درد کابوجھ ترے شہر سے لائے ہوئے لوگ
اب کہاں جائیں یہ زخموں کوسجائے ہوئے لوگ
ہیں یہی جن سے سلامت ہے محبت کاوجود
پھول پتھرمیں وفاﺅں کے کھلائے ہوئے لوگ
ہیں اس آسیب کے ہر روپ سے انجان ابھی
یہ جو ہیں عشق حقیقت کوبھلائے ہوئے لوگ
کون کہتا ہے کہ زندہ ہیں بظاہر زندہ
روح کا بوجھ بدن میں ہی اٹھائے ہوئے لوگ
بنتے جاتے ہیں یہ تصویر گئے وقتوں کی
ہجرکے روگ کوسینے سے لگائے ہوئے لوگ
وہ جو کٹیا تھی جہاں عشق بسیرا تھا کبھی
وحشتوں کے ہیں وہاں اب تو ستایے ہوئے لوگ
ہیں یہی جن سے سلامت ہے محبت کاوجود
پھول پتھرمیں وفاﺅں کے کھلائے ہوئے لوگ
حال پوچھونہ کبھی بچھڑے دلوں کاشاہیں
اپنے لاشوں کوہیں شانوں پہ اٹھائے ہوئے لوگ
ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ
ڈیرہ غازی خان پنجاب پاکستان
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 7652
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 7652 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 7652
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply