بھر حرام ہی کھایا

حشر میں یہ حساب دینا ہے
کتنا کھویا تھا اور کیا پایا

بنتِ حوا کا شکوہ جائز ہے
ابنِ آدم نے اس کو تڑپایا

صبر کا جام پی لیا میں نے
قہر پر قہر تو نے کیوں ڈھایا

سوز تمثیلہ اس قدر کیوں ہے؟
شعلہ کیسا ہے تو نے بھڑکایا

شاعرہ تمثیلہ لطیف


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

Active Visitors

Flag Counter

© 2025
Rahbar International