rki.news
شناسا ہے میرا ، نہ غم آشنا ہے
تو پھر قبر پر اِیسے کیوں رو رہا ہے
کسی کی رسائی نہیں میرے گھر تک
یہ کیوں پھر دیا ، راہ پر رکھ گیا ہے
جو عنوان ہے ، رزمیہ شاعری کا
وہ خیبر شکن ہے ، وہ شیرِ خدا ہے
سمجھنے لگی ہوں میں الفاظ اس کے
نظر کی زباں سے جو کچھ بولتا ہے
وہ بچھڑا ہے جب سے تو لگتا ہے ایسے
کہ جیسے مرا کچھ ، کہیں کھو چکا ہے
اگر مان جائے تو اس سے یہ پوچھوں
وہ کس بات پر آخر اتنا خفا ہے
ہیں تمثیلہ ، کیوں ذہن و دل منتشر یوں
یہ کیا کر رہی ہو ، یہ کیا ہو رہا ہے
تمثیلہ لطیف
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 46796
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 46796 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 46796
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply