Today ePaper
Rahbar e Kisan International

غزل

Poetry - سُخن ریزے , / Sunday, February 16th, 2025

جو اک ناداں کو ، دانا بولتا ہے
ہے مجھ پر جِن کا سایہ ، بولتا ہے

اُسے جب داستانِ غم کہوں تو
‘ مقدر کا ہے لکّھا ‘ بولتا ہے

اسے درخواست ملنے کی کروں تو
‘میں دریا ہوں ، تو صحرا ‘ بولتا ہے

زمانے ، زرد رُت کے آگئے ہیں
شجر کا ٹُوٹا پتہ بولتا ہے

ہے میرا عکس بھی اب کرچی کرچی
یہ آئینہ شکستہ بولتا ہے

کہاں ہے ہم قدم تیرا ، مسافر !
تری بستی کا رستہ بولتا ہے

کھلونے ، دسترس سے دور کیوں ہیں
کسی مفلس کا بیٹا بولتا ہے

*شاعرہ تمثیلہ لطیف


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

روزنامہ رہبر کسان

At 'Your World in Words,' we share stories from all over the world to make friends, spread good news, and help everyone understand each other better.

© 2026
Rahbar International