روشنی ڈھونڈنے آئی ہے تہِ آب مجھے
اب کہیں اور چھپائے گا یہ تالاب مجھے
عمر بھر اس کی رفاقت سے بہت دور رہی
عشق کے آتے نہیں ٹھیک سے اداب مجھے
جانِ جاں وقت نکلتا ہے تو آ پاس مرے
کیا کروں میں کہ ستاتے ہیں ترے خواب مجھے
اب ترا ہجر چبائے گا کلیجہ یہ مرا
اب مرے دوست سمجھتے ہیں شفایاب مجھے
سانپ بن کر مجھے ڈستے ہیں تری یاد کے پل
نام لے کر ترا ملتے ہیں جب احباب مجھے
رات بھر میں کے تھکن اوڑ کے سوتی ہوں فقط
دیکھتے رہتے ہیں تھک ہار کے اعصاب مجھے
مجھ کو تمثیلہ جدائی نے یوں گھیرا ہے یہاں
اب دکھائی نہیں دیتا ہے کوئی باب مجھے
شاعرہ تمثیلہ لطیف
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 11681
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:04 am (51053)
Placement: After Content (51146)
Display Conditions
specific pages| Ad | wp_the_query |
|---|
| post_id: 11681 is_singular: 1 |
Find solutions in the manual
Ad debug output
The ad is not displayed on the page
current post: غزل, ID: 11681
Ad: Ad created on April 11, 2026 1:17 am (51056)
Placement: AfterContent (51054)
Display Conditions
Find solutions in the manual
Leave a Reply