یزید ! قصد نہ کر مجھ کو آزمانے کا
رگوں میں خون ہےحسنینؑ کے گھرانے کا
قسم خدا کی پرندے بھی ہم سے بہتر ہیں
کبھی کریں نہ ذخیرہ جو آب و دانے کا
جو میرے خواب کی تعبیر تھا سراب ہوا
یہی ہے حاصلِ مطلب ، مرے فسانے کا
ہمارے نین نشیلے ، کی بات کرتے ہو
تو کیا پتہ نہ تھا پہلے ، شراب خانے کا
کسی کے ساتھ کے ہم ایسے ہوگئے عادی
تھا کرب ناک تصور بھی دور جانے کا
مہک رہے ہیں درو بام اسکی باتوں سے
بلند بخت ہے میرے غریب خانے کا
وہ میرے صحن کے گوشے میں ہی ہے تمثیلہ
ہوائیں مجھ کو پتہ دے گئیں ٹھکانے کا
شاعرہ تمثیلہ لطیف
Leave a Reply